ساہجی محاصرے کا پس منظر۔۔۔

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز ) بلوچستان کی آزادی کی راہ میں برسرِیپیکار بلوچ سرمچاروں کی جہد و قربانیاں کسی بھی زیشعور بلوچ کے سامنے چھپی نہیں ہے اِن کی قربانیوں کے حوالے سے کم و بیش تعریف بھی ہر کوئی کرتا ہے لیکن سوچھنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ کسی مراعات یا کسی نوکری کی پروموشن کیلئے اپنی جانوں کو ہتھیلی میں لیکر بندوق اٹھائے موت سے روز روبرو ہوتے ہیں ؟۔۔۔ ہم جیسے لوگ جو پورا دن لیپ ٹاپ کے سامنے یا پھر جدید سمارٹ فون لیکر فیس بک و دیگر سوشل میڈیا میں ہاتھ میں چائے کا کپ لیئے کمنٹ پر کمنٹ کیئے جاتے ہیں اور ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو بغیر کسی لالچ اور مراعات کے اپنے سینوں پر دشمن کے گولیوں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔

ساہجی جنگ میں شریک کچھ ساتھیوں سے جنگ کے بعد وٹس ایپ پر حال احوال کررہا تھا تو اس کے میسج مجھ تک نہیں پہنچ رہے تھے میں نے وجہ پوچھی تو بتایاکہ موبائل بہت پرانا ماڈل ہے درست کام نہیں کررہا حالانکہ وہ ایک تنظیم کا ذمہ دار ہے لیکن مجھ سمیت فیس بکی تمام سرمچار ایک لاکھ سے دو دو لاکھ تک کے موبائل لیئے چائے کا جسکا لگا کر ان پر گالیوں اور الزامات کی بوچھاڑ شروع کردیتے ہیں یہ جو بڑے بڑے دانش ور فیس بک میں بیٹھ کر کمنٹ پاس کرتے نہیں تھکتے ان سے کہنا چاہونگا کہ صرف ایک دن اس تپتی دھوپ میں ساہجی میں بغیر پانی اور کھانے کے رہہ کر دکھاؤ تو مانیں۔

سلام ہے ان سپوتوں کو جنہوں نے بغیر کھانے اور پانی کے آٹھ دن تک ریاستی بربریت کا سامنا کیا۔ 51 ڈگری کی گرمی، بھوک اور پیاس سے نڈھال، اوپر سے ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ و بمباری، پھر بھی اگر زندہ بچے تو ہم جیسو سے نہیں بچ سکے گے۔ ساہجی سے تھکے چور جوان جب تھوڑی دور نکل کر آئے رابطے پر پتہ چلا کہ متعدد سرمچار بے حد کمزور ہوچکے تھے اور ان کا علاج چل رہا تھا اسی دوران ایک دوست سے بات کررہا تھا وہ سرمچاروں کی علاج کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کررہا تھا اور دوسری طرف انہی سرمچاروں کو فیس بک میں کچھ ضمیر فروش حملوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ جو لوگ سرمچاروں کی حراست میں تھے ان کی ہلاکت کا واقع بہت افسوس ناک ہے پاکستان آئے روز راہداری کو لیکر نت نئے طریقوں سے بلوچ کشی کو وسعت دے رہا ہے اور ایسے ٹھکداروں اور سرکاری اہلکاروں کو حراست میں لینے اور انھہیں تنبہ کے بعد چھوڑنا معمول کا عمل ہے تاکہ ریاست کو باور کرایاجا سکے کہ بلوچ اپنے سرزمین پر کسی قسم کی استحصالی منصوبے کی اجازت نہیں دینگے۔

اسی دن بھی اسی نیت سے ان افراد کو حراست میں لیا گیا تاکہ ان کو تنبہ اور اس ضمانت پر چھوڑا جائے کہ وہ ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں ہونگے جو ریاستی مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہو چونکہ ان ٹھیکیداروں نے انھی علاقوں میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کچھ سکول تعمیر کیئے تھے جن کا تعمیر مکمل ہوتے ہی ان کو فوج نے اپنے قبضہ میں لے کر اپنے چوکیوں میں تبدیل کر دیئے۔ تو ایسے ٹھیکیداروں کو گرفتار اور پھر تنبہ کے بعد چھوڑنا معمول کی بات ہے اتنے میں فوج نے سرمچاروں کے ٹھکانے کا پتہ لگا کر ان کو گھرنے کی کوشش کی سرمچاروں کو اچانک خبر ملی کہ فوج نے علاقے کو گھرے میں لیا ہوا ہے ایک ہی راستہ بچا تھا بڑی مشکل سے دوست اس راستے سے نکل کر ساہجی کے ایک ایسے پہاڑی دامن میں داخل ہوئے جس سے وہ خود نا آشنا تھے اسی طرح وہ اس دامن میں بری طرح پھنس گئے اور سرمچاروں نے بھر پور کوشش کی حراست میں لیئے گئے افراد کو با حفاظت رہا کیا جائے۔

مگر جنگ مزید وسیع ہوتا جارہا تھا مجبوراً تمام افراد کو رہا کردیا گیا اور سرمچار پہاڑ کے دوسری جانب چلے گئے تاکہ اس طرف سے فوج پر حملے کریں اور مصروف رکھے تاکہ حراست میں لیئے گئے افراد کسی طرح دوسری طرف نکل جائے مگر مسلسل کئی دنوں کے پیاس اور بھوک سے ان کا برا حال تھا یہاں تک کے سرمچاروں کے ذمہ دار اور شہید قدیر بلوچ نے اپنے حصے کا پانی اور اور کھانے کی چیزیں بھی ان افراد کو دی تھیں بلوچ سرمچاروں نے اپنی تمام تر وسائل بروئے کار لائے تاکہ ان قیدیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے لیکن زندگی اور موت انسان کے ہاتھ میں نہیں مگر پھر بھی ان افراد کی ہلاکت کا واقع بہت افسوس ناک ہے ایسے حادثے ہوتے ہیں پھر بھی بلوچ ریپبلکن آرمی کے ایک انتہائی ذمہ دار واجہ گلزارامام نے بیان دیا اور کہا کہ تحقیقات ہوگی۔

لیکن ایسے واقعات کو لیکر ان سرمچاروں اور تنظیموں کو بے وجہ تنقید کا نشانہ بنانا ریاست کو فائدے پہنچانے کے سواء کچھ نہیں ان افراد کے ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا میں ہمارے کچھ مفاد پرست پارٹیوں کے حمایت آفتہ لوگ سوشل میڈیا میں پروپگنڈہ کر کے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں اور بی این ایم کی سنگر پبلیکیشن بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھینہیں ہے بلکہ لوگوں کہ جزبات کو بی آر آے خلاف بھڑکانے میں کوئی کثرنہیں چھوڑ رہا اور جلتی میں تیل کا کام سر انجام دے رہا ہے مگر میرے خیال میں ایسے کسی ہمدرد اور ہمسفر تنظیم کے خلاف منفی پروپگنڈہ اور ان کے خلاف لوگوں کے جزبات بھڑکانے سے آپ کی کارکردگی بہتر نہیں ہوسکے گی۔

افسوس کہ بڑی بڑی کتابی باتوں کے شیر عملی میدان میں روز ڈھیرہوتے جارہے ہیں۔ بی ایل ایف اور بی آر اے کے گراؤنڈ میں موجود لوگ ایک دوسرے کیلئے ہر طرح تعاون کرتے ہیں اور محسوس تک نہیں ہوتا کہ وہ بی آر اے سے ہے یا بی ایل ایف سے۔ مگر مشکے، بحرین اور یورپ والے سرکاروں کو ان سے کوئی غرض نہیں بس اپنا گروہی ایجنڈے پر توجہ مرکوز کیئے بیٹھے ہیں جو قومی مفادات کے با لکل برعکس اور اتحاد کیلئے کی جانے والے کاوشوں کو ثبوتاژ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان جنگی حالات میں جہاں ہر زیشعور بلوچ اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے یکجہتی کی طرف قدم بڑھا جائے وہی بلوچ تنظیموں کے ذمہ داروں کا یہ رویہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔

تحریر: حمید بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker