پاکستان میں پانچ سالوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے 17862 کیسز ریکارڈ

اسلام آباد (ریپبلکن نیوز) پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17862 واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ ہونے والے 10620 واقعات میں لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران 7242 لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ جبکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیش آتے ہیں، جس کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ، لیکن حکومتِ وقت اور سابقہ حکومتیں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو روکنے میں مکمل طورپر ناکام رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہروں قصور اور اوکاڑہ میں لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہیں جس میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ قصور میں بچوں پر جنسی تشدد کے دوران ویڈیو فلمیں بنانے کے واقعات میں ملوث تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے مقدمات میں صرف 112مجرموں کو سزا ہوئی جن میں سے 25 مجرموں کو سزائے موت، 11 کو عمر قید جبکہ باقی مجرمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں بچوں سے زیادتی کے واقعات سے متعلق صورت حال افسوسناک ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا۔
متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں