انتظامیہ نے بولان میڈیکل کالج کو غیر اعلانیہ طور پر پچھلے نصف مہینے سے بند رکھا ہے.بی ایس اے سی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور صوبائی حکام کی عدم توجیحی سے کالج گوناگوں مسائل سے دوچار ہو کر زبو حالی کا شکار ہے۔ کالج انتظامیہ نے کالج کو غیر اعلانیہ طور پر پچھلے نصف مہینے سے بند رکھا ہے سرکاری اعلانات کے مطابق موسم گرما اور عید کے تعطیلات 11جولائی کو ختم ہوئے تھے۔ متعین مدت پوری کرنے بعد انتظامیہ کالج و گرلز ہاسٹل کی بندش سے طالبات دربدر کی زندگی گزار کر مشکلات کا شکار ہیں جس سے کالج میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی تعلیمی زندگی شدید متاثر ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں بوائز ہاسٹل میں انتظامیہ دانستہ طور پرپانی کی قلت پیدا کرکے طلبا کو ہاسٹل سے بے دخل کرنے کی پالیسی پر عمل پھیرا ہیں جو کہ طلبا و طالبات کے تعلیمی زندگی کے ساتھ سنگین مزاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال سے دوچار ہو کر بی ایم سی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے پانچ سال کے کورس کو 9سالوں میں مکمل کرنے پر شہرت رکھنے والا واحد میڈیکل کالج ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایم سی صوبے کا واحد میڈیکل کالج ہوتے ہوئے انتہائی اہمیت کا مقام رکھتا ہے۔ دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے اور جدید سہولیات میسر کرنے کے برعکس حکام کالج کو تباہ حالی کا شکار بنا رہا ہے ۔بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کئی عرصوں سے خباری بیانات اور متعدد احتجاجوں کے زریعے حکام بالاکی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔اس کے باوجود حکام چُپ کا روزہ رکھتے ہوئے تمام مسائل سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ترجمان نے پرنسپل بی ایم سی شبیر احمد لہڑی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ اور وزیر اعلی بلوچستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی میں جلد از جلد مثبت اقدامات کرکے کالج کومزید تباہ حالی سے بچایا جائے بصورت دیگر اس کے خلاف بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سخت احتجاج کرے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close