2013سے پہلے خضدار اور صوبہ بھر میں خوف کا عالم تھا، ہم نے خوف کا بت پاش پاش کر دیا ہے.وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری

RNNکوئٹہ(ری پبلکن نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ 2013سے پہلے خضدار اور صوبہ بھر میں خوف کا عالم تھا، ہم نے خوف کا بت پاش پاش کر دیا ہے، جو دہشت گرد را(RAW) کی فنڈنگ سے دندھناتے پھرتے تھے ان کی کمر توڑ دی گئی ہے، جب تک آخری دہشت گرد کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا دیا جاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ملک دشمن قوتوں سے لئے گئے پیسوں کے بل بوتے پر باہر بیٹھے لوگوں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ کسی کو بھی بے گناہ افراد کو مارنے یا اٹھانے یا پھر بندوق کی نوک پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، باہر بیٹھے لوگوں سے بڑے بلوچ ہم ہیں، جو اپنے عوام کے درمیان موجود ہیں، عوام کا ہر دکھ درد ہمارا دکھ درد ہے، جسے ہم دل سے محسوس کرتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ضلع خضدار کے علاقوں کرخ اور مولہ جو مسلم لیگ (ن) کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں میں مسلم لیگ(ن) کے زیر اہتمام منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی مشیر محمد خان لہڑی، سینیٹر آغا شہباز درانی، ڈسٹرکٹ چیئرمین خضدار آغا شکیل درانی، مسلم لیگ کی ضلعی قیادت ، سیکریٹری داخلہ ، آئی جی پولیس ، کمانڈنٹ قلات اسکاؤٹس بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے جلسہ عام میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی جلد اور مکمل صحت یابی اور درازی عمر کے لیے خصوصی دعا کروائی۔وزیراعلیٰ نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار پھر خود کو ناراض بلوچ کہنے والوں سے کہتے ہیں کہ اگر انہیں اپنے آپ پر اعتماد ہے توآئیں اور آئین کے اندر رہتے ہوئے سیاست میں حصہ لیں جس طرح ہم ہر جگہ عوام کے پاس جاتے ہیں وہ بھی جائیں، کیونکہ لیڈر وہی ہوتا جو عوام کے درمیان ہوتا ہے، عوام بہترین منصف اور محتسب ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نا تو اپنے نوجوانوں کو بہکانے اور نہ ہی کسی کو بلوچستان کے لوگوں کے سروں کی قیمت پر بیرون ملک محلوں میں رہنے کی اجازت دیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ باہر بیٹھے ایک ناراض بلوچ نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کیا میں نے اپنی جان گنوانے کے لیے واپس جانا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہاں لوگ نہیں رہتے صرف انہی کی جان قیمتی ہے، انہوں نے کہا کہ باہر بیٹھے لوگ بھی خود آئیں اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو بھیجیں ہم نے بھی یہاں رہ کر اپنے بچوں کی قربانی دی ہے کیونکہ ہمارا جینا مرنا اپنے لوگوں کے ساتھ ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے جھالاوان میں لوگوں کو امن دیا ہے جب ہم نے حکومت سنبھالی تو اس بات کا عزم کیا تھا کہ اپنے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ کریں گے، گذشتہ برس سے خضدار میں ایک بھی اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی کا واقعہ نہیں ہوا جو ہمارے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم صوبے کی روایتوں کے امین ہیں، ہر شخص کو عزت و احترام دینا ہماری روایت ہے، یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں لوگوں کا جم غفیر یہاں موجود ہے، انہوں نے کہا کہ جمگھٹوں سے پارٹیاں نہیں بنتیں، پارٹیاں تب ہی بنتیں ہیں جب لوگ دل سے اپنے لیڈروں کو سننے آتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ہمیشہ عوام کی خدمت کا عزم لے کر اقتدار میں آتی ہے لیکن جب بھی محمد نواز شریف ملک کو ٹریک پر ڈالتے ہیں تو ان کے خلاف سازشیں شروع ہو جاتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کی حکومت مضبوط ہے سازشی عناصر 2018 اور اس کے بعد بھی اپنی باری کا انتظار کریں ، جن صوبوں میں ان کی حکومت ہے وہاں کے عوام کی خدمت کریں، نریندر مودی نے بھی وزیراعلیٰ کی حیثیتسے اپنے صوبے کی خدمت کی تو عوام نے اسے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا دیا،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک پارٹی کے لیڈر وزیراعظم بننے کی تک و دو میں ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ پہلے وہ اس صوبے کے عوام کی خدمت کریں جہاں ان کی حکومت ہے، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مسلم لیگ(ن) کے خلاف سازشیں کرنا بند کردیں، انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت ایف سی ، پولیس، لیویز اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے صوبے میں امن قائم ہوا، حالانکہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا، ہماری حکومت اور ماضی کی حکومتوں کا موازنہ حقائق کی روشنی میں بخوبی کیا جا سکتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بیروزگاری کی عفریت کو نوجوانوں کے مستقبل کو نگلنے نہیں دیا جائیگا، ان کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے، صوبائی محکموں میں آئندہ بجٹ میں نئی آسامیاں تخلیق کر کے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں گی تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ نوجوانوں کو قلم، کتاب کے ساتھ ساتھ میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ بھی فراہم کئے جائیں گے۔ تعلیم کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں ، نوجوان پڑھیں اور صوبے کا مستقبل سنبھالیں، پاک چائنا اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں روزگار کے حصول کے لیے صوبے کے نوجوانوں کو فنی تربیت کی فراہمی کے لیے خضدار سمیت دیگر اضلاع میں فنی تربیت کے ادارے قائم کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مولہ کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران مولہ کے ہر گھر کے لیے سولر سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی کے لیے 50کروڑ روپے، مولہ کو تحصیل کا درجہ دینے ، ڈیلے ایکشن ڈیم کی تعمیر، سکولوں کی اپ گریڈیشن، حفاظتی بندات، خضدار مولہ روڈ کی تعمیر، 15ہزار بلڈوزر گھنٹوں کی فراہمی، ایمبولینس کی فراہمی، لیویز اور پولیس تھانوں کی تعمیر و مرمت اور سہولیات کی فراہمی، مولہ کی دو یونین کونسلوں کے لیے 25 پچیس لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا، جبکہ کرخ میں جلسہ عام کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے علاقہ کے ہائی سکول میں انٹر کالج کی کلاسسز شروع کرنے اور کالج کے لیے عمارت کی تعمیر، کرخ اور مولہ پر مشتمل سب ڈویژن کے قیام ، کرخ کو میونسپل کمیٹی کا درجہ دینے، ایل پی جی پلانٹ کے ذریعے گیس کی فراہمی، ڈیری فارم اور زرعی تحقیقی مرکز کے قیام، ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے ازالے ، 20ہزار بلڈوزر گھنٹے دینے، 50کلومیٹر پکی سڑکوں کی تعمیر ،مختلف مقامات پر ڈیلے ایکشن ڈیمز کی تعمیر، کرخ میں نادرا آفس کے قیام، آر ایچ سی کو 50بستروں پر مشتمل سول ہسپتال کا درجہ دینے، ہر یونین کونسل کے لیے ایمبولینس اور ایک ایک کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ 25کروڑ روپے کی لاگت سے کرخ کو بجلی کی فراہمی کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جلد کرخ بجلی سے منور ہو جائیگا، جلسہ سے صوبائی مشیر محمد خان لہڑی ، حاجی وڈیرہ محمدفاروق جاموٹ، حاجی جمعہ خان شکرانی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں نے ساتھیوں سمیت وزیراعظم محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker