موجودہ صورتِ حال (تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بی ایس او آزاد)

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) جب بھی کچھ لکھنے کا خیال آتا ہے، تو مو ضو ع کا انتخا ب کر نے سے پہلے کچھ سوالا ت سامنے آتے ہیں کہ یہا ں کی صورتحال کو کس طر ح سمجھنے کی ضر ورت ہے اور دوسروں کو کس طرح سمجھا سکیں گے۔ کسی بھی سیا سی ورکر کیلئے یہ وہ بنیاد ی سوال ہے، جس کی وجہ سے کچھ لکھنے کی خواہش ہو تا ہے۔ کچھ الفاظ لکھ کر لوگوں کو متو جہ کر سکیں جس کے ذریعے اپنے قوم اور دنیا کو آگا ہی دے سکیں۔ بلوچستان کے حالات کتنے گھمبیر ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجو د بھی دنیا اس طرف کیوں متو جہ نہیں ہو رہا ہے۔ ہم دنیا کو متو جہ کر نے کیلئے کیا مثبت کردار ادا کریں کہ یہاں پاکستانی فو ج بلوچ کی نسل کشی کر رہی ہے۔

اس وقت بلوچستان میں پا کستانی فو ج بلوچستان کے کونے کونے میں فو جی کاروائی کر رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا اور صحافی حضرات اس حو الے سے اپنی آنکھوں پر پٹی لگائے ہو ئے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کا کردار سب کے سامنے عیاں ہے۔ وہ صرف اُس مسئلہ کو اجاگر کرتے ہیں، جس سے اُس کے معاشی مفادات وابسطہ ہیں، کیو نکہ پا کستانی صحافیوں کے کردار کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ قبضہ گیر کے دانشور اور لکھاریوں کے حوالے سے سارتر بہت ہی خوب صورت الفاظ میں کہتے ہیں کہ ’’اگر قبضہ گیر کے دانشور کچھ کہیں، تو وہ اس لیئے کہتے ہیں، تا کہ آقا کو سمجھا سکیں کہ اُسے آگے کس طر ح کی پالیسی اپناناہو گا۔” یہاں صحافی حق اور سچ کیلئے نہیں لکھتے ہیں۔ اگر لکھتے ہیں تو اُسی کردار کے مالک ہیں جو کردار انہوں نے بنگلہ دیش میں ادا کی ہے۔

ہم بلوچستان میں ہوئے جبر کی داستان کو دیکھتے ہیں۔ اس کی تاریخ لمبی ہے لیکن آج بلو چستان میں فو جی آپر یشن میں تیزی کی وجوہات کو سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں کہ پا کستانی فو ج اس وقت بلوچستان کے کونے کونے میں اپنی طاقت آزمائی کر رہا ہے۔ فوجی کا راوئیوں کے مقصد کو سمجھنا بہت ہی آسان ہے۔ وہ طاقت کے ذریعے بلوچ تحر یک کو ختم کر نے کی کو شش کر رہا ہے۔ وہ باشعور لوگوں کو ’’تلا ش کرو اور ختم کرو‘‘ کی پالیسی کے ذریعے آپر یشن میں تیز ی لائے ہوئے ہیں۔ یہ فوجی آپر یشن شہروں سے لیکر دیہاتوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ بلو چ سیاسی کا رکنوں کو چن چن کر گرفتار کر کے لا پتہ کیا جا رہا ہے۔

بلو چ طلبا قیاد ت کی گمشدگی، قومی جہد آزادی اور ہمار ی ذمہ داریاں

یہاں ایک بحث سامنا آتا ہے کہ انہی حالات میں پا کستان ریاست وہی کردار ادا کر رہا ہے، جو 1971میں بنگلا دیش میں اپنایا گیا تھا، لیکن اس وقت پاکستان کو بلوچستان میں ایک عوامی ردعمل کا سامنا کر نا پڑ رہاہے۔ اس طرح کے مشکلا ت ان کے سامنے ہیں کیو نکہ بلوچستان میں پا کستان کی 2013کی جنرل الیکشن میں پو رے بلوچستا ن میں بلوچ عوام نے بائیکاٹ کیا تھا، تو یہاں ووٹنگ نہ ہو نے کے برابر تھی۔ اس کی کال بلوچ آزادی پسندوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ نے دی تھی۔ پا کستان کو ناکامی کا سامنا ہوا اور دوسری طرف حال ہی میں مردم شماری میں بھی ناکام ہوئی۔ اس کی کال بھی بلو چ نیشنل فرنٹ نے دی تھی۔

پاکستانی فو ج طا قت کے استعمال کے با وجود بھی بلوچستان میں مر دم شما ری نہیں کرا سکی۔ فو جی چھاؤنیو ں میں مردم شماری کے فارم ازخود کوبھرددیئے گئے۔ اسی خو ف کی وجہ سے پور ے بلوچستان میں پاکستانی فو ج کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستانی فو ج نے بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کی ہے۔ یونیورسٹی سے لیکر پرائمری سکولوں کو فوجی کیمپ میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔

ریاست کی کوشش ہے کہ خو ف کے سایے تلے 2018میں پا کستان کے جنرل الیکشن منعقد کیئے جائیں اور کا میاب کرائے جائیں۔ اسی لیئے اس الیکشن میں پاکستانی فو ج بہت ہی دلچسپی لے رہی ہے۔ فو جی طا قت کے بل بو تے پر مردم شماری نہیں کراسکیں تو الیکشن بھی نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ عوام اپنے دشمن کو پہچان چکی ہے۔

بلوچستان پر قبضے کا دن وہ ہے جب ہمارے وطن کو تین ملکوں میں تقسیم کیا گیا

اس وقت فو ج بلو چستان میں ایک نئی پا رٹی قائم کر رہی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے ذریعے وہ دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔ پاکستانی فو ج اپنے معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ دنیا میں یہ ثابت کر نے کو شش کررہاہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلوچ عوام کی مرضی سے ہو رہا ہے، لیکن اس بات کو یاد رکھنا ہو گاکہ بلوچ عوام نے پاکستان کی ہر چیز کو مستر د کر دیا ہے۔ بدلے میں پاکستانی فوج جو کچھ کر رہی ہے، اس میں فو ج کے پالے ہوئے لوگ ڈاکٹر مالک ،سر دار ثنا اللہ اور حال ہی کے قدوس بیزنجو ہوں وہ ہر کام میں بر ابر ی کے حصے دار ہیں۔ یہ لوگ بھی بلوچستان میں بلوچ عوام کا خون بہانے میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں فوج ہمیشہ کی طرح اصل حکمران کا کردار ادا کرنے کا بیڑا اٹھا چکا ہے۔ سب انکے سامنے بے بس نظر آتے ہیں ’’اس کی مثال مسلم لیگ نو از سے مکمل تضاد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فو ج کے ساتھ ہمقدم سپر یم کورٹ اور بیو روکریسی ہیں۔ سپر یم کو رٹ بہت خو ب استعمال ہو رہا ہے۔ اس میں فو ج بر اہ راست ملوث ہے۔ اسی لیئے میرے خیال میں نوازشر یف اپنے 10اپریل کے اخباری بیاں میں کہتاہے کہ آئندہ الیکشن کے نتائج قبول نہیں کرینگے۔ یہ ایک واضح تضاد ہے۔ اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ فو ج کا کردار کتنا مضبو ط ہے۔

پنجابی قوم پرست کو وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے، حالانکہ پاکستان کی تمام سیاسی پا رٹیاں اور فوج بلوچستان کے حو الے سے ایک ہی صفحے پر ہیں، لیکن اس کے باوجود، انہیں انکی ذمہ داریو ں سے فارغ کیا گیا، تو بلوچستان میں صورتحال کیسی ہوگی، آپ کو اب اسکا انداز ہو گا۔ بلوچستان حکومت کی تبد یلی وہی سلسلہ ہے کیو نکہ ایک بات کی وضا حت کر نا چاہیئے کہ پا رلیمنٹ میں بیٹھے تما م رکن پارلیمنٹ فو ج کے اہلکا ر ہیں۔ انکی وفا داری ایک سے بڑھ کر ایک ہے لیکن انکو انکی حیثیت بھی با ر بار انکو یا د دلائی جا تی ہے کہ آپ لو گو ں کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ اس وقت بلوچستا ن کے نام نہاد پارلیمنٹ میں با ربار قائد ایوان کی تبد یلی ہوتا ہے، لیکن نئے وزیر اعلیٰ کو وہی پرانے حربوں کے ساتھ ایک نئے مہر ے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

