بی این ایم کا پارٹی رہنماؤں کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ میں مظاہرہ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دین محمد بلوچ ، غفور بلوچ، رمضان بلوچ اور دیگر اسیران کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مظاہرہ کا مقصد بلوچ نیشنل موؤمنٹ کی جانب سے مرکزی رہنماؤں اور تمام بلوچ اسیران کی عدم بازیابی اور انسانی حقوق کی مقامی و عالمی اداروں کی خاموشی توڑنا اور دنیا، میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں اغوا کو 28 جون کو سات سال مکمل ہوئے ہیں ۔ بی این ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون2009 کو دوران ڈیوٹی ریاستی فورسز نے خضدار کے علاقے اورناچ سے اغوا کیا جہاں وہ اپنی ڈیوٹی اور فرائض کی انجام دہی کیلئے موجود تھے۔ اسی طرح پارٹی کے مرکزی رہنما غفور بلوچ کو تین اپریل 2009 کوکوئٹہ سے اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا۔ جبکہ رمضان بلوچ کوچودہ جولائی2010 کو زیرو پوائنٹ اوتھل سے انکے کمسن بیٹے علی حیدر کے سامنے ایف سی نے اُٹھا کر غائب کیا۔ جنکا تاحال کوئی پتہ نہیں۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ اور رمضان بلوچ کے کمسن بیٹے علی حیدر نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام کوئٹہ سے اسلام آباد تک تقریبا 2500 کلو میٹر طویل پیدل لانگ مارچ کی ۔مظاہرے کے شرکاء اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواتین رہنماؤں نے کہا کہ آج بھی بلوچ قوم کے ہزاروں فرزند ریاستی عقوبت خانوں میں المناک انسانی تشدد کا سامنا کر رہے ہیں،لیکن تمام عالمی ادارے مسلسل خاموشی اور نظر اندازانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔بی این ایم مسلسل عالمی میڈیا، انسانی حقوق اور دوسرے اداروں کو بلوچستان میں ہونے والی ریاستی مظالم کے بارے میں رپورٹ اور تفصیل ارسال کرتا رہتا ہے۔ بی این ایم کا خارجہ سیکریٹری حمل حیدر نے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں بھی اغوا، لاپتہ اور مسخ شدہ لاشوں کی تفصیل کی رپورٹ پیش کی ہے۔ عالمی اداروں کے پاس پاکستانی مظالم کے تمام ریکارڈ پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دنیا اتنا بے حس نہیں ہے اور ایک دن پاکستان کو ان غیر انسانی اعمال کا جواب دہ ٹھہرایا جائیگا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close