پاکستان میں دہشت گردوں کی تربیت کا انفراسٹرکچر اب بھی موجود ہے، انڈین بحریہ

ویب ڈیسک (ریپبلکن نیوز) انڈین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کو تربیت دینے کا انفراسٹرکچر موجود ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ ممبئی حملوں کے دس برس کی تکمیل کے موقع پر بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔

اس سوال پر کہ انڈین حکومت پاکستان کو دہشت گردوں کی تربیت اور نقل و حمل کی جگہ تصور کرتی ہے تو کیا ان کے خیال میں ممبئی حملوں کی بنیاد بننے والا انفراسٹرکچر اب بھی وہاں ہے، ایڈمرل لامبا کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک بات تربیت دینے کے نظام کی ہے تو وہ ڈھانچہ اب بھی وہاں موجود ہے۔‘

ایڈمرل سنیل لامبا کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد دس برس میں انڈیا نے ساحلی سکیورٹی کے حوالے سے کافی ترقی کی ہے۔

ممبئی پر حملوں کے بعد حکومت کو سـخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد سمندری سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے کئی بڑے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن دس سال گزر جانے کے بعد بھی ایک تاثر یہ ہے کہ ان میں سے کئی تجاویز پر اب تک عمل نہیں کیا گیا ہے۔

’ہم پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔ اس مسئلے پر متعدد ایجنسیوں کے درمیان تعاون مربوط ہے۔ بحریہ اور ساحلی محافظین کے درمیان سٹینڈرڈ آپریٹنگ طریقہ کار قائم کر دیا گیا ہے۔ ساحلی سیکورٹی مشقیں ہوتی رہتی ہیں اور اگلے سال جنوری میں سی وجل کے نام سے مشق ہو گی جس میں ساحلی سیکیورٹی اور ریاستوں کے پورے میکانزم حصہ لیں گے۔ لہذا ہم بہتر طرح سے تیار ہیں۔‘

اس سوال پر کہ انڈین نیوی کے ریڈار اب بھی ایسی 20 لاکھ سے زیادہ کشتیوں کو ٹریس کرنے میں ناکام کیوں رہتے ہیں جو لمبائی میں 20 میٹر سے چھوٹی ہوتی ہیں، ایڈمرل لامبا کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دہائی میں تمام ماہی گیری کی کشتیوں کو رجسٹر کیا گیا ہے اور تمام ماہی گیروں کو بایو میٹرک شناختی کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے حال ہی میں گجرات اور تمل ناڈو میں آئی ایس آر او کے ساتھ ایک پائلٹ منصوبے پر کام کیا ہے جہاں 1000 سے زائد ماہی گیروں کی کشتیوں پر ایک چھوٹا سا، کم لاگت کا ٹرانسپونڈر نصب کیا گیا ہے جسے ہم سیٹلائیٹ کے ذریعے سے ٹریک کر سکتے ہیں۔‘

ہم نے پورے ہندوستانی ساحل کے اطراف ایک ریڈار چین بھی شروع کیا ہے۔ لہذا اگر ان چھوٹی کشتیوں کو ایک ریڈار (اے آئی ایس) پر نہیں دکھایا جاتا ہے تو ہمارے پاس ان کو ٹریک کرنے کے دیگر طریقے موجود ہیں۔ لینڈنگ پوائنٹس اور بندرگاہوں پر بہتر مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور وہاں ہم زیادہ آگاہ ہیں۔‘

ایڈمرل لامبا نے بتایا کہ انڈین بحریہ نے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی چھ جوہری آبدوزوں (ایس ایس این) کی تیاری کی منظوری حاصل کر لی ہے اور فی الوقت ان کے ڈیزائن پر کام جاری ہے جس کی منظوری جلد حاصل کر لی جائے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close