انسانی حقوق کے ادارے اورا قوام متحدہ کے نمائندوں پر مبنی کمیٹی تشکیل دی جائے. نصراللہ بلوچ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ،انسانی حقوق کے ادارے اورا قوام متحدہ کے نمائندوں پر مبنی ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ،بے دخل کردہ لوگوں،بے شمار اجتماعی قبروں ،لاپتہ افراد کے حوالے زمینی حقائق کو سامنے لائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کا فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونا روز کا معمول بن چکا ہے۔اب تک ہزاروں بلوچ لاپتہ کیے گئے ہیں، ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو 28 جون کو 7سال مکمل ہوئے ہیں ،انھیں2009 میں خضدارکے ڈسٹرکٹ اورناچ میں دوران ڈیوٹی اغوا کیا گیاجہاں وہ ایک میڈیکل ایم بی بی ایس آفیسرانچارج تھا،جسکے ثبوت عدالتوں میں پیش کیے گئے،لیکن افسوس بلوچ کا مسئلہ تو یہاں بالکل نظرانداز رہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ تمام انسانی حقوق کے اداروں و عدالتوں میں فریاد کے باجود اب تک ڈاکٹر دین محمد سمیت ہزاروں اسیران کا کوئی پتہ نہیں،جس طرح توتک اجتماعی قبروں کی دریافت ہوئی اور اسے اداروں کے ذمہ داروں نے چھپا دیا، اور ہمارے لاکھ احتجاج کے باوجود میڈیا اورنہ کسی انسانی حقوق کے ا دارے نے مذکورہ علاقے تک رسائی ملی۔اسی طرح خضدار اور زہری کے علاقوں میں بھی اجتماعی قبروں کی دریافت کاانکشاف ہوامگر ایک بار پھر انھیں منظر عام پر لانے نہیں دیا گیا۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ہر فورم پر اسیران کی بازیابی کے لیے آواز اُٹھایا،ریاست کی مقامی اور اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا ماسوائے تسلیوں ،دھمکیوں اور ایجنٹ کے القابات کے سوا کچھ نہیں ملا انہوں نے کہا ہے کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز خالصتا غیر سیاسی ادارہ ہے جو گمشدہ اورماورائے عدالت قتل کئے گئے بلوچوں کے لواحقین کا نمائندہ تنظیم ہے،بلوچستان میں جاری ظلم و جبری گمشدگیوں کے خلاف ہر فورم سمیت عدالتوں سے ہم نے رجوع کیا ،آج بھی سینکڑوں کیسززیرالتواء ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہم سپریم کورٹ ،انسانی حقوق کے ادارے اور قوام متحدہ کے نمائندوں پر مبنی ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جو بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے اداروں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ،بے دخل کردہ لوگوں،بے شمار اجتماعی قبروں ،حراستی قتل عام اور لاپتہ افراد کے حوالے زمینی حقائق کو سامنے لائیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close