ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی مہلب اور سمّی بلوچ کی کراچی میں پریس کانفرنس

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی اغواء نما گرفتاری کو سات سال مکمل ہونے پر انکی بیٹی سمّی بلوچ اور مہلب بلوچ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر محمد بلوچ کی اغواء نما گرفتاری کو آج 7سال کا طویل عرصہ مکمل ہو گیا ہے۔ انہیں 28جون 2009کو خضدار کے علاقے اورناچ میں انکے دفتر سے فورسز کے اہلکاروں نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ میرے والد ایک میڈیکل آفیسر ہیں جسے ڈیوٹی کے دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اُٹھا کر لاپتہ کردیا۔ والد کی اغواء کا ایف آئی آر ہم نے اورناچ تھانے میں درج کی، بلوچستان ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کروائی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی والد کی بازیابی کے لئے حاضری دیتے رہے، لیکن اس کے باوجود7سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی والد کی سلامتی و زندگی کے حوالے سے ہمیں کوئی خبر نہیں ملی ہے۔اپنے والد کے انتظار اور اُنکے عدم بازیابی کی وجہ سے ہم کس طرح کی صورت حال و پریشانیوں کا شکار ہیں اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم پچھلے سات سالوں سے پریس کلبوں کے سامنے اپنے بابا کی بازیابی کے لئے اُن کی تصویر لئے بیٹھی ہوئی ہیں۔ چھوٹی بچی مہلب کا اسکولوں اور اپنے دیگر ہم عمروں کی طرح گھروں میں پرورش پانے کے بجائے اسکی بچپن پریس کلبوں میں احتجاج کرتے اور والد کی بازیابی کی امید لگانے میں گزررہی ہے۔ہماری تعلیم پچھلے سات سالوں سے متاثر ہے۔ گھر میں ایک مستقل پریشانی کی ماحول میں نہ ہم سکون سے پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔لاپتہ افراد کے لاشوں کی برآمدگی کی خبریں ہم سمیت تمام لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں۔سمّی بلوچ نے کہا کہ ایسے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ میں اور مہلب نے احتجاج میں شرکت کیا ہے کہ بعد میں ان کے پیاروں کی مسخ شدہ ا ور گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ انسانی جزبے سے عاری لوگوں کے لئے ایسی باتیں شاید کوئی معنی نہ رکھتے ہوں لیکن ہمارے لئے یا لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے مسخ شدہ لاش کی برآمدگی کی خبر رونگھٹے کھڑے کردینے والی باتیں ہیں ۔اپنے والد کی انتظار میں 7سال ہم نے کس پریشانی و مصیبت میں گزارے ہیں اس کا احساس ہمارے علاوہ شاید ہی کسی کو ہو۔ کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی تکلیف بھی میری اس تکلیف کے سامنے کچھ نہیں جب میں اپنے والد کی یاد میں اپنے خاندان کے لوگوں کو آنسو بہاتے دیکھ کر محسوس کرتا ہوں۔ 7سالوں میں ہم نے ہائی کورٹ و سپریم کورٹ تک کا دروازہ بھی کھٹکٹایا، لیکن تما م اداروں سے مایوسی و نا امیدی کے سوا ہمیں کچھ نہیں ملا۔لیکن ہم اپنے والد کی بازیابی کی امید سے کیسے دستبردار ہو سکتے ہیں؟ دن کے چوبیس گھنٹوں میں ہم اپنے والد کے بارے میں ، ان کی زندگی و سلامتی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ ایک شخص کو لاپتہ کرکے سیکیورٹی کے ادارے صرف ایک شخص کو سزا نہیں دے رہے ہیں بلکہ وہ پورے خاندان کو عذاب میں مبتلا کررہے ہیں۔زاکر مجید کی بہن فرزانہ مجید، زاہد بلوچ کی اہلیہ، رمضان بلوچ کے خاندان، غفور بلوچ ، ڈاکٹر اکبرمری سمیت سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے اپنی روزانہ کی سرگرمیاں چھوڑ کر احتجاج میں مصروف ہیں، لیکن نہ کوئی مقامی انسانی حقوق کی تنظیم اس جانب متوجہ ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی توسط سے اقوام متحدہ و دیگر مہذب ریاستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے لاپتہ کیے ہوئے میرے والد سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ کیوں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں بھی لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عدلیہ نہ صرف بے بس ہے بلکہ بے حس بھی ہے۔ وہ اس طرح کے مسئلوں کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سات سالوں سے مختلف عدالتوں کا چکر لگا کر ہم نے تمام ذرائع آزمائے ہیں لیکن ہمیں صرف مایوسی ہی ملا ہے۔ لیکن ہم کیسے اپنے والد کی بازیابی کی امید سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اپنا والد صحیح و سلامت چاہیے۔ اگر میرے والد سمیت کسی لاپتہ فرد سے کوئی غیر قانونی سرگرمی ہوا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے ریاستی قوانین کے مطابق سزا دیا جائے۔ لیکن اس طرح سالوں سے کسی شخص کو لاپتہ رکھ کر انسانیت کی تذلیل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی آرٹیکل نمبر پانچ تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ کسی شخص پر تشدد نہیں کرسکتے۔ لیکن پاکستان اقوام متحدہ کا ممبر ملک ہوتے ہوئے بھی نہ صرف لوگوں پر تشدد کررہا ہے بلکہ جبری گمشدگی جیسے واقعات تسلسل کے ساتھ فورسز کے ہاتھوں رونما ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ میڈیا نمائندے لاپتہ افراد کے مسئلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوا م متحدہ تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں گے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ صرف لاپتہ افراد کے خاندانوں کے لئے باعث پریشانی نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے لاپتہ ہونے کا تصور اذیت ناک ہے۔ اس اذیت سے لوگوں کو نکالنے کے لئے کسی قومیت سے تعلق سے بالاتر ہو کر تما م انسان دوست لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close