گوادر: ترقی کے نام پر محنت کشوں اور دیگر طبقات کی تزلیل عروج پر

گوادر(ریپبلکن نیوز) گوادر جہاں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ترقی کا واویلہ مچایا جا رہا ہےمگر گوادر کی حقیقت اور گوادر میں بسنے والے بلوچوں کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے اس رپورٹ میں قید کیا گیا ہے ـ چند مہینے قبل گوادر کی آبی قلت کو ضرور قدرتی باران نے دور کردیا مگر دیگر سماجی مسائل اپنی جگہ ویسے کے ویسے رہے گوادر میں دورے کے دوران ریپبلکن نیوزکے  نمائندے کے مطابق گراں فروشی آسمان سے باتیں کررہا ہےاور روزگار بالکل نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پیراملٹری فورسز اور آرمی اہلکار مقامی لوگوں کو حراساں کرنے میں کوئی کسر ہی نہ چھوڈ رہے تھے جبکہ غیر مقامی لوگ آزادی کے ساتھ گوادر میں ایسے گھوم رہے تھے جیسے کہ گوادر غیر مقامی لوگوں کا کالونی ہے اور بلوچ صرف ان کے ہاں کام کرنے والے مزدور اور ماہی گیر جبکہ گوادر کے واحد ذریعہ معاش ماھی گیری بھی ریاستی نیوی کے اہلکاروں کی نزر ہوچکی ہے اور پاکستانی حکمران دنیا اور اپنے عوام کے آنکھوں میں دھول جھونک کر گوادر کو دبئی اور سنگاپور بنانے کی خواب دکھا رہے ہیں جو ایک سبز باغ سے زیادہ کچھ نہیں ـ

مزید خبریں اسی بارے میں

Close