براہمدغ بگٹی نے تاریخ کی تلخ حقیقت اور سچائی سے پردہ اٹھایا ہے۔ شفیع برفت

نیوزڈیسک (ریپبلکن نیوز) سندھی قوم پرست رہنما اور جئے سندھ متحدہ محاز کے چیئرمین شفیع برفت نے ریپبلکن نیوز کو دیئے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ اور بلوچ سیاسی رہنما نواب براہمدغ بگٹی نے تاریخ کی تلخ حقیقت اور سچائی سے پردہ ہٹایا ہے اور حقییقت کوتسلیم کیا ہے۔ مگر کبھی کبھی تاریخ کی کچھ سچائیاں اور حقیقتیں زہر سے زیادہ کڑوی اور اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ انسان کی دل برملہ کہتی ہے کہ اس کا ذکر ہی کیوں کر کیا جاۓ ! کیوں کہ وہ حقیقتیں قوموں کے قومی روایات، قومی جذبات اور اناؤں کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔

مگر دماغ کہتا ہے کے تاریخ کی حقیقتیں جو بھی ہوں، جس طرح بھی ہوں، ان سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے، کیوں کے تاریخ افراد کی اناوں، خواہشات اور ارادوں کی محتاج نہیں ہوتی ہے، جس کو اگر چھپایا جاۓ یا اسکو اپنی مرضی کا رنگ دیا جاۓ تو حقیقتیں تبدیل نہیں ہوجاتیں ہیں۔

سواۓ اسکے کے فرد اپنے آپکو خودفریبی کا شکار بناۓ، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی قوم اور سماج اپنی قومی تاریخ کو اپنی مرضی اور منشا سے تبدیل نہیں کر سکتا ہے اور نا ہی اسکو جھٹلانے سے ہقیتیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جاۓ تو بی آر پی کے رہنما جناب براہمدغ بگٹی کا بیان اور موقف اور حقیقت کو تسلیم کرنے کی جرعت، ان کو ایک منفی اناپرست لیڈر کے بجاۓ ایک سیاسی زہین، سنجیدہ، حقیقت پسند اور میچور سیاسی لیڈر ثابت کرتی ہے۔

براہمدغ بگٹی کی یہ سیاسی سوچ ہمیں شدت سے یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم بحیثیت ایک زمیدار قوم، ہم اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے، ہم اپنی حاصلات اور نقصانات کے، ہم اپنی غلطیوں اور اچھائیوں کے، ہم اپنی فتح اور شکست کے زمیدار اور مالک خود ہیں۔ اس حوالے سے تاریخ میں اگر کبھی ہم سے کوئی خطا یا غلطی سرزد ہوئی بھی ہے تو اس غلطی کو درست کرنے کے لیے ہمیں دل اور دماغ سے وہ تاریخ کی تلخ حقیقت تسلیم کرنی چاہیئے اور یہی رویہ ہماری سیاسی سنجیدگی اور ہمارے آئندہ کے قومی جذبے، ارادے اور حکمت عملی کا نہ صرف تدارک کریگا بلکہ ہم اپنے آنے والے وقت میں اپنی ان غلطیوں سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

شفیع برفت نے  تمام بلوچ قومی کارکنان اور بلوچ قیادت سے گزارش کی ہے کہ وہ اگر یہ مناسب سمجھتے ہیں کے ان حالات میں اس طرح کی تاریخی حقیقتوں اور سچائیوں کو سوشل میڈیا پر نہ رکھیں، جس سے بلوچ قومی کارکنوں کے حوصلے اور جذبے نفسیاتی حوالے سے تذبذب کا شکار ہوسکتے ہیں، تو یہ ایک الگ بات ہے، نگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ براہمدغ بگٹی کا موقف یا نقطے نظر غلط ہے۔ مگر یہ زمان اور مکان کی اگر بات ہے تو اس سے اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوستوں کو چاہیے کہ وہ بلوچ قومی تاریخ کے ان کمزور پہلوں کو آپس میں مل بیٹھ کر کوئی حتمی فیصلہ یا راۓ قائم کریں۔ بجاۓ اس کے کہ عام سیاسی کارکن اپنے کسی سیاسی قیادت اور قومی لیڈرشپ کے خلاف بدگمانی اور انتشار کو ہوا دیں۔

بلوچ دوستوں کو میری ادنہ راۓ یہ ہے کہ یہ ساری زمیداری اب بلوچ قومی دانشوروں کی ہے اور ہونی چایئے کے وہ اس سارے مسئلے کو فوراََ اپنے ہاتھ میں لیں اور کارکنوں کو سختی سے روکا جاۓ کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی داخلیت پسندی اور کسی بھی قسم کی منفی من مانی کرنے سے مکمل گریز کریں اور بلوچ قومی دانشور اپنی قوم اور قومی کارکنوں کو تاریخ کی تلخ حقیقتوں سے خود اگاہ کریں۔ مگر یہ بات سب دوستوں کو زہن نشین کرنی ہوگی کہ جس وقت خان قلات پر پاکستانی ریاست نے فوج کشی کی تھی اس وقت بلوچ قومی سماج کوئی جدید قومی سماج نہیں تھا بلکہ ایک قبائلی سماج تھا جو مختلف نیم خود مختار ریاستوں پر مبنی تھا اور قلات ریاست بھی ان میں سے ایک ریاست تھی۔ ہر ایک ریاست اپنے اندر میں آزاد ہوتی تھیں۔

سندھ میں بھی تالپور حکمران ( جو بلوچ قبائلی ذہنیت رکھتے تھے ) جب انگریزوں نے سندھ پر حملہ کیا اس وقت حیدرآباد کے تالپور اور ہوشو شیدی نے تو انگریز حملہ آور چارلس نیپئر سے جنگ کی تھی، مگر خیرپور کے تالپور انگریزوں سے مل گئے تھے۔ اب اس سچائی اور حقیقت کو جو سندھ کی تاریخ کا اب ایک ناقابل تردید باب بن چکا ہے۔ اسکو تسلیم نہ کرنے سے یا اس پر اپنی انا کو بھڑکانے سے کیا فائدہ۔ کیا اگر ہم بھی یہ کہیں کے خیر پور کے تالپور انگریز سے خفیہ طور پر نہیں مل گئے تھے، تو اس سے تاریخ کی حقیقت یا سچائی تبدیل ہوجائے گی ؟ ہر گز نہیں !

اس لئے میرے بلوچ دوستوں تاریخ کو اپنے اصل حقیقی شکل میں قبول کرنا اپنے آنے والی نسلوں کو گمراہی اور خودفریبی، خوش فہمی سے بچانے کے لیے لازم ہے اور براہمدغ بگٹی نے تاریخ کے اس سچ کو تسلیم کر کے سچائی کا ساتھ دیا ہے اور سچائی کتنی کڑوی ہوتی ہے، یہ بات بلوچ ساتھیوں کے رویوں سے ظاہر ہورہی ہے۔ جو براہمدغ بگٹی کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنانے سے ہمیں بھی محسوس ہورہی ہے۔ میری بلوچ قومی کارکنوں، دانشوروں اور سیاسی قیادت سے یہ گزارش ہے، کے تاریخ کی حقیقتوں اور سچائیوں کو اپنی اناؤں کا غلام اور زیردست مت بنائیں، اس ے آپ خود اور اپنی آنے والی نسلوں کو گمراہ بنا دوگے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close