فرانکن انسٹائن مونسٹر

خلاصہ وتبصرہ: جوان بلوچ

حوالہ:
فرانک انسٹائن مونسٹر، سائنس فیکشن کہانیوں وناول میں نہایت مقبول وعالمی شہرت یافتہ کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی کی مصنفہ میری شہلے (Mary Shelley) نامی ناول نگارہ ہے کہ جنہوں نے یہ کہانی 19 سال کی عمر میں لکھی۔ اس ناول کا بنیادی پیرائن ان خطوط پر مشتمل ہے کہ جسے کہانی میں پیش کردہ مختلف کرداروں نے تحریر کیا۔ سائنس فیکشن کی بنیاد پر تحریر کردہ یہ کہانی قطعاََ سائنس یا نئے تجربات کے خلاف نہیں بلکہ اس کہانی کا مقصد کسی تجربے کی پیشگی نتائج سے مطلع ہونے کا درس دیتے ممکنہ نتائج کی مناسبت سے احتیاط کا سبق پہنچانا ہے جبکہ اس ناول کے سبق آموز داستان کو سیاسیات میں مختلف چیزیوں کی توضیع وتشریح کیلئے بھی کافی استعمال کیا جاتا ہے جسکے متعلق تفصیلی بحث مضمون کے آخر میں کی گئی ہے اور یقیناًجسے پڑھنے کا لطف اس ناول کے بیان کردہ خلاصے کو پڑھنے کے بعد ہی میسر ہوگا۔

خلاصہِ ناول:
وکٹرفرانک انسٹائن نامی ایک شخص کہ جسے سائنس میں کافی دلچسپی تھی وہ اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کی غرض سے جینوا سے انگیسارڈ چلاجاتا ہے کہ جہاں وہ اپنے ذہن میں عجیب خیالات بسائے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے بعض پروفیسرز کی رہنمائی میں مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے کہ جس کی بدولت ان گنت سوالات اس کے ذہن میں جنم لیتے ہیں۔ جیسے وہ انسان کی پیدائش کے متعلق سوچتاہے۔ اس کی زندگی اور موت یا جیسے یہ سوچنا کہ زندگی کیسے پیدا ہوتی ہے؟ کیا واقعتا زندگی کو پیدا کیا جاسکتا ہے کہ نہیں؟
ان تمام سوالات کے جوابات کے ساتھ ساتھ خود زندگی کو تخلیق کرنے کی خواہش اس کے دل میں گھر کر جاتی ہے اور وہ اپنے اس مقصد کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے اپنے گھر میں ایک تجربہ گاہ بھی قائم کرجاتا ہے کہ جہاں وہ دنیا ومافیا سے بے خبر رہتے رات دن نت نئے تجربات کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں وہ قبرستان سے مردوں کے مختلف اعضاء کو یکجا کرتا، ان پرتجربات کرتا ہے اور سارا دن یونہی اپنی تجربہ گاہ میں خون ومردہ اعضاء کی بدبو کے درمیان مگن رہتا ہے۔ بریک رگوں کو ایک دوسرے سے ملانا، ہڈیوں کو جوڑنا اور جسم میں دوبارہ سے خون بھرنا ونکالنا وغیرہ اس کے تجربات کا حصہ رہتی ہیں۔
وہ ان تجربات کی انجام دہی میں اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر اس کی تخلیقی جسامت میں بڑی ہو تو وہ نہ صرف اس پر باآسانی کام کرسکے گا بلکہ ما بعدِ زندگی اس طاقتور و جسیم جسم سے کوئی بھی کام لینا سہل ہوگا لہٰذا وہ اپنے تجربے میں حجم کے اعتبار سے بڑے اعضاؤں کو ہی استعمال کرتا ہے اور اس دیوقامت جسم کو زندگی دینے کے اپنے تجربے میں مشغول ہوجاتا ہے۔
