بی آر اے، بی ایل ایف، یو بی اے اور بی ایل اے کو اپنے تعلقات مستحکم کرنے کی ضرورت ہے

کوئٹہ/اداریہ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں مسلح مزاحمت میں سرگرم تین تنظیموں کے درمیان اشراک اور تعاون پر اتفاق ہونا مقصد کے حصول کی طرف ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان سے آزادی کیلئے سرگرم بلوچ مسلح گروپوں میں اختلافات کافی عرصے سے چلے آرہے ہیں، اختلافات اتنے شدت اختیار کر چکے تھے کہ دو مسلح تنظیموں کے درمیان جنگ اور ہلاکتوں کا واقعہ بھی پیش آچکا ہے۔

اس دوران بلوچ مسلح قیادت خاص طور پر بلوچ ریپبلکن آرمی کی قیادت نے بجائے کسی تنظیم کی طرفداری کرنے کے تمام تنظیموں سے اخلافات دور کرنے کیلئے کلیدی قردار ادا کیا۔

بی آر اے جو کہ بلوچستان میں تقریبا ہر ضلع میں نہ صرف موجود ہے بلکہ بھر پور انداز میں متحریک کردار ادا کر رہی ہے ہے۔ بی آر اے کے مرکزی قیادت کی جانب سے یکجہتی کی کوششوں میں کامیابی حالیہ دنوں سامنے آیا جب یونائیٹڈ بلوچ آرمی، لشکر بلوچستان اور بی آر اے کے درمیان اشتراک عمل پر اتفاق ہوگیا اور مشترکہ طور پر کاروائیاں کرنے کا علان کیا گیا۔

بی آر اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دیگر تنظیموں جن میں بی ایل اے، بی ایل ایف بھی شامل ہیں کو اس اتحاد میں شامل کرنے کیلئے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

شہید نورالحق اور شہید ضیا الرحمن نے جہد آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کیں

بی ایل ایف اور بی این ایم کے علاوہ دیگر تمام تنظیموں میں فردِ واحد کی حکمرانی ہے

بی آر اے، یو بی اے اور لشکرِ بلوچستان کا اتحاد مثبت پیشرفت ہے

بلوچستان میں پانچ مسلح تنظیموں میں سے تین کے درمیان مشترکہ اشتراکِ عمل پر متفق ہونا، بہت ہی مثبت پیش رفت ہے اس سے قبل بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان بھی اشترک عمل طے پا چکا ہے۔مسلح تنظیموں کی ایک دوسرے سے قربت وقت و حالات کی اہم ضرورت ہے، جبکہ اس دوران بلوچ دشمن قوتیں بھی سرگرم ہوچکی ہیں ۔

بی آر اے, یوبی اے اور لشکرِ بلوچستان کے اشتراکِ عمل کے بعد سوشل میڈیا پر اس عمل کے خلاف ایک مہم شروع ہوچکا ہے اور تینوں مسلح تنظیموں کی اتحاد پر تنقید کرنے والے لوگ خود کو بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بلوچ قومی تنظیموں تنظیموں کے درمیان مزید دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں، جن میں بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی ، یونائٹڈ بلوچ آرمی، لشکرِ بلوچستان شامل ہیں کو چاہیے کہ اپنے آپسی تعلقات میں مزید محکم کریں تاکہ دشمن قوتوں کی کسی بھی سازش کو اور ناکام بنایا جاسکے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker