انسان اپنے پیدائش کے وقت آزاد پیدا ہوتا ہے

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون)انسان تخلقی طور پر آزاد اور بغیر کسی مذہب اور زات پات کا پیدا ہوتا ہے۔پیدا ہونے کے بعد ہمارے بڑے اور ہمارا معاشرہ ہمیں زات پات مذہب اونچ نیچ اور ایک دوسرے کے اندر بعید باہو سیکھاتا ہے۔کیا صحیح کیا غلط ہے یہ سب ہم معاشرہ اور اپنے آس پاس سے سیکھتے ہیں۔ غلامی اور آزادی بھی ہم اپنے معاشرے سے سیکھتے ہیں نہ کہ طبقہ فکر سے سیکھتے ہیں بلکہ ہم اپنے گھر سے سیکھتے ہیں مثال کے طور پر جب ہم اپنے سے چھوٹےکو کسی کام کا ایک سے زیادہ مرتبہ بولتے ہیں تو ہمیں یہی جواب ملتا ہے کہ میں آپ کا غلام تو نہیں ہوں کہ بار بار مجھے ہی بول رہے ہو ۔ یہ سب ہم اپنے بچپن یا پھر اپنے جوانی میں سنتے آرہے ہیں انسان فطری طور پر غلام نہیں ہوتا اُس کو بعد میں طاقت ور غلام بناتا ہے وہ اپنے طاقت کے نشےمیں کمزور کو ڈرا دھمکا کر کسی نہ کسی طرح اُس کو آخری دم تک غلام رکھنے کی کو شش کرے گا چاہے اُس کی جان ہی کیوں چلا نہ جائے ۔چاہے وہ ایک فرد یا کوئی قوم جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مزاحمت انسان کہ اوپر فرض بنتا ہے کہ وہ اُس طاقت ور کے خلاف جہاد کرےاور اپنے آزادی اور حق کی خاطر شہید ہو جائے اور ویسے بھی اگر وہ مزاحمت نہ کرے تو طاقتور اُس کو اپنے مفادات کے خاطر اُس قوم یا پھر واحد انسان کو مار کر اپنے مفاد کو پورا کرے گا ۔تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اُس کو مار کر ایک مثال بن جائے اور اپنے خاطر اپنے آس پاس کے لوگوں کو اُس ظالم کے بارے میں آگاہ کرےکہ یہ ظلم آج مجھ پر ہوا کل آپ کی باری ہوگی ۔اس سے پہلے کہ وہ آپ پر پہنچتامیں نے اسے ہی ختم کیا ہے ۔یہ تو ایک فرد کی بات تھی ۔
اگر کوئی قوم دوسرے قوم کو یا پھر ایک ملک دوسرے ملک کے اوپر اپنا قبضہ یا طاقت کا مظارا کرتا ہے تو وہ ہر چیز پر قبضہ کرتا ہے۔اس سرزمین کے وسائل سے لے کر ہتہ  کہ اُس سرزمین کے رہنے والے باشندوں کے دل و دماغ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اگر وہ نہ مانے تو ان کی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
دنیا میں بہت سی قومیں آزادی کی جنگیں لڑ ی گئی ہیں مثلاً تبت چین کے خلاف،بلوچ قوم پاکستان کے خلاف اور بھی ایسے قومیں ہوں گی جو اپنے آزادی کے حق کی خاطر طاقت ور کے خلاف میدان جنگ ہو سیاسی جدوجہد ہر کوئی اپنے میدان میں دشمن کے خلاف نمر آزما ہیں۔
اگر میں بات بلوچ قوم کی کروں تو تحریک آزادی پچھلے ۱۵ سالوں سے شہید اعظم نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد زور و شور سے جاری ہے۔پچھلے تحریکوں سے اس بار بلوچ قوم کی یہ تحریک زرا ہٹ کر ہے اس میں بلوچ قوم کی شہید نواب بگٹی،شہید بالاچ  مری ، شہید غلام محمد جیسے بڑے بڑے ہستیوں کا خون شامل ہے اور بلوچستان میں ایسا کوئی گھر شاہد ہی ہوگا جس نے قومی جہد میں شہادت نہ دی ہو ۔اس تحریک میں بلوچ بہنوں کی خون بھی شامل ہے جو ہر لمحہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اور شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ چاہے وہ سیاسی جدوجہد ہو یا پھر مسلح معاز۔لیکن ہمارے بہنیں کچھ حد آگے بھڑی ہیں۔
لیکن جس طرح کرد بہنیں اپنے تحریک میں بڑھ چھڑ کر حصہ لے رہی ہیں وہ قابل تعریف ہے وہ ہر معاز پر اپنے کرد بھائیوں کے ساتھ باقاعدہ گوریلا جنگ لڑ رہی ہیں ان کا اپنا کمانڈ اینڈ چیف اور اپنا ہی کیمپ ہوتا اس کے نسبت ہماری بہنیں بہت پیچھے ہیں۔یا پھر معاشرے کا فرق ہے۔ہمارے اور کردوں کا جنگ بھی ایک جیسا ہے ہم ایک جیسے دشمن کے خلاف جنگیں لڑ رہے ہیں وہ ہے قبضہ گیر پھر کیا وجہ ہےکہ ہماری خواتین کو معاز پر اجازت نہیں دی جاتی ۔یہ ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہے؟
بلوچ قوم کی حالیہ تحریک نے دنیا میں وہ جگہ بنائی ہے شاہد اس سے پہلے کبھی نہیں بنائی ہوگی پہلے کی تحریک بلوچستان یا افغانستان تک تھی۔اس کی بار اقوام متحدہ کی دفتر میں بلوچ کی آواز پہنچ گی ہے۔ آواز کاپہنچنا ایک بات ہے لیکن دوسری بات یہ کہ ہمیں اور کام اور محنت کی ضرورت ہے جیسے کردوں کو دنیا کی کمک مل رہی ہے ہمیں بھی چاہئےکہ ہم دنیا سے آزادی کی خاطر کمک لے۔اور ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں کہ بلوچستان کی آزادی دنیا بھر میں امن پیدا کرنے کی ایک نوید کی کرن ثابت ہوگی۔جس طرح پاکستان دنیا کے لیے ایک کینسر بن چکا ہے تو ہم اس کینسر کا علاج ہیں ۔اور یہ تبھی ممکن ہوسکتا جب ہم ایک جُھٹ ہوکر لڑیں۔
ہمیں اپنی چھوٹی سوچوں سے نکل کر قوم کو ایک متحد پلیٹ فارم دینا چاہیے تاکہ دنیا بلوچ قوم کو غلامی کے اندھیروں سے نکال سکے اس کا آسان زدیعہ ہے کہ ہم اپنی اپنی چھوٹی سوچوں سے نکل کر ایک اجتماعی سوچ اپنائے۔فلسطینیوں کی طرح یا پھر تبت کے بقشندوں  اور کردوں کی طرح۔آزادی ہمارا مقدر ہے جو آج نہیں تو کل ہمیں ضرور ملے گی۔

تحریر:حمل بلوچ

مزید خبریں اسی بارے میں

Close