پاکستانی فوج سوئی میں عام آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ شیر محمد بگٹی

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ترجمان شیرمحمد بگٹی نے اپنے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سوئی کے مختلف علاقوں میں تازہ کاروائیوں کا آغاز کیا ہے جس میں سول آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انھیں زبردستی علاقہ خالی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز شروع ہونے والی کاروائیوں کے دوران سوئی کے مختلف علاقوں شاری دربار، مٹ، رستم دربار، دلبرمٹ، سوناری مٹ، سہری پشتغ اور گنڈوئی میں آبادی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور گھروں میں لوٹ مار کے بعد انہیں نذر آتش کیا جارہا ہے۔ لوگوں کو علاقہ خالی کرکے نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے اور انکار کی صورت میں عورتوں اور بچوں سمیت پورے خاندانوں کو اغواہ کرکے جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔ اغواہ ہونے والے خاندانوں میں گل محمد بگٹی کا خاندان بھی شامل ہے جس میں انکی زوجہ گل بی بی اور ایک سال کی بچی زیبہ بنت گل محمد بگٹی بھی شامل ہیں۔ شیرمحمد بگٹی نے بتایا کہ علاقے خالی کرنے کی وجہ ان علاقوں میں موجود گیس کی ذخائر کی لوٹ مار کیلئے چینی کمپنیوں کو لاکر ڈیپ ولنگ کرنا ہے۔ اسی طرح ریاستی فورسز علاقے میں قدرتی وسائل کی لوٹ مار کو یقینی بنانے کیلئے اپنے چھاونیوں اور کیمپوں کی تعمیر اور ان کو وسعت دینے میں بھی مصروف ہیں۔ انھوں نے پاکستانی فورسز، کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ قوم بزور طاقت اپنے وسائل کے لوٹ مار کو ہرگز قبول نہیں کرےگی اور معصوم بلوچ آبادی کے خلاف کاروائی کرکے انہیں دربدر کرنے اور ان کے خلاف مظالم کے پہاڑ توڑ کر ریاست اپنے مزموم عزائم میں کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ریاستی فورسز کی جانب سے کیچ کے علاقے دشت اور گردونواح میں گزشتہ کئی روز سے آپریشن جاری ہے جس میں اب تک طالبعلموں ، نوجوانوں اور بزرگوں سمیت تیس افراد کو اغواہ کرنے کے بعد لاپتہ کیا جاچکا ہے جبکہ کاروائیوں کا سلسہ اب بھی جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے بلوچ قوم کے خلاف پاکستانی جنگی جرائم اور اس میں چین کی شراکت داری کو بے نقاب کرتے رہیں گے اور ان سے بین الاقوامی برادری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری ریاستی دہشتگردی کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ سیاسی کارکنان کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کارکنان کے گھروں پر حملے، اہل خانہ کو ہراساں کرنا اور دھمکیاں دینا، کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور ماورائے قانون حراست اور دوران حراست انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانا اور انھیں شہید کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ شیرمحمد بگٹی نے کہا کہ 3 دسمبر کو ریاستی فورسز نے بی آر پی کراچی کے ڈپٹی آرگنائزر فیض بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر میں چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو حراساں کیا۔ چھاپے کے دوران فیض بلوچ گھر پر موجود نہیں تھا تو اس کے چچا کو ریاستی فورسز نے اغواہ کیا اور دو دن شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کردیا۔ فیض بلوچ کے اہل خانہ کو لگاتار دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اس کو ریاستی فورسز کے حوالے کیا جائے ورنہ تمام خاندان کو اٹھاکر غائب کردیا جائے گا اور ہزاروں کارکنان کی طرح دوران حراست تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی دھکمیاں بھی دی جارہی ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close