سماجی شخصیت کامریڈ واحد بلوچ کے اغوا کی مذمت کرتےہیں ۔بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچ لٹریری اور سماجی شخصیت کامریڈ واحد بلوچ کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان کی طرف سے بلوچ نسل کشی کی پالیسیاں عروج پر ہیں ۔ عام شخص سے لیکر تمام طبقہ فکر کے لوگوں کا اغوا و گمشدگی روز کا معمول بن چکا ہے۔ گزشتہ روز اندرون سندھ سفر کے دوران مشہور سماجی و ادبی شخصیت کامریڈ واحد بلوچ کو پاکستان خفیہ اداروں کے کارندوں نے مسافر وین سے اُتار کر اغوا کرکے لاپتہ کیا۔ کامریڈ واحد بلوچ کا اغوا شہید صبا دشتیاری، پروفیسر عبدالرزاق، حاجی رزاق، لالا حمید، استاد علی جان اور ماسڑنذیر مری جیسے ادبی ، صحافتی اور سیاسی استادوں کے قتل کا تسلسل ہے۔ کامریڈ واحد بلوچ صبادشتیاری کی قائم کردہ سید ہاشمی ریفرنس لائبریری بھی چلارہے تھے۔ اس لائبریری کے قیام ، ادبی اور سیاسی خدمات پر پروفیسر صبا دشتیاری کو پاکستان نے قتل کرکے بلوچ قوم کو پیغام دیا کہ بلوچ قوم پر علم و شعور کے دروازے بند کئے جارہے ہیں ۔ اب بھی تعلیم یافتہ بلوچوں کا اغوا و قتل جاری ہے۔ ہمیں خدشہ ہے دوسرے لاپتہ بلوچوں کی طرح انہیں بھی سالوں لاپتہ رکھا جائیگا یا مسخ شدہ لاش کی شکل میں کسی ویرانے میں پھینک دیا جائیگا۔ جیسے کہ کراچی میں بی این ایم کے مرکزی رہنما حاجی رزاق کو کئی مہینے لاپتہ رکھنے کے بعد قتل کرکے لاش کو اس طرح مسخ کیا گیا کہ اُن کی خاندان کو پہچاننے میں کئی گھنٹے لگے۔ ترجمان نے کہ اکہ اسی طرح آج گومازی میں ضامن ولد قیوم کو اغوا کیاگیا۔ 23 جولائی کو دشت کپکپار سے اقبال ولد اسماعیل، صدام ولد مبارک اور جلال ولد غلام محمد کو بھی پاکستانی فوج نے اُٹھا کر لاپتہ کیا ہے، جن کا تاحال کوئی خبر نہیں ۔ 27 جولائی کو ڈیرہ بگٹی سے تین افراد کو اُٹھا نے کا صوبائی حکومت نے خود اعتراف کیا مگر ابھی تک نہ نام ظاہر کئے اور نہ انہیں منظر عام پر لایا ہے۔ 22 جولائی کو چودہ سالہ معصوم بچہ توکل ولد رسول بخش کو بل نگور کیچ سے اور ایک اور کمسن طالب علم حامد ولد اسماعیل کو دشت سے اور دشت کپکپار سے اسی دن حامد ولد الیا س کو بھی پاکستانی فورسز نے اغوا کیا، جو تمام انسانی، جنگی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے اور مہذب ممالک بلوچستان میں پاکستان کی جانب سے بلوچ نسل کشی کے خلاف آواز اُٹھا کر اپنا فرض نبھائیں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close