لاشیں اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھایا جائے۔ جلیلہ حیدر (ریپبلکن رپورٹ)

            کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو عرصہ دراز سے ریاستی خفیہ اداروں اور آرمی کے پالے ہوئے دہشتگردوں کی طرف سے اجتماعی قتلِ عام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ہزارہ برادری کے لوگ زیادہ تر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آباد ہے۔ جن پر متعدد خودکش حملے ہوچکے ہیں اور ان خودکش حملوں میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ہزارہ برادری کے لوگوں کو نہ صرف خودکش حملوں بلکہ کوئٹہ جیسے حساس شہر میں جہاں ہر چند قدم پر پیرا ملٹری فورسز کے چیک پوسٹ قائم ہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

ریاستی عسکری اداروں کی ان دہشتگردانہ کاروائیوں کے خلاف ہزارہ برادری نے متعدد بار پُرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اپنا درد سنانے کی کوششیں کیں ہیں لیکن تمام بے سود ثابت ہوئے۔ کیونکہ پاکستانی میڈیا میں پنجابیوں کے سوا کسی کے قتل کا واقعہ جگہ بنانے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ اسکی وجہ میڈیا کی جانبداری اور ریاستی عسکری اداروں کا دباو بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ بلوچستان کی گھمبیر صورتِ حال کو دنیا کے سامنے پُرامن دکھانے کے لیے ریاستی ادارے ان ہی میڈیا ہاوسز کا استعمال کرتی رہی ہیں اور اصل حقائق کو چھپانے کے لیے پاکستانی میڈیا نے ریاستی عسکری اداروں کے لیے ہمیشہ سے ہی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید رپورٹس:

ڈیر بگٹی میں کیپٹن سمیت 59 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ریاستی فورسز پسپا

ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

ہزارہ برادری پر ہونے والے مظالم اور ریاستی دہشتگردی کے خلاف ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون جلیلہ حیدر جو اس وقت تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بھیٹی ہیں نے اہلیانِ بلوچستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اٹھ جائیں کیونکہ لاشیں اٹھانے سے بہتر ہے کہ آواز اٹھایا جائے۔

جلیلہ حیدر نے کہا ہے کہ تاریخ میں ہم سب کا نام لکھا جا رہا ہے، بلوچستان میں ہزارہ، بلوچ اور پشتون نسل کشی تسلسل سے جاری ہے اور ہم سب کو پتہ ہے کہ اس میں کون سے عناصر ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ قتلِ عام کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ اسے روکھا جائے لیکن ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر حملے رکھنے کا نام نہیں لے رہے اس لیے وہ اب تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر بھیٹی ہیں۔

جمیلہ حیدر نے اہلِ قلم حضرات، سیاستدانوں، دانشوروں، وکلا سمیت تمام مکتبِ فکر کے لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ انکی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے انکا ساتھ دیں تاکہ بلوچستان میں جاری نہتے اور بے گناہ لوگوں کے قتلِ عام کو روکھا جاسکیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں جینے کا حق دیا جائے، پاکستان میں فوجی بجٹ بڑھتا جا رہا ہے لیکن کارکردگی زیرو ہے اگر فوجی حضرات ہمیں تحفظ فرائم نہیں کرسکتے تو انہیں گھر جانا چاہیئے۔

 بلوچستان میں ہزاروں  لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے، ہزاروں بچوں کو یتیم اور ہزاروں عورتوں کو بیوا کردیا گیا ہے۔ اور ان سب کے پھیچے وہی لوگ ملوث ہیں جنہیں پاکستانی فوج کی مدد حاصل ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان بھر میں قابض پاکستانی فوج نے متعدد ایسے گروہ پال رکھے ہیں جنہیں ہزارہ برادری اور بلوچوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ان گروہ کو ریاستی اداروں کی مکمل حمایت اور مدد حاصل ہے اور یہ لوگ بلوچستان بھر میں آزادانہ نقل حرکت بھی کرتے ہیں۔ بلوچستان بھر میں ان کے کیمپس موجود ہیں جہاں سے دہشتگردانہ کاروائیوں کو مونیٹر کیا جاتا ہے۔

مزید رپورٹس:

صغیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد میرے گھر والے شدید پریشانی میں مبتلہ ہیں۔ حمیدہ بلوچ

لیاری آپریشن، گینگ وار اور بلوچ نسل کشی

ریاستی عسکری اداروں نے بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کو کاونٹر کرنے کے لیے مختلف محاز کھول رکھے ہیں۔  ہزارہ برادری کے لوگوں کا قتل عام کر کے بلوچ معاشرے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، بلوچستان بھر میں مذہبی انتہا پسند تنظیموں کو ٹریننگ دیکر بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ جبکہ بلوچ نوجوانوں کی صلاحتیوں کو محدود و برباد کرنے لیے بلوچستان بھر میں منشیات کو عام کیا گیا ہے، اور ریاستی عسکری ادارے خود منشیاب کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کےزیرِ اہتمام ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ریاستی عسکری اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ہے اور مظاہرین نے "یہ جو نامعلوم ہے ہم سب معلوم ہے”  کے نعرے بھی لگائے ہیں۔ کیونکہ بلوچستان میں ریاستی ایما پر سرگرم دہشتگرد اب مزید نامعلوم نہیں ہیں، اہلِ بلوچستان ابخوبی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں ان لوگوں ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصؒل ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker