بی ایس او آزاد کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا کینیڈاکی جمہوری روایات کی توہین ہوگی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بی ایس او آزاد کے مرکزی ترجمان نے کینڈین رفیوجی ڈویژن اور کینڈین بارڈر سروسز ایجنسی کے پاکستانی میڈیا اور اسکی حکمرانوں کی بی ایس او آزاد کے متعلق یکطرفہ موقف کو مدنظر رکھ کر تنظیم کے ممبرز اور رہنماؤں کی کینیڈا میں پناہ کے کیسز کی سماعت کو ملتوی کرنے کے ردعمل میں کہا کہ پاکستان خوددنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کا زمہ دار ملک ہے، پاکستان کے حکمرانوں کی منفی پروپگنڈوں کو بنیاد بنا کر بی ایس او آزاد کی سرگرمیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا کینیڈا جیسی زمہ دار ملک کے جمہوری روایات کی توہین ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک غیرجمہوری ملک ہے، ریاستی جبر کے خلاف بولنے والے پرامن تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیکر ریاست ان پر پابندیاں عائد کردیتا ہے۔ بی ایس او آزاد جیسی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والی تنظیم کی سرگرمیوں پر بھی ریاست نے پابندی عائد کردی ہے، ترجمان نے کہا کہ فورسز نے بی ایس او آزاد کے ایک سو سے زائد پرامن کارکنوں اور رہنماؤں کو اغواء کے بعد اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کردیا ہے۔ سینکڑوں کارکن اور لیڈران اب بھی فورسز کی خفیہ ٹارچر سیلوں میں بند ہیں۔ ریاستی بربریت سے بچنے کے لئے تنظیم کے سینکڑوں کارکنان اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ریاستی جبر کے شکار بی ایس او آزاد کے کارکنوں کی حفاظت جمہوری ممالک کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خود اسامہ، ملا عمر، ملا اختر منصور سمیت عالمی دہشتگردوں کو پناہ دیتا رہا ہے، اب بھی کئی مطلوب دہشتگرد پاکستان میں آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں فورسز کی پراکسی گروہیں مذہب کے نام پر آزادی پسند سیاسی کارکنان کو چھن چھن کر قتل کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں انسانی قتل عام کا زمہ دار بھی پاکستان فوج ہے، اس کے باوجود پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ افیسران کینیڈا میں آرمی ایسوسی ایشن کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں۔ اس ایسوسی ایشن کی جانب سے کینیڈا میں مقیم بلوچوں کو کئی مرتبہ دھمکایا گیا ہے، حال ہی میں کینیڈا میں مقیم تنظیم کے رہنماء لطیف جوہر بلوچ کو ایک کیمپئن کے دوران پاکستانی شخص نے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی جس کے بعد اسے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ وہ ملک جو خود دنیا بھر میں دہشتگردی پھیلانے کا بڑی حدتک زمہ دار ہے اُس کے حکمرانوں کو یہ حق نہیں دینا چاہیے کہ وہ بی ایس او آزاد کی رہنماؤں کے خلاف غلط بیانی کریں۔غیرقانونی قبضے کے خلاف ہماری پرامن جدوجہد عالمی قوانین کے مطابق ہے، سیاسی کارکنوں کے ساتھ تمام تر غیرانسانی سلوک کے باوجود بی ایس او آزاد پرامن جدوجہد کررہی ہے۔ ترجمان نے کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ندیم کیانی کی پاکستانی میڈیا کی آزادی کے دعوؤں اور بانک کریمہ بلوچ کو 2016کی بااثر تریں خواتین کی فہرست میں ڈالنے پر بی بی سی پر گمراہ ہونے کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا بلوچستان کی صورت حال کو چھپانے کی حتی الوسع کوششیں کررہی ہے، پاکستان اب بھی دنیا میں صحافیوں کے لئے چوتھا خطرناک ترین ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ صرف بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ ہے بلکہ غیرملکی صحافیوں کی بلوچستان میں داخلے پر بھی پابندی عائد ہے۔ میڈیا پر پابندی کی مثال ارشاد مستوئی، منیرشاکر، رزاق گل، حاجی رزاق جیسے صحافیوں کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں قتل اور بلوچستان پر رپورٹنگ کرنے والی غیرملکی صحافی ڈیکلین والش پر پابندی ہے۔ بی ایس او آزاد کینڈا سمیت دنیا کی تمام جمہوری ممالک سے درخواست کرتی ہیکہ کہ وہ بلوچستان کو جنگ زدہ خطہ قرار دیکر بلوچستان میں زبردستی تعلیمی اداروں سے نکالے جانے والے طلبہ کیلئے اپنی دروازے کھولیں اور وہاں موجود بلوچ پناہ گزینوں کو اپنی ممالک میں پناہ دیکر انکی زندگیوں کو ریاست کی بربریت سے محفوظ کرنے میں اپنا جمہوری فرض ادا کریں۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close