فورسز انسانی حقوق کے قوانین سے خود کو بالاتر تصور کرتے ہیں۔ بی ایچ آر او

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں فورسز کے اہلکار انسانی حقوق کے قوانین کے احترام سے خود کو بالا تر تصور کرتے ہیں۔ سماجی کارکنوں، اسکول ٹیچرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے دیہی و شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ فورسز کے رویوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں تمپ کے علاقے پھل آباد کے رہائشی سکول ٹیچر ماسٹر نور احمد کو فورسز نے تربت سے اپنے گھر جاتے ہوئے راستے میں گاڑی سے اُتار کرگرفتار کرلیا۔ جس کے بارے میں تاحال کسی کو کچھ نہیں بتایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ 26جولائی کو کراچی سے سماجی اور ادبی کارکن واحد بلوچ کو بھی نامعلوم گاڑی سواروں نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔ اسی طرح کی ایک اور کاروائی میں گزشتہ روز آواران سے دو اور مشکے سے بھی دو نوجوان فورسز نے گھروں سے حراست میں لے کر لاپتہ کردئیے۔ لوگوں کو حراست کے بعد لاپتہ رکھنے اور سالوں و مہینوں انہیں خفیہ اذیت گاہوں میں تشدد کا نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ بلوچستان میں فورسز خود ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کرکے گرفتار لوگوں کو عدالتوں میں پیش ہونے کے حق سے محروم کررہے ہیں۔ بی ایچ آر او کے ترجمان نے اپیل کی کہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والا کوئی شخص بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو اسے غیر انسانی طریقے سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بجائے ریاستی قوانین کے مطابق اس پر مقدمہ قائم کیا جائے۔ تاکہ ہزاروں خاندانوں کی پریشانیوں کو کم کیا جا سکے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close