بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کراچی زون کا جنرل باڈی اجلاس منعقد

کراچی (ریپبلکن نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کراچی زون کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص بی ایس او آزادکے مرکزی کمیٹی کے رکن نودان بلوچ تھے۔ اجلاس کا باقائدہ آغازعظیم بلوچ شہدا ء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی کے ساتھ کیا گیا۔ اجلاس میں مرکزی سرکولر، سابقہ زونل رپورٹ، تنظیمی امور، عالمی و علاقائی سیاسی صورت حال، تنقید برائے تعمیراور ٓائندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او آزاد کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی اہم خطہ ہونے کی وجہ سے صدیوں سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ہی Divide And Rule جیسے سامراجی ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے استحصالی عزائم کی تکمیل کیلئے بلوچ سرزمین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا۔موجودہ دور میں اسی تقسیم اور قبضہ گیریت کو غنیمت جان کرپاکستان کے ساتھ مل کر چین جیسی طاقتیں بلوچستان کا ہر حوالے سے استحصال کرتے ہوئے اُس کے معدنیات اور سمندری وسائل کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ اس کے بری، بحری اور، فضائی راستوں سے مستفید ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بحیثیت ایک قبضہ گیر ریاست پاکستان اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ خطے کے وسیع معدنی ذخائر اور ساحل کا سستے داموں سوداکرکے اپنی معاشی بدحالی دور کرنا چاہتا ہے۔مگر ریاست اِس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ایک زندہ قوم کبھی بھی اپنی سر زمین کو گروی رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔لہٰذہ اسی نقطے کو مد نظر رکھ کربلوچ قوم کو صفحہء ہستی سے مٹانے کیلئے ریاست نے مارو اور پھینکو جیسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ہی بلوچ شناخت، ثقافت، تاریخ، زبان ، اقداراور بلوچوں کی سیکولر ذہنیت کو مسخ کرنے کی نیت سے مختلف محاز کھول رکھے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے ریاستی اداروں کی جانب سے مقبوضہ بلوچستان میں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ناکام کوششیں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔مگر بی ایس او آزاد اور دوسرے تمام متحرک آزادی پسند سیاسی اداروں کی سیاسی تعلیم و تر بیت کی بدولت آج بلوچ قوم یہ سمجھنے سے قطعی قاصر نہیں کہ ریاست اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ظلم و جبر کا سہارا لینے کے ساتھ ساتھ مذہبی اور لسانی بنیادوں پر خود ساختہ جھگڑوں کے زریعے بلوچوں کی قومی یکجہتی پر حملہ کرنا چاہتا ہے ۔ رہنماؤں نے کہا کہ War On Terrorism کے دوران پاکستان کا خون آلود چہرہ اور دوغلی پالیسیاں پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہیں۔ اب عالمی اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ خطے میں امن کی بحالی کیلئے وہ پاکستان کے دہشتگردانہ رویے کے خلاف کس نو عیت کے اقدامات اٹھائیں گے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا اس مشکل گھڑی میں بلوچ نو جوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حالات حاضرہ کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے سیاسی تعلیمات کی روشنی میں اپنے مقبوضہ سر زمین کی آزادی کے حصول کیلئے جدو جہد کریں۔ تمام ایجنڈوں پر تفصیلی بحث مباحثے کے بعد زونل کابینہ کو تحلیل کر کے تنظیمی پروگرام کو آگے لے جانے کیلئے نئی زونل کابینہ تشکیل دی گئی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close