جبری گمشدگیاں

بلوچستان میں 2002 کو ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن (جو ہنوز جاری ہے) میں ہزاروں بلوچ فرزندوں کو قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طورپر حراست میں لیکر اپنے ٹارچر سیلوں میں قید کر کے لاپتہ کردیا ہے۔ لاپتہ بلوچوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 30,000 سے تجاوز کرچکی ہے اور ایسے افراد جنہیں ریاستی عسکری اداروں کے اہلکار اغوا کرتے ہیں اکثر بے دردی سے قتل کردیئے جاتے ہیں اور ان کی نعشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے وقتاََ فوقتاََ برآمد ہوتی رہتی ہیں۔ بلوچ لاپتہ افراد کے معاملے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تحفظات لاحق ہیں۔

Back to top button