انہی کٹھ پتلیو ں کی وجہ سے فو ج بلوچستان میں اپنی من مانی کرتا ہے، انکے ذریعے بلو چستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔ انکا کردار صر ف یہ ہے کہ وہ صر ف کلرک کی طرح کسی کا غذ پر مہر لگا سکتے ہیں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں، یہ صر ف کاغذی شیر ہیں جو نما ئش کے طور پر رکھے جاتے ہیں۔ اس کھیل میں قوم پرست جماعتیں شامل ہیں۔ سردار اخترمینگل اور اُس کی پارٹی بلوچستان میں آنے والی الیکشن کی تیاری میں بہت زور شور سے حصے لے رہی ہے۔ یہ مہم خاص کر لسبیلہ اورمکران میں جاری ہے۔ اپنے سرگر میوں میں تیزی لانا، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں حصہ لیگا لیکن وہ اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیئے قوم کا سودا کرنے میں پیش پیش ہے۔ سردار مینگل اس بات سے آگاہ ہے اور بخو بی جانتا ہے کہ بلو چستان میں کبھی بھی ایک قوم پرست کو حکومت کر نے نہیں دیتے ہیں۔ اس کی مثال 1970کا دور ہے یا 1997 میں سردار اختر کی حکومت کو واپس بھینا ہے، اس سے بڑی مثال کو ئی نہیں، لیکن انہوں نے اپنی قیمت بہت کم لگادیا۔

ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک 

ہم سمجھتے ہیں اختر مینگل بھی بلوچ نسل کشی میں برابر شریک ہے، آگے شر یک ہو نے جا رہے ہیں۔ اس وقت آپریشن میں تیزی کے وجو ہا ت یہ بھی ہیں: 66ارب ڈالر کی پروجیکٹ سی پیک نام سے پا کستان اور چین سر انجام دے رہے ہیں، جو بلو چستان کی سر زمین سے بلوچ کی مرضی کے خلاف اس پر وجیکٹ کو آگے لے جا رہے ہیں۔ جب بلوچوں نے مزاحمت کی تو پاکستانی فوج نے چین کی مد د سے اس روٹ کے تما م نہتے بلو چ آبادی کو بزور طاقت بیدخل کردیا۔ اب لاکھو ں کے حساب سے آئی ڈی پیز کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ہم جس پہلو پر نظر ڈالیں تو وہی سچ ہوگا۔

الیکشن نز دیک ہو نے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فو ج اپنی حکمت عملی میں تبد یلی لارہی ہے۔ بلو چستان کے تمام دیہی علاقوں کی آبادیو ں کو طاقت کے زور پر اپنے کیمپوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ ان کا گذر بسر مال مویشیو ں سے ہو تاہے۔ نہتا عوام طاقت کے سامنے بے بس ہیں۔ آوران، مشکے، بو لا ن کو لو اہ، ڈیر بگٹی اور کوہلو میں فو جی آپر یشن کرکے اور خواتین اور بچوں کو اغو اء کرنے کے ساتھ ہی پوری آبا دیو ں کو گھر بار چھو ڑنے پر مجبور کرنا اس با ت کو واضح کر تا ہے کہ پاکستان تمام جنگی قوانین کو روند چکا ہے، لیکن دنیا کے تمام انسانی حقو ق کے اداروں کا خامو ش رہنا ایک سوالیہ نشان ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ وہ اگر اپنا انسانی فر ض پو را کرنا چاہتے ہیں تو وہ بلوچستان کا دورہ کر یں، بلو چ عوام پر طا قت استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستانی ریاست سے بلوچ اپنی انسانی اور بنیاد ی حق آزادی مانگ رہی ہیں۔ دنیا کے تمام قوانین، اُسے اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی آزادی کے لیئے جدوجہد کریں۔ اس جد وجہد کو کاؤنٹر کر نے کیلئے نئے نئے حربے استعمال کیئے جا رہے ہیں، جسے ہم اجتما عی سزا کا نام دیں تو منا سب ہوگا۔ بلوچ رہنماؤ ں کے رشتہ دارو ں کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جس طر ح ہما رے سامنے ایک مثال مو جو د ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کے بہنوں کو پا کستانی فوج نے اغوا کیا تھا اور انکی بیوی اور رشتہ دارو ں کو اٹھا کر لا پتہ کرکے، انہیں ذہنی تشد د کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی طر ح استاد اسلم بلوچ کے خاندان کے خواتین اور بچوں کو اغو ا کیا گیا، یہ تما م اجتماعی سزا ہیں، جسے پاکستانی ریاست استعمال کررہا ہے۔

بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی تبدیلیاں 

اب اس سلسلہ میں تیزی آئی ہے۔ تما م سیاسی کا رکنو ں کے رشتے داروں کو تنگ کیا جا رہا ہے، یہ عمل جنگی اصولوں کے خلاف ہے۔ دراصل پاکستان جنگی مجرم ہے۔ اسے روکنے کے لیئے مہذب دنیا کو کردار ادا کرنا چاہیئے۔ یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افر اد کی تعداد میں تیزی کے ساتھ روز افزوں اضافہ معمو ل بن چکا ہے، اجتماعی قبر وں کی برآمدگی سے بلوچ عوام کوذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ لا پتہ افراد کے خاندان کو ذہنی اذیت دینے میں کو ئی کمی نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔

ایک طرف لاپتہ افراد کے خاندان ذہنی کوفت کا شکا ر ہیں۔ ان سے بھی فو ج پیسے کا مطالبہ کر تا ہے کہ آپ اگر اتنی رقم مہیا کردیں تو آپ کے بندے کو رہا کیا جائے گا، یہ عمل کسی غریب کے لیئے کسی ذہنی اذیت سے کم نہیں۔ پاکستان فوج قبضہ گیر اور کا روبار کے لیئے بلو چستان کا رُخ کر تے ہیں، جو خو د پیسے دیکر بلوچستان میں اپنی ڈیوٹی لگواتے ہیں، تاکہ یہاں اپنا بینک بلینس بنا سکیں۔ یہاں کسی کو بلوچستان کے لیئے کوئی سوچ نہیں۔ یہ تما م بلوچ وسائل کو لو ٹ رہے ہیں۔ نہتے بلوچ عو ا م کے لیئے تنگ دستی اور غر بت لائی گئی ہے۔

آج بلو چ غر بت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، اس جد ید دور میں بلو چ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، جو کسی بھی انسان کا بنیا دی حق مانے جا تے ہیں لیکن وہ حقوق بھی بلوچوں کونہیں دیے جاتے ہیں۔ انکی جگہ بلو چوں کی سرزمین پر نئے نئے تجربات کیئے جاتے ہیں۔ جس طرح 28مئی 1998کونو ازشر یف اور اختر مینگل پاکستانی فو ج کے ساتھ جوہری تجربے کیلئے بلوچستان کے علاقے چاغی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اب اُس کی تابکاری کی وجہ سے بلوچستان میں کینسر کے شرح میں روزانہ اضافہ ہو تا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں لو گوں کی اموات رونما ہو چکی ہے، لیکن مو جودہ حکمرانوں کو کوئی پر وا نہیں۔ رخشان سے لے کر مکران اور سراوان میں اس کے اثرات سامنے آرہے ہیں۔ اگر حقیقی بنیاد یو ں پر تحقیق کر یں، تو حقیقت سامنے آجائے، کو ئی صر ف ایک علا قے میں اس حوالے سے ریسریچ کرے اور اسکے وجوہات جاننے کیلئے انکو کسی ایک اچھے لیبارٹریوں میں زیر معائنہ لائے تو بعید از گمان نہیں کہ اسی تابکاری کی وجہ سے لو گ موذی بیماریوں کا شکار ہورہے ہ

تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بی ایس او آزاد

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button