ریاست بلوچوں کو بے دخل کر کے بلوچستان کے وسائل پر قبضہ جماناچاہتا ہے۔ بلوچ رہنما ء حیر بیار مری

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ قوم دوست رہنماء حیربیار مری نے کہا ہے کہ ریاست نے سی پیک کی کامیابی اور بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور بلوچستان سے بے دخل کرنے کے لیے پورے بلوچستان میں ظلم وجبر کا بازار گرم کر رکھا ہے آئے روزفورسز بلوچستان کے دور دراز دیہی علاقوں اور گوادر پورٹ کے قریب واقع علاقوں میں ہیلی کاپٹروں اور بھاری مشینری سے بمباری کر رہی ہیں جس کا مقصد بلوچ قوم کو وہاں سے بے دخل کرنا اور بلوچ سرزمین کو ہتھیانے اور وسائل پر قبضہ جمانا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن سے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا حیربیار مری نے کہا کہ اس و قت بھاری تعدا د میں دیہی علاقوں میں آباد بلوچ خواتین، بچے اور بزرگ فورسز کی بمباری سے متاثر ہور ہے ہیں خاص کر گزشتہ دنوں دشت زرین بگ اور بل نگور کے علاقوں میں لوگوں کو اپنے آبائی علاقوں سے نکل مکانی کرنے پر مجبور کیاجارہا ہے جیسے کہ اس سے پہلے مشرف دور میں ڈیرہ بگٹی اور کوہستان مری سے لوگوں کو قتل اور اغواء کر نے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادیوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے بے دخل کیا گیا اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انتہائی درجے پر کارروائی کی جارہی ہے تاکہ لوگوں کو وہاں سے نکال کران کی زمین ہتھیا کر اقتصادی راہداری کو کامیاب کرنے کے بعد پنجاب اور چین سے لوگوں کو لاکرآباد کر کے بلوچستان پر دائمی قبضہ جمایا جا سکے اس کی تازہ مثال دشت اور تربت کے علاقوں میں ریاستی ظلم و جبر اور لوگوں کی وہاں سے جبری بے دخلی ہے اس طرح کے جارحانہ عزائم کے خلاف بلوچ قوم کے ہر فرد کو انفرادی حوالے سے علاقے چھوڑ کر جانے کے بجائے ہمیں اجتماعی قومی حوالے سے اس طرح کے مسئلوں کو لیکر ان کو نمٹانا چائیے کیونکہ یہ ایک انفرادی ،خاندانی اور علاقائی مسلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے مختلف علاقوں میں ہر فرد اور خاندان کو ایک ایک کرکے مرحلہ وار بلوچ سرزمین سے بے دخل کرنے کا منصوبہ جس پر ریاست کہیں دہائیوں سے عمل پیرا ہے وہ ہماری قومی وجود کے لیے براہ راست خطرہ ہے پہلے بھی آبادیوں کو نسل کشی اور علاقوں کو مہینوں تک محاصرہ کرکے یہ حالات پیدا کیے گئے کہ بلوچ عوام اپنی سرزمین کو چھوڑ کر بلوچستان سے باہر منتقل ہوں ناصرف بلوچ عوام کو ان کے علاقوں سے نکال باہر کیا گیا بلکہ دنیا کی امیر ترین سرزمین کے فرزند ہوتے ہوئے بھی آج بھی وہ مہا جرین کی طرح زندگی گزار رہے ہیں بلوچ رہنماء نے کہا کہ جس کسی بھی دیہی علاقے میں فورسز اگرمزید کارروائی کرے گی توبلوچ عوام کے پاس اپنی زندگی بجانے کے لیے سوائے نکل مکانے کے کوئی اور راستہ نہیں تب اس صورت میں بلوچ عوام، بلوچستان سے باہر منتقل ہونے کے بجائے بلوچستان میں موجود بڑے شہروں جیسے کہ شال، گوادر، تربت، خضدار ، سبی اور قلات وغیرہ میں جاکر آباد یوں دور دراز علاقوں میں جہاں انسانی آبادی کم ہے وہاں پرریاست طاقت کا استعمال شہروں کے مقابلہ زیادہ کررہا ہے حیربیار مری نے کہا کہ جو بھی بلوچ فورسز