بانک کریمہ کے ماما کی جبری گمشدگی پر تشویش ہے۔ بی ایس اوآزاد

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے کیچ سے بی ایس او آزاد کے مرکزی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ کے ماما کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض ریاست و اس کے ادارے پچھلے کئی عرصوں سے بلوچ قومی سیاست میں بر سر پیکار سیاسی رہنماؤں کے خاندان کے افرادو رشتہ داروں کو جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کررہے ہیں ۔ماسٹر نور احمد بلوچ بوائز ہائی سکول پھل آباد تمپ میں ایک ٹیچر ہیں جنہیں فورسز نے تربت سے تمپ آتے ہوئے گنھہ چیک پوسٹ میں گاڈی سے اتار کر اغواء کرلیا۔اس سے قبل بھی تمپ میں بانک کریمہ بلوچ کے کزن عمران بلوچ کو فورسز نے اغواء کیا تو جو دو ماہ سے زیاد ہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ ہیں۔فورسز سیاسی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کے لئے ان کے گھروں کو جلانے اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچانے کی پالیسی پر عمل پھیرا ہے جس کے نتیجے میں بی ایس او آزاد کے وائس چیئرمین کمال بلوچ، شہید ڈاکٹر منان بلوچ سمیت کئی مرکزی و زونل سیاسی لیڈران کے خاندان کے افراد و رشتہ داروں کو فورسز اٹھا کرلاپتہ کرچکا ہے۔ جن میں متعدد مغویان کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔بی ایس او آزاد نے کہا کہ بلوچستان میں قابض فورسز کی جانب سے سیاسی رہنماؤں و نہتے بلوچ عوام گھروں کو جلانا اور وہاں پرموجود لوگوں اغواء کرنا اب روز کا معمول بن چکا ہے ۔ آواران ،مشکے ،سوئی و مکران کے کئی علاقوں میں جاری حالیہ آپریشن کے دوران متعدد نہتے بلوچ فرزندان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیاگیا ۔گذشتہ دن آواران کے علاقے جھکرو کو گھیرے میں لیکر فورسز نے آپریشن کا آغاز کردیا دوران آپریشن گھروں میں موجود خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور حسبِ روایت گھروں کے قیمتی سامان اپنے ساتھ لے گئے ۔آپریشن کے دوران فورسز نے نور بخش ولد خان جان اور نصیر ولد عید محمد اور محمد شریف کو اغواء کرلیا۔ ترجمان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں و مہذب ممالک سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کی ریاستی پالیسیوں نوٹس لے کر اپنی ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close