کامریڈ عبدالواحد بلوچ کے اغواء پر افسوس ہے۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے معروف سماجی و لٹریری شخصیت کامریڈ واحد بلوچ کی جبری گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کامریڈ واحد بلوچ کی زندگی کو فورسز کی اذیت گاہوں میں شدید خطرات لاحق ہیں۔کامریڈ واحد ایک عرصے سے ادبی و سماجی سرگرمیوں میں مصروف تھے جسے 26جولائی کو فورسز نے کراچی سے اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔ سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرنس لائبریری کی تعمیر میں بھی کامریڈ واحد صباء دشتیاری کے ہمراہ تھے۔ شہید صباء دشتیاری کو فورسز نے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچ سماجی کارکنوں کے اغواء کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ہزاروں سیاسی کارکن، ڈاکٹرز، وکلاء، ٹیچرز اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگ فورسز کے ہاتھوں اغواء اور قتل ہو چکے ہیں۔بی ایس او آزاد نے پر امن سماجی اور ادبی کارکنوں کی اغواء پر عالمی اداروں کی خاموشی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اداروں کی خاموشی کی وجہ سے پاکستانی ادارے بلوچ شناخت رکھنے والے دانشوروں، نوجوانوں کا قتل اور ان کے اغواء کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے فورسز تیزی سے بلوچ معاشرے کے دانشور طبقے اور عوام کو نشانہ بنارہے ہیں جو کہ نسل کشی کے کاروائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کے اندر آرمی چوکیاں لوگوں کے اغواء و قتل کے لئے قائم کیے گئے ہیں۔گزشتہ کئی دنوں سے مکران کے علاقوں میں فورسز کی آپریشن جاری ہے جس میں نہتے لوگوں کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔ فورسز اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے ڈاکٹر مالک جیسے اپنے مقامی نمائندوں کے ذریعے بلوچ عوام کو گمراہ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو صورت حال کی اصل حقیقت سے بے خبر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن ہم مقامی اور عالمی میڈیا نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خود بلوچستان آ کر یہاں ریاستی غیر انسانی پالیسیوں سے متاثر ہونے والے عوام کی مشکلات کا جائزہ لیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close