کے ظلم و جبر سے بے دخل ہو کر سندھ اور پنجاب میں شامل کئے گئے بلوچ علاقوں میں گئے وہ بھی کوشش کر یں کہ واپس آکر بلوچستان کے بڑے شہروں میں آباد ہوں تاکہ بلوچ اپنی سرزمین پر اقلیت نہ بنیں لاکھوں کی تعداد میں بلوچ جو بلوچستان چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ گزین ہیں وہ بلوچستان سے باہر منتقل ہوکر بھی ریاستی بربریت کا شکار ہیں جس کی واضح مثال چند مہینے قبل ریاست کی طرف سے خیرپور میں بے گھر بلوچ آبادیوں پر حملہ کرنا ہے بلوچ کو اپنی سرزمین پر اقلیت بننے سے روکھنے کے لیے بلوچ قوم کو اپنی مدد آپ کے تحت ریاستی ظلم کے شکار نکل مکانی کرنے والے لوگوں کی مدد او ر ان کی شہری علاقوں میں آباد کاری کرنی ہوگی حیربیار مری نے کہا کہ ایسے حالات میں بلوچ سرمایہ دار، کاروباری ، سماجی شخصیات اور بیرونی ممالک میں صاحب زر اور مالدار افراد متاثرہ بلوچوں کو بلوچستان کے شہری علاقوں میں آباد کاری کرنے میں مدد کریں جس طرح دوسروں اقوام میں موجود صاحب حیثیت لوگوں نے مشکل حالات میں اپنی قوم کی مدد کی انہوں کہا کہ جو بلوچ بلوچستان سے باہر ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں بلوچوں کو پہلے سے اقلیت میں تبدیل کردیا گیا ہے او ر اس طرح کا کوئی امکان باقی نہیں کہ وہ لوگ ان علاقوں میں بحیثیت بلوچ اپنا اثرورسوخ رکھیں مگر ان کی تعداد اتنی ہے کہ ا ن کی وطن واپسی سے بلوچستان میں بلوچ کی آبادی پر تعداد کے حوالے مثبت اثرات پڑسکتے ہیں اس صورت میں اگر ان بلوچوں کے لئے ممکن ہے تو وہ بلوچ آبادیاں بلوچستان کے بڑے شہروں میں منتقل ہوجائیں اس عمل میں شاید ان کو عارضی مشکلات کا سامنا ہومگر ایسے افراد کو اپنی قومی شناخت اور سرزمین بچانے کے لیے مستقل بربادی پر عارضی مشکلوں کو ترجیح دینی ہوگی حیربیار مری نے کہا کہ برطانیہ ایک نیو کلیئر پاور ہونے کے ساتھ ساتھ فورسز ، سیاسی اور معاشی حوالے سے دنیا کا ایک طاقت ور ملک ہے ، اس کے عوام بھی یورپی یونین سے اس لیے الگ ہوجاتے ہیں کہ برطانیہ کی قانون سازی کی چند اختیارات یورپی یونین کو دے دی گئیں تھیں جن میں سے ایک یورپی یونین سے لوگوں کی آزادانہ طور پر برطانیہ میں آکر آباد ہونا اور ملازمتیں لینا تھاا ور اب ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد وہاں کے سیاسی رہنماء یورپی یونین سے الگ ہونے کو اپنی قومی آزادی قرار دے رئے ہیں کیونکہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں میں آزاد اور علیحدگی کے بعد اپنی سرحدوں اور غیربرطانوی افراد کی نقل و حمل اور حق ملازمت کو یورپی یونین کے قوانین کے بجائے اپنے قومی مفادات کے تحت کنٹرول کر سکے گا اگر برطانیہ جیسا ملک جو کہ جی سیون کے سات صنعتی اور اقتصادی طور پر مضبوط ممالک کے گروپ کا ایک رکن ہے وہ بھی چند فیصلوں میں اختیارات سے دستبرداری کو اپنی قومی اور سیاسی وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بلوچ اپنی قومی ریاست کی آزادی کے مطالبے اور جدوجہد سے ستبردار ہو کر ریاست و ایران جیسے دہشت گرد ممالک کے سامنے سرجھکا ئے اور پنجاب اور چین سے بڑی تعداد میں لوگوں کی بلوچستان میں آباد کاری پر خاموش رہ کر اپنی قومی اور سیاسی وجود پرسمجھوتہ کریں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close