2نومبر کو 10لاکھ لوگ اسلام آباد کی سڑکوں پر ہونگے۔عمران خان

اسلام آباد(ریپبلکن نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزدل اور بے وقوف حکمرانوں کی سوچ آمرانہ ہے میری گرفتاری پرحکومت ردعمل برداشت نہیں کر سکے گی۔ اربوں روپے بنانے والوں کا خواب کرپشن کا پیسہ بچانا ہے۔ نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگانے کی بجائے اپنے آپ کو بادشاہ سلامت ڈیکلیئر کر دیں۔ شریف برادران کرپشن بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ہمیں غلامی قبول نہیں۔ عوام کو حقوق کے لئے دو نومبر کو نکلنا پڑے گا۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم 30 سال سے چوری اور کرپشن کر رہے ہیں کرپشن کا مطلب اقتدار میں آ کر اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہے انہوں نے اربوں روپے کے قرضے لئے اور قوم کی دولت کو لوٹا ہے انہوں نے کہا کہ شریف برادران پانامہ میں پکڑے گئے۔ حکمران ایکشن لینے کی بجائے ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں جو انصاف کے لئے تمام اداروں میں جانے کے بعد جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کونسی جمہوریت ہے۔ جس میں احتجاج کرنے سے روکا جا رہا ہے کیا قانون صرف ان کے لئے جو احتجاج کر رہے ہیں چوری کرنے والوں کے لئے نہیں ہے ان کی چوری ثابت ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ پانامہ کے بعد دو وزراء اعظم مستعفی ہو چکے۔ نواز شریف کوئی مغل اعظم یا اوپر سے اترا ہوا ہے کہ اس کا احتساب نہیں ہو سکتا۔ نواز شریف منی لانڈرنگ چھپانے کے لئے سچ نہیں بول سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کیس الگ ہے۔ ہمارا احتجاج سپریم کورٹ کے خلاف نہیں پانامہ میں پکڑے جانے والے نواز شریف کے خلاف ہے۔ مریم نواز نے خود آف شور کمپنیوں کا اعتراف کیا ہے اور نواز شریف کے اثاثوں میں مریم نواز ان کے زیر کفالت ہے ان کی چوری ثابت ہو چکی ہے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ نیب اور اداروں نے کارروائی نہیں کی پارلیمنٹ بھی کوئی حل نہیں نکلا اس کے بعد ہم سپریم کورٹ گئے ہیں کیا ہمارے ادارے صرف غریب لوگوں کو پکڑنے کے لئے ہیں انہوں نے کہا کہ یکم نومبر کو میں سپریم کورٹ جاؤں گا۔ دو نومبر کو میرا وکیل الیکشن کمیشن جائے گا میں نہیں جاؤں گا انہوں نے کہا کہ دو نومبر کو 10 لاکھ لوگ اسلام آباد آئیں گے ہم سپریم کورٹ اور اداروں کے لئے راستہ بنائیں گے تاہم اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہوں گے تو اسلام آباد بند ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ دنیا کی کسی بھی قوم میں مجرم کو وزیر اعظم بننے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1977 ء میں انتخابات میں دھاندلی پر جمہوریت ڈی ریل ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو 10 حلقوں میں انتخابات کے لئے تیار ہو گئے تھے فوج کا کوئی جواز نہیں تھا لیکن فوج آ گئی انہوں نے کہا کہ نواز شریف خود کو حسنی مبارک سمجھتے ہیں یہ بانی ایم کیو ایم کو بھی کچھ عرصہ نوازتے رہے ہیں۔ نواز شریف نے جس طرح ماڈل ٹاؤن میں قتل و غارت کی ہے کسی آمر نے بھی ایسا نہیں کیا انہوں نے کہا کہ چوری کرنے والا وزیر اعظم بن کر بیٹھا ہوا ہے اور آواز بلند کرنے والوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگانے کی بجائے اپنے آپ کو بادشاہ سلامت ڈیکلیئر کر دیں انہوں نے کہا کہ مجرم کو وزیر اعظم نہیں مانتا کچھ بھی ہو جائے میں سڑکوں پر نکلوں گا اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو حکومت برداشت نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ 126 دن کے دھرنے سے پارٹی کی ٹریننگ ہوئی ہے اب لوگوں کو سمجھ آ گئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے انتشار پید اکیا تو انتشار ہو گا۔ عام شہریوں کے حقوق روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔ آئین کی خلاف ورزی حکومت کر رہی ہے انہوں نے کہاکہ واضح ہو گیا کہ الطاف حسین کراچی میں کیا کر رہا تھا۔ ’’را‘‘ کے گرفتار ایجنٹ نے بھی بتا دیا کہ کراچی میں حملے کرتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں شہر کو بند کرنے کا شوق نہیں۔ وزیر اعظم اپنی کرپشن کو چھپا رہا ہے اور ملک کو بدنام کر رہا ہے۔ (ن) لیگ تحقیقات نہیں کر رہی۔ وزراء نواز شریف کی کرپشن چھپانے میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ میں کبھی اقتدار میں نہیں آیا میں نے کرکٹ کھیلتے ہوئے فلیٹ لیا تھا میں نے 2002 ء سے قبل اپنا فلیٹ اثاثوں میں ظاہر کر دیا تھا یہ فلیٹ کرپشن کے پیسوں سے نہیں خریدا گیا یہ میری کرکٹ کی آمدنی سے خریدا گیا تھا انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی آف شور کمپنی کا کیس مختلف ہے یہ ملک سے کرپشن کر کے پیسہ باہر لے گیا ہے میں اپنا پیسہ باہر سے لے کر اپنے ملک میں لایا ہوں میں نے کبھی اپنا فلیٹ نہیں چھپایا۔ انہو ں نے کیوں چھپایا ہے ایک سوال پر کہا کہ شہباز شریف نے آسکر وننگ ایکٹنگ کی انہیں ایوارڈ ملنا چاہئے شہباز شریفگ کا نام التوفیق کیس میں موجود ہے۔ جس کا فیصلہ 1999 میں لندن میں ہوا تھا انہوں نے کہا کہ جاوید صادق شریف برادران کا فرنٹ مین ہے جس کمپنی سے اس کا تعلق ہے کئی ملکوں میں اس پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ میں شہباز شریف کے کیس کا انتظار کر رہا ہوں انہوں نے کہا کہ الیکشن جینے کے بعد چوری کا لائسنس نہیں ملتا بلکہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ دنیا میں جھوٹ بولنے پر حکمرانوں کے استعفوں کی مثال موجود ہے انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے استعفے یا تلاشی تک ہم اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ ان مطالبات کے منظور ہونے تک ہم سڑکوں پر رہیں گے۔ طاہر القادری سے فون پر بات کی تھی ان کے 14 افراد شہید ہوئے ان کا مقدمہ مضبوط ہے انہیں دعوت دی ہے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سرل المیڈا کی سٹوری فوج پر حملہ ہے یہ وہی باتیں ہیں جو نریندر مودی ہماری فوج کے خلاف کرتا ہے مودی بھی کہتا ہے کہ نواز شریف امن چاہتا ہے پاکستان کی فوج امن نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ دو نومبر کو لوگ کرپشن اور کرپٹ ٹولے کے خلاف نکلیں گے ہم ان لوگوں کو بلا رہے ہیں جو سیاسی لوگ ہیں ہم مزدوروں کی یونینز کو بلا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایمپائر صرف خدا کی ذات ہے شریف برادران کو ہم نے پکڑا یہ خدا کی پکڑ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ موٹو گینگ عوام کے پیسے سے ملنے والا میڈیا سیل ہے جو جھوٹ بول کر موٹے ہو رہے ہیں موٹو گینگ ہمارے ٹیکس کے پیسے لگا کر شریف برادران کی کرپشن بچا رہا ہے۔ دو نومبر فیصلہ کن دن ہے قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ شریف برادرا کو تیس سال سے جانتا ہوں ان کو جمہوریت کی اے بی سی بھی نہیں آتی۔ مجھے گرفتار کرنے کی صورت میں احتجاج میں شدت آئے گی ہمارے کارکنوں میں غصہ ہے بہت بڑا ردعمل آئے گا۔ حکمران تیس سال سے ملک کا پیسہ کھا رہے ہیں نواز شریف اپنا پیسہ بچانے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکمران بے وقوف اور بزدل ہیں شریف برادران کی سوچ آمرانہ ہے انہوں نے کہا کہ اسفندر یار ولی اور فضل الرحمان بتائیں کیا یہی جمہوریت ہے یہ لوگ ہمیں کتنی بار گرفتار کریں گے جب بھی ہم جیل سے باہر آئیں گے احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم ان کی کرپشن کی بات کرتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ اقتصادی راہداری پر حملہ ہے نواز شریف اکیلے نہیں پورا ٹولہ ان کے ساتھ ہے

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker