بی ایس او آزاد کا سینٹرل کمیٹی کا تیسرا اجلاس زیرِ صدارت کمال بلوچ منعقد

 کوہٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی سنٹرل کمیٹی کا تیسرا اجلاس سینئروائس چیئرمین کمال بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی کارکردگی کی رپورٹس، تنظیمی امور، تنقیدی نشست، سیاسی صورت حال اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔ اجلاس کی شروعات بی ایس او کی روایت کے مطابق عظیم شہدا کی یاد میں خاموشی سے کی گئی۔ اجلاس کے ایجنڈوں پر بحث کے دوران رہنماؤں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن اور تنظیم کو دیوار سے لگانے کی پالیسیاں انتہائی جارحانہ ہیں۔ بی ایس او آزاد بلوچ طلباء کی واحد سیاسی تنظیم ہے جو بلوچ طلباء کو خیالی دنیا سے نکال کرحقیقی معنوں میں ان کی تربیت کا بارِ گراں اپنے کندھوں پر لئے ہوئے ہے۔ ریاستی پالیسیاں تمام بلوچ نوجوانوں کو یکساں طور پر متاثر کررہی ہیں، تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کا اغواء و ان کے قتل کی پالیسیاں بلوچ معاشرے کو انسانی وسائل سے بے بہر کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ سرکاری اداروں میں پڑھائی جانے والے مواد پہلے سے انتہائی غیر معیاری ہے، اس پر مستزاد یہ کہ اب یہی ادارے باقاعدہ فوجی دستوں کی کنٹرول میں دئیے جا رہے ہیں۔ اندرون بلوچستان درجنوں سرکاری اسکول و کالجز بطور آرمی کیمپ استعمال ہورہے ہیں۔ ان تمام پالیسیوں کا مقصد خصوصی طور پر بی ایس او آزاد کی پرامن جدوجہد کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ ریاست اپنی پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کے لئے بلوچ طلباء کی جدوجہد کو ہمیشہ مسلح محاز سے منسلک کرنے کی کوشش کرتی چلی آرہی ہے ، لیکن یہ بات کارکنوں کی قربانیوں سے روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ بی ایس او آزاد ایک پرامن تنظیم ہے جو کہ بلوچستان کی تمام کالجز و یونیورسٹیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کی متعدد ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس او آزاد کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن صرف تنظیم کو دیوار سے لگانے کی پالیسیاں نہیں بلکہ اپنی اس پالیسی کے تحت قابض بلوچ تحریک کی بنیادیں کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ قبضہ گیر اپنی فطرت کے مطابق حقائق کو نظر انداز کرکے تمام مسئلوں کا حل طاقت کے استعمال میں تلاش کرتے ہیں، لیکن جلد یا بدیر ریاستی طاقت کو اس حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہوگا کہ بلوچ آزادی کی تحریک ایک قومی تحریک ہے جس کا تعلق براہ راست بلوچ عوام سے ہے۔ پرامن سیاسی کارکنوں کو اغواء کرنے کی پالیسی کے تحت اب تک بی ایس او آزاد کے سابقہ چیئرمین زاہد بلوچ، زاکر مجید بلوچ ، مرکزی انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ سمیت سینکڑوں کارکنان اغواء نما گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک سو کے قریب مغوی کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ریاستی بربریت اور سینکڑوں سیاسی کارکن و لیڈران کی شہادت کے باوجود تنظیمی سرگرمیوں کا جاری رہنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچ قوم ان تنظیموں کو کیڈرز فراہم کرتی رہی ہے۔ رہنماؤں نے کہا صرف بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ پاکستانی ریاست نے اپنے ہی عوام کو بھی ہمیشہ سے دھوکے میں رکھا ہے، تعلیمی نظام اور کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے لوگوں کی سیاسی اور تنقیدی شعور کو نقصان پہنچانے کے لئے شروع سے ہی باقاعدہ مہم چلائے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عوام معاشی ناہمواریوں، مہنگی انصاف اور کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے برعکس بلوچ فطرتاََ آزادی اور انصاف پسند ہیں، اس لئے وہ شروع سے ہی غلامی و نا برابری کے خلاف لڑتے آرہے ہیں۔ سیاسی صورت حال کے ایجنڈے پر مباحثہ کے دوران چئیرمین کمال بلوچ نے کہا کہ بلوچ شہداء کی قربانیوں اور گراؤنڈ میں موجود کارکنوں کی جدوجہد بلوچ مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرچکی ہیں۔ دنیا کی بدلتی ہوئی حالات کے پیش نظر بلوچستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے لئے پرکشش ترین خطہ بنتا جارہا ہے۔ بلوچ آزادی کی تحریک کی وجہ سے بیشتر ممالک بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ معاہدات سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن چائنا نے بلوچ کی مرضی کے برعکس پاکستان کی یقین دہانی پر یہاں بھاری سرمایہ کاری کر کے ایک ناکام کوشش کی بنیاد رکھی ہے۔، دنیا کی طاقتوں کو اس بات پر کوئی دو رائے نہیں رکھنی چاہیے کہ بلوچ کی مرضی کے برعکس بلوچستان میں ان کی سرمایہ کاری منصفانہ نہیں ہیں، پاکستان کے ساتھ بلوچ سرزمین میں سرمایہ کاری کی معاہدات کرنے والی طاقتیں براہ راست خود کو بلوچ نسل کشی کی جرم میں شریک کررہی ہیں۔بلوچ عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ چائنا سمیت بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے والی دیگر طاقتوں کو اپنا سرمایہ فوری طور پر بلوچستان سے واپس لے جانا چاہیے۔بلوچستان میں ہمیشہ سے سیاسی حکومت کے نام پر فوج نے اپنے چنیدہ لوگوں کو اختیار دیا ہے، آج بھی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کو ایف سی کی آئی جی احکامات دیتا ہے۔ رہنماوءں نے کہا کہ بلوچ عوام نے پاکستانی پارلیمانی نظام سمیت ریاست کے تمام اداروں کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، لیکن اس حقیقت کو ماننے کے بجائے ریاست کے فورسز بندوق کی نوک پر اپنی مرضی کا قانون بلوچ عوام پر مسلط کررہے ہیں۔بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ تحریک کی عالمی سطح پر پزیرائی تحریک کے لئے ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ پاکستان بلوچ جدوجہد کی پزیرائی سے گھبرا کر بلوچ جہد کے حوالے اعالمی سطح پر غلط تاثر پھیلانے کے لئے اپنے گماشتہ سرداروں اور نیشنل پارٹی ، جمیعت و دیگر پارلیمانی جماعتوں کے ذریعے بلوچستان میں جلسے کروا رہی ہے ۔ بلوچ تحریک کی عالمی سطح پر پزیرائی آزادی پسند قیادت کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان کے جنگی جرائم اور بلوچ وطن پر ناجائز قبضے کو عالمی اداروں کے سامنے موثر انداز میں پیش کریں۔ حالات ہمیشہ مشترکہ جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال شدت سے اس بات کی متقاضی ہے کہ بلوچ قیادت مشترکہ جدوجہد کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل تشکیل دے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہر فورم پر آزادی پسند سیاسی جماعتوں میں اتحاد کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے او ر آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close