بلوچستان میں سوشل میڈیا پرغیر اعلانیہ پابندی عائد

(ریپبلکن نیوز) ریپبلکن نیوز کے نمائندوں کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقہ جات مند تمپ، دشت سمیت دیگر علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کو ریاستی فورسز نے بند کر رکھا ہے ـ اس حوالے سے ہمارے نمائندے نے نوجوانوں سےسوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے  بات کی تو %80 نوجوانوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پابندی دراصل بلوچستان میں جاری خونی آپریشنوں کے مناظر اور تصاویر کو عالمی دنیا تک پہنچانے سے روکنا ہے ـ ایک اور نوجوان نے گفتگو کرتے ہوئے حوالہ دیا کہ یہ سلسلہ پاکستان میں غیر اعلانیہ کئی مہینوں سے جاری ہے جس کی مثال مختلف بلاگرز کی اغوا ء اور ان پر تشدد ہے یا پھر فون کالز پر دھمکی اور خاموش رہنے کی مفت کی نصیحت بھی شامل ہے ـ واضح رہے کہ بلوچستان میں 17 سالوں سے آزادی کی جنگ جاری ہے اور ریاستی فورسز آپریشنز کے نام پر نہتے بلوچوں کو شھید کرکے ویرانوں میں انکی لاشیں پھینکنا اور ٹارچر سیلوں میں بند کرنا روز کا معمول بن چکا ہے ـ اور بلوچستان میں میڈیا نہ ہونے کی برابر ہے جبکہ بلوچ ایکٹوسٹ چند سالوں سے سوشل میڈیا کو بطور ھتیار استعمال کرتے ہوئے جلتے ہوئے گھروں، فوج کے ھاتھوں اغوا ہونے والے جوانوں اور دھشت گردوں کے نام پر نہتے بلوچوں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں بلکہ اس حوالے سے وہ انتہائی متحرک انداز میں دنیا کو پاکستانی سفاکیت سے آگاہ کر رہے ہیں جس سے پاکستان بوکھلاھٹ کا شکار ہو رہا ہے اور بلوچستان کو ترقی کے نئے دور میں انٹرنیٹ کی سہولیات سے محروم کر رہا ہے اور گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی 34 اجلاس میں پاکستان کی شرمندگی کا باعث بھی بلوچ سوشل ایکٹوسٹوں کی کامیابی کی نشانی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker