افغان فورسز نے 52طالبان ہلاک کر دئیے

کابل(ریپبلکن نیوز) افغان فورسز نے کارروائیوں کے دوران 52 طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، ادھر صوبہ پکتیکا میں دوبم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جبکہ سترہ زخمی ہو گئے، دوسری جانب طالبان کے حملے کے بعد کابل کو قندھار سے ملانے والی اہم شاہراہ بند کر دی گئی ہے، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی گورنر آفس سے جمعرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ صوبہ ہلمند میں جاری قارمیوند ملٹری آپریشن کے دوران فورسز نے 52 طالبان کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ متعدد جنگجو اس آپریشن کے دوران زخمی بھی ہوئے ہیں، بیان کے مطابق آپریشن چند ہفتے قبل شروع کیا گیا تھا جو ابھی تک لشکر گاہ، نہر سراج اور ناد علی کے اضلاع میں کامیابی سے جاری ہے، بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن میں افغان فورسز کو نیٹو اتحاد کی زمینی وفضائی مدد بھی حاصل ہے، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس آپریشن کے دوران کوئی فوجی زخمی یا ہلاک ہوا ہے کہ نہیں۔ ادھر صوبہ پکتیکا میں دوبم دھماکوں کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جبکہ سترہ زخمی ہو گئے، دھماکے صوبہ پکتیکا کے دالخلافہ شارنامیں کیے گئے، پہلا دھماکہ نامعلوم شرپسند کی جانب سے پھینکے گئے گرنییڈ کے نتیجے میں ہواجبکہ دوسرا دھماکہ اس کے چند منٹ بعد ہوا، زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جنہیں جلد ہی کابل کے اسپتال میں منتقل کر دیا جائیگا، پولیس نے دھماکوں کی تحقیقات شروع کر دیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی، طالبان سمیت کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، دوسری جانب متعدد موٹر سائیکل سواروں نے بتایا کہ طالبان کے حملے کے بعد کابل کو قندھار سے ملانے والی اہم شاہراہ بند کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری پھنس کر رہ گئے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker