بلوچ ریپبلکن پارٹی کے لاپتہ کارکنان کے لواحقین بھی احتجاج میں شامل ہوگئے

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز)بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ کیئے گئے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے لاپتہ کارکنان نذیر احمد جمالدینی اور امیر محمد کے لواحقین بھی لاپتہ افراد کے کی بازیابی کےلیے احتجاج میں شامل ہوگئے۔

نظیر احمد جمالدینی کو28 جنوری 2016 پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے فورسز کے ہمراہ کوئٹہ میں اسکے گھر سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔ جبکہ دو سال سے زاہد عرصہ گزرنے کے باوجود اسے اب تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔

جبکہ امیر محمد بلوچ کو ریاستی فورسز نے نوشکی سے23 جولائی 2014 کو اغوا بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔ جبکہ نظراحمد اور امیر محمد دونوں ہی بے گناہ اور نہتے تھے جنہیں بلوچستان میں ریاستی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاستی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا بعد لاپتہ کردیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اکثر لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہیں، لوگ ڈرتے ہیں کہ احتجاج کرنے پر انکے پیاروں کو نقصان نا پہنچایا جائے۔ لیکن اب یہ روایت بدلتی نظر آرہی ہے، لاپتہ افراد کے کیمپ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تعداد بڑھتی جارہی ہےجو اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مزید رپورٹس:

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر اب تک پانچ لاکھ لوگ مارے جاچکے ہیں

افغانستان ایک عظیم فرزند اور بلوچ ایک عظیم دوست سے محروم ہوگئے

ڈیرہ بگٹی کے وسائل و مسائل 

بلوچستان میں 2002 میں شروع ہونے والے خونی فوجی آپریشن کے بعد سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں کو جبری طورپر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ ایک ہزار سے زاہد لاپتہ افراد کی تشدد زدہ مسخ شدہ لاشیں بھی مل چکی ہیں جنہیں دورانِ حراست شدید تشدد سے گزارنے کے بعد ریاستی فورسز نے قتل کیا۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کئی سالوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرتے آرہے  ہیں لیکن دوسری جانب ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکار اور ریاستی فورسز لاپتہ افراد سے مکمل لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ پورا بلوچستان اس حقیقت سے آشنا ہے کہ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں میں پاکستانی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔ کیونکہ لوگوں کے اغوا میں پاکستانی پیرا ملٹری فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے برائے راست شامل ہوتے ہیں۔

طاقتور عسکری اداروں کے سامنے ملکی عدلیہ اور دیگر انصاف کے ادارے مکمل بے بس نظر آتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں عسکری اداروں کا راج ہے جو جب چاہیں کسی کو بھی اُٹھالیں یا قتل کردیں، ان سے کوئی سوال کرنے والا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close