تنظیم اور گروہ!

کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) بنیادی طور پر تنظیم لوگوں کا ہی ایک گروہ ہوتی ہے جو کسی مقصد کے لیے وجود میں لائی جاتی ہے تنظیم انفرادی طاقت کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کرتی ہے جس کام کو انفرادی طاقت سے سرانجام دینا ناممکن ہوتا ہے اسے تنظیم سرانجام دے سکتی ہے ۔لیکن تنظیم اور گروہ میں کچھ فرق ہوتے ہیں۔

تنظیم کے کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں اس کی آئین یا منشور ہوتی ہے تنظیم کے مرکزی کیبنیٹ اور سنٹرل کمیٹی جیسے ادارے ہوتے ہیں جہاں سے تنظیم کی پالیسی اور حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے اور ہر تین یا چار سال بعد تنظیم کی کونسل سیشن کی جاتی ہے اور تنظیمی کارکنان کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے تنظیمی لیڈر کا انتخاب کریں۔

تنظیم کے اندر ہر کسی کو اس کی اہلیت کے مطابق زمہ داری دی جاتی ہے اور وہ اپنے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی زمہ داریوں کو سرانجام دینے کی جدوجہد کرتا ہے۔آئین ایک تنظیم کی سب سے بالاتر شے ہوتی ہے اور سب اسی کے پابند ہوتے ہیں اگر کوئی بھی تنظیمی ورکر یا رہنما آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی غلطی کرے تو اسے آئین کے مطابق سزا دی جاتی ہے چاہے وہ ایک عام کارکن ہو یا مرکزی زمہ دار،  تنظیم کے اندر سزا و جزا کا عمل سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔

مزید مضامین:

جو میں نے سمجھا!

فوج کے ہاتھوں بلوچ خواتین و بچوں کی جبری گمشدگیاں

سردار اخترمینگل کے نا م کھلا خط

اگر ہم گروہ کو تنظیم کی نام دیں تو یہ تنظیم کے ساتھ ناانصافی ہوگی بے شک گروہ بھی لوگوں کی ایک اجتماعی طاقت ہوتی ہے لیکن وہ تنظیم کی معیار پر پورا نہیں اترتی، کیونکہ گروہ میں آئین جیسے نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور قانون ساز دارے ئعنی مرکزی کابینہ یا سنٹرل کمیٹی وجود نہیں رکھتے بلکہ وہاں فردی فیصلوں پر عمل کیا جاتا ہے۔ گروہ کی سربراہی کوئی ایک شخص کرتا ہے اور وہ جب چاہے اپنے منشا کے مطابق فیصلہ لیتاہے، بلے ہی وہ شخص کتنا ہی ایماندار اور مخلص کیوں نہ ہو لیکں وہ ایک سوچ ہوتا ہے اور ایک سوچ کبھی بھی بدل سکتی ہے اور سوچوں کے اندر اختلافات بھی جنم لینے لگتے ہیں۔

لیکن یہاں اختلافات کو حل کرنے کے لیے ادارے موجود نہیں ہوتے اسی لیے چھوٹے اختلافات انتشار کی شکل میں ابر کر سامنے آنے لگتے ہیں اور گروہوں کے اندر دوسرے گروہ جنم لینے لگتے ہیں اور وہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹ جاتے ہیں اور ان گروپوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بڑے سے بڑے طوفانوں کا سامنا کرسکیں، اسی لیے وہ اپنے مقصد کے حصول سے پہلے ہوا کے جھونکوں سے ٹکرا کر تہیس نہیس ہوجاتے ہیں۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close