"ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہرِ گردوں ہے چراغِ راہگزارِ باد یاں”

 "ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہرِ گردوں ہے چراغِ راہگزارِ باد یاں”

مرزا غالب نے اپنے اس مندرجہ بالا شعر سے اتنا تو اشارہ دیا ھے کہ کچھ ھے . کوئی آفت کا اندیشہ نظر آتا ھے جب میں سورج کو دیکھتا ھوں یوں محسوس ہوتا ھے جیسے کسی نے ھوا کے رُخ پر کوئی چراغ سی رکھ دی ھو جسکو بلاخر ایک نا ایک دن بُجھ ہی جانا ھے . بڑے فلسفہ داں , تاریخ داں , شاعر و سائنس دانوں نے اپنی مکالموں اور قرعہِ عرض پہ ہوئی تحیقیق ءُ تجزیوں سے چائیے وہ سچ کی مورت سقراط ہو ,اپنی قابلیت سے اپنا لوہا منوانے والا ارسطو ہو ,پوری دُنیا میں اپنی فتح کا جھنڈا لہرانے والے سکندرِ اعظم ہو یا اپنے تخیل کے گوڑے دوڑانے والا مرزا غالب ہو یہ باور کرایاھے کہ ایک انسان کی حثیت سے ہمیں ایک دوسری کے کلچر , اسکے نظریے اور اسکی سیاسی و سماجی سوچ کی عزت کرنی چائیے . انسان کا عقیدہ کیا ھے , کیا مانتا ھے کیا نھیں اور وہ کس مزہب سے ھے اُسے اسانی سے نظرانداز کرنا درست نھیں .ہاں البتہ وہ یہ بات ہمیشہ کہتے رہے ھیں خدا کو اپنے اپنے حصوں میں تقصیم کرنا جائز نھیں .کوئی خدا کو اپنے دل میں ایک یقین کی صورت رکھتا ھے ,کوئی پتھر کی مورت میں اُسے دیکھتا ھے , کو ئی آسمانوں میں تلاش کرتا ھے . کوئی چاند میں, کوئی سورج میں خدا کے سیایے کو دیکھنے کی کوشش کرتا ھے. مانا کہ دُنیا کے ان عظیم لوگوں نے اس فرقہ ورانہ سوچ کی مخالفت کی مگر خدا کی زات سے نہ وہ کبھی منکر نظر آئے نا انھوں نے کبھی دوسروں کو اللہ کی صفات سے منکر ہونے کا تاکید کیا . مگر ہم بچارے اپنی مدد آپ گرتے پڑتے لکھاریوں نے تو حد ہی کردی ھے . نہ کوئی مشق نا مشاعدہ , نا تحیق نا کسی بڑی کتاب کا ملاحظہ کیا ھے بس اندھے و بہروں کی طرح اپنی خود ساختہ اصطلاہات کی بنیاد پر خدا نہ ہونے کی تحریک چلا رکھی ھے . ارئے اگر تم نھیں مانتے تو اپنی سوچ دوسروں پہ کیوں لاد رہے تم سہی ہوسکتے ہو مگر دوسروں کے جزبات کو مجروع کرنا ایک غیر فطری عمل ھے اگر یہ بات ھے تو اپنے منطقی دلائل سے انہیں متاثر کرکے اپنی طرف بلا کیوں نھیں لیتے یوں خلائی باتوں سے تم محض اپنی غیر دانستگی کا ثبوت دے سکتے ہو اسکے علاوہ کچھ نھیں .

تحریر :محمود خان گچکی

مزید خبریں اسی بارے میں

Close