مدت گزرنے پر اسے بالآخر کامیابی مل ہی جاتی ہے اور موت کو شکست دینے وقدرت کے رازوں کا پردہ چاک کرنے کی غرض سے تخلیق کردہ اس کی مخلوق جب زندگی حاصل کرتے اس کے سامنے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ اپنی تخلیق کی دہشت و بدصورتی دیکھتے خود ڈر سا جاتا ہے اور حواس باختہ ہوئے اُس سے دور بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ ایسی ناگہانی صورتحال کو دیکھتے انسان نما وہ عجیب الخلقت مخلوق (monster) بھی تجربہ گاہ کے دروازے تھوڑتا بھاگ نکلتا ہے۔
عرصہ بعد اس سائنسدان کو ایک خط موصول ہوتا ہے کہ جس میں اسے اس کے بھائی کے قتل ہوجانے کی خبر دی جاتی ہے کہ جس کا الزام گھر میں کام کرنے والی اک لڑکی پر ہوتا ہے جسے اس اقدام جرم میں پھانسی مل چکی ہوتی ہے۔ واپس گھر لوٹتے یہ سائنسدان (فرانک انسٹائن) ایک دن یونہی اپنے بھائیکے قتل پر غم زدہ ہوئے کھلے میدان میں گھوم رہا ہوتا ہے کہ اسے اچانک اس کی اپنی تخلیق کردہ وہ بدصورت وبھیانک مخلوق دیکھ جاتی ہے جو اس کے پاس آتے اسے کہتی ہے کہ ’’ساری دنیا میری بدصورتی کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرتی ہے جس کے باعث میں سنسان جگہوں پر رہنے پر مجبور ہوں کہ جہاں سخت سردی وخوراک کی قلت کے باعث مجھے مصیبتوں کا سامنا ہے۔ میں نے زندگی کے طور طریقے انسانوں سے سیکھنے کے غرض میں ان کی قربت چاہی مگر مجھے میری بدصورتی ودیوہیکل جسامت کے باعث نفرت سے دھتکارا گیا۔ سب ہی مجھ سے ڈر کے مارے دور بھاگنا چاہتے ہیں۔ اس دوران میں نے ایک اندھے سے دوستی بھی کی اور اسی نے ہی مجھے زندہ رہنے کے طور طریقے سیکھائے اور یہ احساس بھی دلایا کہ محبت سے دنیا اور بھی حسین ہوجاتی ہے۔ مگر وہاں بھی کچھ لوگوں نے مجھے دیکھتے مجھ پر گولیاں چلائی لہٰذا میں وہاں سے بھاگتا یہاں تمہارے اس آبائی شہر آ پہنچا کہ جہاں میں نے ایک بچے کو دیکھا کہ جس نے میری دہشت سے ڈرتے چلاناؔ شروع کیا کہ میرا بھائی فرانک انسٹائن تمہیں ماردے گا۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے انسانوں سے دھتکارے جانے کے برخلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے اسے قتل کردیا کیونکہ میں جان چکا تھا کہ وہ تمہارا بھائی ہے۔ اس انسان کا کہ جس کے باعث مجھے اتنا کرب برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اس کی گردن میں موجود لاکٹ کو میں نے اتارتے گھر میں موجود ایک عورت کے پاس رکھ دیا کہ جسے میری منشاء کے مطابق قتل کے شبے میں پھانسی دے دی گئی۔ اگر انسان مجھ سے نفرت کرتا ہے تو یہ اس کا بدلا تھا۔ تم نے ہی مجھے بنایا اور اب تم ہی میری اس تنہائی کے خاتمے کیلئے میری جیسی ایک عورت تخلیق کرو وگرنہ جتنی تکلیف مجھے پہنچے گی میں تمہیں وہ سب لوٹا دونگا اور ایک ایک کرتے تمہارے پورے خاندان کو ختم کرونگا۔‘‘
