بلوچ مزاحمتی تنظیم کے حملوں کے بعد ریاستی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے خوف میں مبتلا

ڈیرہ بگٹی (ریپبلکن نیوز) ڈیرہ بگٹی میں آزادی پسند بلوچ مزاحمتی تنظیم کی جانب سے کارروائیوں کے بعد ریاستی اداروں اور ان کے ڈیتھ سکواڈ میں شدید خوف کو حراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

نمائندہ ریپبلکن نیوز کے مطابق ڈیرہ بگٹی شہر اور گرد و نواح میں بلوچ مزاحمتی تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی لائے جانے کے بعد ڈیرہ بگٹی میں مقیم ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں اور فورسز کے اہلکاروں میں شدید خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔

ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں نے اپنی نکل و حرکات محدود کردی ہے اور وہ شہر میں محصور ہو کر رہہہ گئے ہیں جبکہ ایف سی اور فوج نے سڑکوں پر رات کو گشت کرنا بند کردیا ہے۔ اس سے پہلے قابض فورسز دن بھر شہر  میں گشت کرتے رہتے تھے۔ دوسری جانب فورسز نے شہر کے اندر موٹر سائیکلوں کے داخلے پر عارضی پابندی بھی عائد کردی ہے۔

بلوچ ریپبلکن آرمی نے متعدد قابض فورسز کے ہلاکت کی زمہ داری قبول کرلی

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ڈیرہ بگٹی میں ٹوبہ ںوخکانی کے مقام پر ریاستی کارندوں پر مسلح افراد نے حملہ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک کردیا تھا اس کے بعد فورسز کے اہلکاروں، ڈیتھ سکواڈ کے کاروندوں اور گیس پائپ لائنوں پر تابڑ توڑ حملے شروع ہوچکے ہیں جس میں اب تک بارہ ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے کارندے، ایک درجن سے زائد فوجی اہلکار ہلاک جبکہ آٹھ سے زائد گیس لائنوں کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ جبکہ آج  ڈیرہ بگٹی کے علاقے جوری میں ریاستی کارندہ ولی داد بگٹی کےگھر کے سامنے نصب ایک بم بھی برآمد ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close