ڈاکٹر اللہ نزر کی اہلیہ, گھر کےخواتین و بچوں کا فوج کے ہاتھوں اغوا ریاستی بھوکلاہٹ ہے، میر جاوید مینگل

لندن (ریپبلکن نیوز) ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کے آرگنائزر میر جاوید مینگل نے اپنے جارہی کردہ بیان میں بلوچ رہنما ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ کے فیمیلی سمیت دیگر خواتین و بچوں کی کوئٹہ سے آئی ایس آئی کے ہاتھوں اغوا اور نامعلوم مقام منتقلی کو پاکستانی فوج کی بوکھلائٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہیکہ خواتین و بچوں کو اغوا کرکے ریاست بلوچ قوم کو اس بندش سے آزاد کررہی ہے کہ وہ بھی دشمن سے وہ سلوک کریں جو وہ بلوچ قوم کے  ساتھ روا رکھا ہوا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ فوج نے خواتین کو اغوا کئے ہیں اس سے قبل کراچی میں براہمداغ بگٹی کے بہن اور بھتیجی کو شہید کردیا گیا اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بولان سے مختلف کاروائیوں کے دوران خواتین و بچوں کو فوج و خفیہ ادروں نے اغوا کرکے لاپتہ کئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بزدلانہ کاروائیوں میں فوج کے ساتھ بلوچستان حکومت میں شامل نام نہاد کٹھ پتلی برابر کے شریک ہے، بلوچستان حکومت میں بیھٹے ہوئے بلوچیت اور غیرت کے نام نہاد دعویدار بلوچ خواتین کی پنجابی فوج کے ہاتھوں اغوا اور تذلیل پر کیوں چپ سادہ لی ہےجب کوئی پنجابی کو تکلیف ہوتی ہے تو یہ نام نہاد لوگ آسمان کو سر پر اُٹھا لیتے ہیں لیکن بلوچ قوم کی عزت کو ان کے آنکھوں کے سامنے تار تار کیا جاتا ہے بلوچ ننگ و ناموس پر پاکستانی غیر مہذب فوج حملہ کرتی ہیں لیکن یہ بلوچیت کے نام نہاد دعویدار اندھے، بہرے اور گونگے بن جاتے۔ میر جاوید مینگل نے کراچی واقعہ کی شدید الفاظ سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہیکہ ریاستی ادارے بلوچ تحریک کی کامیابی اور عالمی سطع پر کامیاب مہم سے خوفزدہ ہوکر اب معصوم اور بے گناہ بچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کررہی ہے ، گزشتہ شب انٹیلیجنس اداروں نے کراچی گلستان جوہر میں کاروائی کرکے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان سمیت 8 معصوم بچوں کو اغوا کرکے لاپتہ کردئیے جبکہ خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنائے اور ایک بلوچ خواتین کو فلیٹ سے نیچے پھینک دئیے جو قابل مذمت اقدام ہے، اُنہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور گھروں کو جلانے و آئے روز فورسز کے لوٹ مار سے تنگ آکر اکثر لوگ کراچی اور اندرون سندھ نقل مکانی کرکے وہاں رہائش پزیر ہوچکے ہیں لیکن خفیہ ادارے وہاں بھی لوگوں کو جینے نہیں دے رہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہیکہ ریاست بلوچ قوم کو ہر جگہ انتقامی کاروائیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بلوچ طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد طلباء شدید زخمی ہوگئے اسلام آباد میں محمد علی جناح کے نام سے منسوب یونیورسٹی میں بلوچ طلباء پر تشدد اُن پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی ریاستی پالیسیوں کا تسلسل ہے، بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں اور ایف سی کیمپوں میں تبدیل کرنے کے بعد اب کراچی ، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بلوچ نوجوانوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں ، ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ کے فیمیلی کی اغوا، کراچی میں معصوم بچوں کا اغوا اور اسلام آباد میں طلباء پر تشدد 70 سالہ ظلم و زیادتیوں کا تسلسل ہے، پاکستانی اسٹبلشمنٹ بلوچ قوم کو صفہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں وہ یہ بخوبی سمجھتے ہیکہ جب تک ایک بھی بلوچ زندہ رہے گا وہ پاکستان کے قبضہ گیری، لوٹ مار اور ظلم زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرے گا بلکہ اُنکے بلوچ دشمن منصوبوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا رہے گا اس لئے پاکستانی فوج بلا رنگ و نسل بلوچوں کی نسل کشی کررہی ہیں لیکن پاکستان اور اُس کے کاسہ لیس یہ جان لیں کہ بلوچوں کو ظلم و جبر سے ختم کرنا ممکن نہیں ۔ اُنہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں ، اقوام متحدہ سمیت دیگر انسان دوست قوتوں سے اپیل کی ہیکہ وہ ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ کے فیمیلی اور کراچی سے خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ کئے گئے معصوم بچوں کی بحفاظت بازیابی کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اُٹھائیں ۔ میر جاوید مینگل نے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہیکہ وہ پنجابی فوج کی جارحیت، بلوچ خواتین و بچوں کو اغوا کرنے کے خلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close