فرانک انسٹائن اس بدنما مخلوق کی ایسی خواہش اور خود کو اپنے بھائی وگھر میں کام کرنے والی ملازمہ کے قتل کا ذمہ دار محسوس کرتے طیش میں آجاتا ہے۔ بعد ازاں وہ پریشان رہتے اس پوری کہانی کا احوال اپنے ایک قریبی دوست کو سناتا ہے کہ جس پر اس کا دوست نہ صرف اسے ملامت کرتا ہے بلکہ آئندہ ایسے مزید تجربات کرنے سے بھی منع کرتے یہ دلیل دیتا ہے کہ اس طرح کرتے اس مخلوق کی نسلبرھتے ان کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے کہ جس پر پوری انسانیت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس بحث کے دوران ہی وہ درندہ صفت مخلوق آپہنچتے فرانک انسٹائن کے دوست کا قتل کردیتا ہے اور فرانک انسٹائن کو دھمکاتے کہتا ہے کہ ’’میں تمہیں اس لئے نہیں مارونگا تاکہ تم زندہ رھو اور اپنے لوگوں کی موت دیکھتے تکلیف میں رہو۔‘‘
مدتوں اپنی خواہش کی عدم تکمیل سے دلبرداشتہ ہوئے یہ بھیانک مخلوق فرانک انسٹائن کی نئی نویلی دلہن کو بھی موت کی گھاٹ اتار دیتا ہے، جسکے صدمے سے فرانک انسٹائن کا والد حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث وفات کرجاتا ہے۔ یہ سب سہتے وہ خود بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے پاگل خانے میں داخل ہوجانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس بیچ وہ یہ کوششیں کرتا ہے کہ قانون کی مدد لی جائے۔ جس پر وہ ساری داستان پولیس کو سناتا ہے مگر پولیس اسے فاتر العقل سمجھتے اس کی سنی اَن سنی کرجاتے ہیں۔ مایوس ہوا فرانک انسٹائن خود اپنی موت تلاشتے اس بدنما مخلوق کی تلاش کرنے نکل جاتا ہے۔
اس کہانی کے اواخر میں دکھایا گیا ہے کہ فرانک انسٹائن اس بدنما مخلوق کی تلاش میں دنیاجہاں سرگرداں رہتا ہے جبکہ وہ بھیانک مخلوق ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے فرانک انسٹائن کو اس کی تلاش کیلئے آگے کسی سفر میں آنے کا اشتعال دلاتا رہتا ہے اور بالآخر فرانک انسائن خود اپنی تخلیق کی تلاش میں سرگرداں رہتے موت کی آغوش میں چھپ کر خود اپنے ہی پیدا کردہ عذاب سے ناتواں ہوئے چھٹکارا پاتا ہے۔

تبصرہ:
میرے خیال سے اس کہانی کو محض سائنس فیکشن ناول سمجھتے اسے جدید ادب کی ایک اعلیٰ تخلیق کہہ دینا اس تخلیق کے خالق سے انصاف کرنا نہیں اور اگر ہم بادل نخواستہ اسے محض فیکشن کے تناظر میں ہی دیکھیں تو شاید اسے ہم اس معیار کی تخلیق ہی نہ کہیں کہ جس پر ایسی بحث کی جاسکے مگرچونکہ یہ کہانی محض فیکشن نہیں بلکہ ایک ایسی تخلیق ہے کہ جس نے سیاسیات میں بیان کردہ ایک انتہائی پیچیدہ طرزِ حکمرانی کو بیان کرتے ایک تمثیل مہیا کی ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس کہانی کو پڑھتے اس میں پنہاں سیاسی فلسفے کو سمجھنے کی کوششیں کی جائے کہ جسے اس حد تک تشبہیانہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک طفل کیلئے بھی اسے سمجھنا مشکل نہیں اور کسی علم کو یوں آسان کردینے کا جوہر ہی اس تخلیق میں واضح ہے۔
