سیاسی کارکنوں کو تشدد کے ذریعے خاموش کرنے کی ریاستی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی، چیئرپرسن کریمہ بلوچ

کینیڈا (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی چیئرپرسن بانک کریمہ بلوچ نے اپنے گھر پر فورسز کی چھاپے اور اہلخانہ کو حراساں کرنے کے ردعمل میں کہا کہ ریاستی فورسز پرامن جدوجہد سے دستبردار کرنے کے لئے سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کو حراساں کرنے کی منفی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ گزشتہ چند وقتوں سے یہ ہتھکنڈہ باقاعدہ طور پر آزمایا جارہا ہے، سیاسی کارکنوں کے خاندان کے افراد کو حراساں کرنا، گھروں کو جلانا، انہیں اغواء کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں بھی اسی پالیسی کے تحت پھینکی جاچکی ہیں۔ کریمہ بلوچ نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران دوسری بار فورسز کا انکے گھر پر چھاپے کا مقصد انہیں پرامن جدوجہد سے دستبردار کرنا ہے، جو کہ ایک لاحاصل کوشش ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے آزمودہ ہتھکنڈے جس طرح اس سے پہلے ناکام ہوچکے ہیں، آئندہ بھی اسی طرح ناکامی سے دوچار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کو طاقت کے زور پر خاموش کرنے کی پالیسی کو عملاََ ناکام ہوتا دیکھ کر فورسز بلوچ عوام کے خلاف وحشیانہ تشدد پر اتر آئے ہیں۔ آئے روز نہتے لوگوں ، بزرگوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔کریمہ بلوچ نے سیاسی کارکنوں پر تشدد، ان کے خاندانوں کو ذہنی طور پر حراساں کرنے کی جارحانہ پالیسیوں پر خاموشی پر عالمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے بلوچستان کی سنگین صورت حال پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں، حالانکہ اس طرح کی صورت حال سے محکوم بلوچ قوم کو نکالنے کے لئے مہذب ممالک اور عالمی اداروں کی مداخلت ناگزیر بن چکی ہے۔ اپنی اخلاقی زمہ داریوں سے روگردانی کرکے زمہ دار ممالک پاکستانی فورسز کو یہ اجازت فراہم کررہے ہیں کہ وہ بلوچ عوام کا خاموش قتل عام اسی طرح برقرار رکھیں۔ بی ایس او آزاد کی چیئرپرسن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے کارکنوں، طلباء و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر انسانی جبر و تشدد کا شکار بننے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف کے عالمی ادارے اپنا فرض ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close