شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

کوئٹہ/ مضمون (ریپبلکن نیوز) قومی آزادی و انقلابی تحریکیں وطن کے فرزندوں سے قومی بقا، تشخص، اور وطن کی حفاظت کے لیے ہر طرح کی قربانیوں کا تقاضہ کرتے ہیں۔ اور وطن کے جانباز قومی آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دیکر مادرِ وطن کی دفاع میں شہادت نوش کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوجاتے ہیں، اور حق کی اس جنگ میں سرفروشانِ وطن قربانیوں کی تاریخ رقم کردیتے ہیں۔

ایسے ہی ایک تاریخ شہید اسلم بلوچ نے اپنے دیگر پانچ ساتھیوں سمیت چوبیس دسمبر کو رقم کیں اور بلوچ گلزمین کی آزادی کے لیے جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ چوبیس دسمبر کو سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ اسلم بلوچ اپنے چند ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ہیں، اس دردناک اور تکلیفدہ خبر نے مجھ سمیت تمام آزادی پسند دوستوں کے حوش آڑا دیئے، پورا دن ہم خود کو دلاسہ دیتے رہے کہ استاد اسلم بلوچ زخمی ہونگے جنہیں طبی امداد فرائم کیا جارہا ہوگا،  تب بی ایل اے کی جانب سے تفصیلات سامنے نہیں آئے تھے، لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد جیئند بلوچ کا بیان آیا اور انہوں نے استاد اسلم اور پانچ دیگر ساتھیوں کے شہادت کی تصدیق کردی۔جس کے بعد خود کو دلاسہ دیتے رہے کہ شہید بالاچ مری، شہید نواب اکبر خان بگٹی، شہدائے مرگاپ سمیت ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور استاد بھی انہی میں اسے ایک تھاجو اپنی نظریئے پر قائم ریتے ہوئے ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔

میر جان بلوچ کے مزید مضامین:

بلوچ یوٹیوبر انیتا جلیل اور برطانوی خاتون ایوا سو بیک کی حقیقت

مستونگ دھماکے میں خون سے لت پت لاشیں بھی پنجابی میڈیا کا ضمیر جگانے میں ناکام رہے

سوشل میڈیا کی طاقت اور منقسم بلوچ کارکنان

استاد نے اپنی بہترین جنگی حکمتِ عملی، مہارت و قابلیت سے دشمن کو ایسے تکالیف پہنچائے تھے کہ دشمن کو استاد پر خود کش حملہ کرنا پڑا، کیونکہ استاد اسلم پر پہلے بھی حملے ہوچکے تھے جن میں دشمن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن دالبندین میں چینی انجیئنروں کے بس پر خودکش حملہ اور پھر کراچی میں چینی قونصلیٹ پرکامیاب حملے نے دشمن ملک پاکستان اور چین کو شدید پریشانی میں مبتلہ کردیا تھا۔ دونوں دشمن ریاستیں کسی بھی صورت اسلم بلوچ کوخاموش کرنا چاہتے تھے اور وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن سچ ہی کہا ہے کسی نے کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے،جس طرح نواب اکبر خان بگٹی، بالاچ مری، شہدائے مرگاپ سمیت ہزاروں بلوچوں کی شہادت کے باوجود تحریک ختم نہ ہوسکی تو شہید اسلم بلوچ اور انکے ساتھی سردارو عرف تاجو، کمانڈر کریم مری عرف رحیم بلوچ ، سنگت اختر بلو عرف رستم، سنگت فرید بلوچ اور سنگت صادق بلوچ کو شہید کر کے دشمن کیسے اس خوش فہمی میں مبتلہ رہہ سکتا ہے کہ بلوچ قومی نحریک کو اب کچل دیگا۔۔۔؟

اس بات سے قطعاََ انکار نہیں کیا جاسکتا کہ استاد اسلم کی شہادت سے ایک خلا پیدا ہوگئی ہے جسے پُر کرنے میں صدیاں  لگ سکتی ہیں، لیکن دشمن کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ شہید اسلم نے ایسے جانبازوں کی تربیت کی ہے جو آنے والے وقتوں میں دشمن قوتوں پر کاری ضرب لگانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑینگے۔

شہید اسلم نے اپنے فرزند ریحان بلوچ کو فدائیں حملے کے لیے تیار کیا اور ریحان بلوچ نے دالبندین میں چینی انجیئروں پر خودکش حملہ کر کے ریاستِ پاکستان اور چین کو پریشانی میں ڈال دیا تھا۔کیونکہ دشمن بخوبی جان چکا تھا کہ جو شخص اپنے ؒلختِ جگر کو فدائیں کے لیے تیار کرسکتا ہے تو وہ بہت کچھ کرسکتا ہے، اور کچھ ہی عرصے بعد استاد کا ایک اور نارکامہ پاکستانی و بین القوامی میڈیا میں زیرِ بحث رہا، جب بی ایل اے کے تین جانبازوں نے کراچی میں چینی سفارتخانے پر حملہ کیا اور تینوں جانبازوں نے جامِ شہادت نوش کیں۔

استاد اسلم کی جدائی قومی تحریک کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے لیکن ہمیں شہیدوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اور انکی دی ہوئی تربیت پر عمل کر کے دشمن پر ایسے ضرب لگانے ہونگے جسکی تکلیف اُسے سالوں تک محسوس ہو۔ ہمارے قومی رہنماوں اور کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ ہر وقت محتاط رہے، کیونکہ ہمارا دشمن طاقتور، چالاک و مکار ہے، محتاط رہتے ہوئے دشمن کی چالوں کو ناکام کیا جاسکتا ہے۔

تحریر: میر جان بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close