جب آپ اس کہانی کو پڑھتے ہیں تو نہایت آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ قدرت وفطرت کے قوانین میں مداخلت بالآخر اذیت یا نقصان کی صورت زندگی کو اجیرن کرجاتی ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ہم بقاء زندگی کی خاطر یکجہتی واتحاد کو انسانی فطرت کہتے معاشرے کی تشکیل کو فطری کہیں اور علم سیاست کو اپنی بقاء کی اس کامیاب سفر کی داستان سمجھیں جو ہمارے تجربات کا مدو جُز ہے تو اس میں ردوبدل یا مداخلت کرنے والی کسی بھی طاقت کو ہم تمثلی رنگ میں بیان کرتے اس ناول کے اُسی کردار سے مشابہت دے سکتے ہیں کہ جس نے قدرت کے قوانین کی نفی کی اور جسے اس ناول میں ’’فرانک انسٹائن مونسٹر‘‘ کہا گیا۔
فرانک انسٹائن مونسٹر (Frankenstein Monster) جیسی اصطلاح کا سیاست میں خاص استعمال کیا جاتا ہے اور میرے مطابق اس اصطلاح کے استعمال کی شروعات اس وقت ہوئی ہوگی جب استعماری طاقتوں نے بظاہر مہذب رہتے اپنی ساخت بچانے کیلئے مجرموں کے گٹھ جوڑ سے قانون کے دائرے کار سے باہر رہتے بھی عام عوام یا قوموں کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس مد میں انہوں نے انسانی معاشرے میں موجود ایسے جرائم پیشہ گروہوں کو طاقت بخشی جو بنا کسی نظریے کے محض پیسوں کی خاطر جرم کرنے کو ہی اپنا پیشہ بنا چکے ہوں تاکہ ان جیسے مونسٹرز کو فطری تقاضوں کے ہم آہنگ کسی قومی جدوجہد کے برخلاف بنا کسی اخلاقی جواز وقانونی پیچیدگیوں کے استعمال کیا جاسکے۔کراچی، میرپورخاص(وال کٹ) یا جھالاوان میں پاکستانی سرپرستی میں پروان چڑھائے جانے والے سرکاری گینگ ایسے ہی بدنما مخلوق کی طرح ہیں کہ جنہیں کسی قوم کے فطری حق یعنی آزادی کے حصول سے روکنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ جیسے ناول میں تمثلی انداز اختیار کرتے موت جیسی فطری عمل کو روکنے کیلئے ایک سائنسدان کو ایک بھیانک مخلوق تخلیق کرتے دکھایا گیا ہے۔
اس کہانی کو اگر بغور پڑھتے اس میں استعمال تشبہیات کو سمجھنے کی کوششیں کی جائیں تو بلوچستان سمیت ہر بلوچ اکثریتی علاقے میں سرگرم عمل ہر خلاف قانون آزادی مخالف گروہ کے وجود کی حقیقت کے ساتھ اس کی مجموعی نفسیات و خواہشات کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں ہم کراچی میں موجود، وہاں کہ ایک گروہ کہ جس نے حالیہ وقتوں بااعلان یہ قبول کیا کہ اس کی تخلیق کی وجہ خود پاکستانی سیاست کا ڈھانچہ ہے کہ جس کے بنیادی ستون پاکستانی خفیہ اداروں کے کندھوں میں پیوست ہیں۔ اس گروہ نے باقاعدہ میڈیا پر آتے یہ اعتراف کیا کہ انہیں اسلحہ وطاقت بخشنے کی وجہ حکومت مخالف قوتوں کو روکنا تھا۔گو کہ وہ ایسا اقرار اصولی طور سے خود سیاست کرنے کی اپنی خواہش کے زیر اثر کرتے ہیں مگر اس اعتراف جرم سے یہ انکشاف ہوجاتا ہے کہ پاکستان اُن استحصالی ممالک میں سے ایک ہے کہ جہاں علمِ سیاست کے فطری قانون کے تحت حق مخالفت کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے مجرموں کی صورت بدنما مخلوق (monsters) تخلیق کیئے جاتے ہیں کہ جنہیں طاقت بخشتے مظلوم اقوام کو اپنے قومی جدوجہد سے دستبردار ہونے کیلئے باخلاف فطرت آمادہ کیا جاتا ہے۔
اس کہانی اور تفویض کردہ ہماری مثالوں میں ایک اہم مماثلت یہ بھی ہے کہ ناول نگار نے اپنے اس پورے ناول میں اس بھیانک مخلوق کو کوئی نام نہیں دیا اور پوری کہانی میں اسے محض تخلیق کار کی ایک تخلیق بتاتے ظاہر کیا، بالکل اسی طرح بلوچستان سمیت تمام بلوچ اکثریتی علاقوں میں بلوچ قومی جدوجہد کے مقابل پیدا کردہ گروہوں کے بھی کوئی ایسے نام نہیں کہ جن سے ان کی مجموعی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ ہم دیکھتے آئے ہیں کہ یہ گروہ بیک وقت خود کو مذہبی وپاکستانی کہتے ہیں تو کبھی خود کو قوم پرست وانقلابی تک ظاہر کرجاتے ہیں۔ مگر اپنی شناخت کے حوالے سے اس دھوکہ دہی وفریب کے پسِ پشت انسانی نفسیات کی یہی سوچ کارفرما ہے کہ لوگ بھیانک چیزوں کو ’’بانام‘‘ جاننے کے عادی نہیں اور چونکہ یہ ’’برائی‘‘ ہمارے سماج میں اپنی گہری جڑیں نہیں رکھتا اور اسے بیرونی قوتوں نے تخلیق کیا، بالکل ایسا ہی کچھ ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ جہاں مختلف انسانوں کے اعضاؤں سے تیار کردہ کسی مردہ جسم کو طاقتور دیو کی صورت اس مقصد کیلئے تخلیق کیا جاتا ہے کہ وہ فطری خواہشات وقوانین میں تبدیلی لائے۔
اس کہانی کا اہم نقطہ تخلیق کردہ بھیانک مخلوق کا زندگی وطاقت پاتے انسانی خواہشات کی تکمیل کرنا ہے۔ جسے ہم اپنے سماج میں دیکھ بھی سکتے ہیں کہ کیسے کراچی میں گینگ کی صورت قائم کردہ گروہ آج وہاں سیاست میں آتے سماج میں قبولیت کی اپنی خواہش کااظہار کررہے ہیں جبکہ ان کے اپنے تخلیق کار ہی ان کی ایسی انسانی خواہش کا بنا احترام کیئے خود ان سے ہی دست وگریباں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تخلیق کا مقصد انہیں پُرتشدد بناتے لوگوں کے سامنے خوفناک بنانا تھا تاکہ لوگ اپنے حقوق کے متعلق سوچتے بھی خوفزدہ رہیں نہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ رہتے ان کا حصہ بن جائیں اور اس کے لئے انہوں نے اپنی تخلیق کی اختراع بھی اسی انداز میں کی۔ انہیں جان بوجھ کر اتنا بدصورت کردیا گیا کہ اگر وہ چاہیں بھی تو سماج میں ان کی اپنائیت ممکن نہ ہوپائے۔ خواہشات واحکامات کے بیچ کشمکش کو ہم کہانی اور حقیقی زندگی دنوں میں ہی جھگڑے کی صورت دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ کہانی میں سائنسدان کی تخلیق کردہ مخلوق کا زندگی پاتے اپنی خواہش کی عدم تکمیل پر سائنسدان کی زندگی تباہ وبرباد کرنا اور بالکل اسی طرح پاکستان کے پیدا کردہ مونسٹرز کا اپنی خواہشات کے زیرِ اثر اپنے حدود سے تجاوز کرنا۔ حالیہ دنوں ایسے بیاناتواعترافات کا تمام اخباروں میں تذکرہ ہوا کہ جس میں یہ مانا گیا کہ بلوچ مزاحمت کے خاتمے کیلئے پیدا کردہ گروہ اب بلوچستان بھر میں اغواء برائے تاوان خصوصاََ ہندو تاجروں کے اغواء یا بھتہ خوری جیسے سنگین نوعیت کے جرموں میں ملوث ہوئے خود طاقت بننے کی خواہش کے زیراثر رفتہ رفتہ حکومتی مفادات کو بھی زچ کررہے ہیں۔ ایسے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلوچ سماج میں پیدا کردہ ان بھیانک مخلوقات کا خود ان کے ہی خالق سے دست وگریباں ہوجانا واجب ہے۔اس زمرے ہم اگر اپنی سوچ کا کینوس(Canvas) مزید بڑھائیں تو سرد جنگ میں سوویت روس کے خلاف امریکی عنایت کردہ ان مذہبی قوتوں کو بھی اپنے کینوس میں لایا جاسکتا ہے کہ جنہوں نے سوویت روس کو افغانستان میں پسپا کرنے کے بعد خود کو طاقت کا سرچشمہ جانتے افغان سرزمین کی ریاستی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لیتے امریکی سے دشمنی اختیار کی کہ جس کی قیمت ہر حوالے سے پاکستان کو بھی چُکاناپڑی۔ اب یہاں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آیا مغرب کہ جہاں 1818ء میں میری شہلے جیسے ناول نگار 19 سال کی عمر میں ہی ایسے سیاسی تدبیروں کے نتائج کو سادہ لفظوں میں کہانی کی صورت بیان کرنے کی قابلیت رکھتی تھی تو کیا اُس معاشرے کے سیاسی سائنسدان اپنی ایسی تدبیروں و جنگی حکمت عملیوں کے فطری رد عمل سے بے بہرہ تھے؟کیا انہیں اتنا بھی اندازہ نہ تھا کہ سوویت روس کو پسپا کرنے کی خاطر مذہبی جنونیت و خطے میں جدید اسلحے کی وافر مقدار میں فراوانی کے پاکستان پر کیا اثرات ہونگے اور کس طرح یہ طاقت جنگ کے بعد مرتکز ہوتے خود اُن کیلئے کیسی مشکلات پیدا کرپائینگے؟ یا یہ تمام کچھ جو سرد جنگ سے اب تک ہوتا آیا ہے وہ تمام سوویت روس کے پسپا کئے جانے کے بعد خطے میں کسی بڑی تبدیلی کے منصوبے کی خاطر پاکستان جیسی ریاست کو کمزور کرنے کی ایک طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے کہ جس منصوبے میں شامل تمام کے تمام مونسٹرز اُسی طاقت کے اندازہ کردہ سلوکCalculated behaviour and response کے تحت آج عمل کرتے، نہ چاہتے ہوئے بھی اُسی کے طے کردہ منصوبے کی انجامدہی میں اپنا طے شدہ کردار ادا کررہے ہیں کہ جس فرانک انسٹائن جیسے سائنسدان (طاقت)نے خود 1948ء میں انقلاب کو مردہ باد کرنے کیلئے پاکستان جیسا (Hulk or Giant Monster) ’’دیومونسٹر‘‘ تخلیق کیا۔اگر یہ تجزیہ حقائق کے قریب ہے تو ہمیں دنیا کو جلد یہ واضح کرنا ہوگا کہ اپنی قومی جدوجہد کو اِن مونسٹرز کی موجودگی میں بھی جاری رکھنے کا دم خم رکھتے بحیثیت قوم ہم بلوچوں کو متوقع بڑی تبدیلی میں دنیا کے تمام فرانکِ انسٹائنوں سے اپنے لئے کیا توقعات ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close