افغانستان میں بدلتے حالات، بلوچ کا کیا بنے گا؟

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز)  افغانستان کو بلوچوں کا دوسرا گھر کہا جاتا ہے جب بھی ریاست اور بلوچوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوئے بلوچ نے ہمیشہ افغانستان کا رخ کیا اور افغانوں نے بھی ہمیشہ بلوچوں کا تہہ دل سے ساتھ دیا ہے

ستر کی دہائی میں جب مری قبیلہ کے لوگوں نے محروم نواب مری کی گرفتاری اور ریاست کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا تو ہزاروں لوگ افغانستان منتقل ہوگئے اور کچھ سال وہاں سکونت اختیار کی اور ساتھ ساتھ اپنی سیاسی اور مزاحمتی محاز کو بھی فعال رکھا۔ 

مگر افغانستان میں روس کی شکست کے بعد جب طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا تو بلوچوں کیلئے بھی افغان سرزمین تنگ ہونے لگی اور مری قبیلے کے سربراہ محروم نواب خیر بخش مری نے اس وقت کے حکومت سے بات کر کے واپس پاکستان چلے گئے۔ 

اس طرح جب کئی پر بھی کسی قوم پر اس کے اپنے ملک کی سرزمین تنگ کردی گئی تو وہاں کے لوگوں نے ہمسائے ممالک کو اپنے لیئے محفوظ سمجھ کر پناہ لی۔ 

سری لنکا میں جب جنگ چھڑ گئی تو تامل لوگوں نے ہندوستان میں پناہ اختیار کر لی۔ 

برما میں حالیہ فسادات ہمارے سامنے ہیں لاکھوں لوگ بنگلادیش منتقل ہوئے 

افغانستان میں امریکی چڑھائی کے بعد پچیس لاکھ لوگ پاکستان چلے گئے اور ان میں ہزاروں طالبان جنگجو بھی شامل تھے اور یہ بھی اب کسی سے اوجھل نہیں کہ پاکستان میں مقیم افغان جنگجوؤں کو پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے مگر پر بھی افغان طالبان کا پاکستان میں رہائش سے نا صرف انکار کرتے رہے ہیں بلکہ ایسے کسی بھی قدم سے گریزہ رہے جس کی وجہ سے ان کی موجودگی ان کیلئے کسی مشکل کا سبب بنے۔ 

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروی ہے کہ طالبان جیسے طاقتور تنظیم جس کی پشت پنائی پاکستان سمیت کئی عرب ممالک کھل کر کرتے ہیں اور ان کے باقائدہ دفاترعرب ممالک میں کام کررہے ہیں لیکن طالبان کے سربرہ ملا منصور کا تب تک کسی نے ایک تصویر تک نہیں دیکھی جب تک نوشکی میں امریکی ڈرون حملے میں اس کی ہلاکت نہیں ہوئی۔

مگر بلوچوں کی طبعیت زرا الگ قسم کی رہی ہیں 2005 میں فوجی آپریشن کے آغاز اور ڈاڈائے قوم نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد پندرہ ہزار سے زائد بلوچ افغانستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں اکثریت بگٹی قبیلہ کے افراد کی ہیں جبکہ مری اور دیگر قبائل کے لوگ بھی بڑی تعداد میں مقیم ہیں جو کہ بڑی قسم پرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اور مہاجرین کیلئے کام کرنے والے این جی او کسی بھی امداد کرنے سے قاصر رہے ہیں متعدد بار اقوامتحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق سے بھی رابطے کرنے کی کوششیں ہوئی مگر کوئی بھی بے بس بلوچوں کی مدد کو آگے نہیں بڑھ سکا۔ 

بین الاقوامی اداروں کی امداد اور کمک تو اپنی جگہ مگر ہزاروں بے سہارا بلوچوں کی زندگیاں اب خطرے میں پڑتی نظر آرہی ہیں۔ ایسے نہیں ہے کہ بلوچوں پر اس سے قبل حملے نہیں ہوئے ہیں بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد پر معاضی میں بھی افغان سرزمین پر حملے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے شہادتیں بھی ہوئی لیکن پھر بھی بات محض محاجرین تک محدود رہی۔ 

مگر حالیہ کچھ واقعات میں جہاں دو چار پٹاکے بھی پھٹے ہمارے کمانڈر صاحبان نے فوٹوں اور وڈیوں کے وہ اشتہارات لگائے جیسے کسی شیمپو یا صابن کی کوئی ایڈ چل رہی ہو۔ 

یہ الگ بات ہے کہ ہمارے یہی کمانڈر صاحابان دن بھر فیس بک پر دس دس کلومیٹر کے برابر مضامین لکھ کر خود ہی اس تحریک کا دانشور، اصل بنیاد رکھنے والا، وارث، مالک اور یہاں تک اس تحریک کا پیغمبر بھی خود کر کرار دیتے رہے ہیں۔ 

راض داری اور گوریلا جنگ کا پاٹ پڑھانے والے جب تنظیموں سے انہی حرکتوں کی وجہ سے فارغ کیئے گئے مگر پھر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئے بلکہ جنگی منافع خوروں کے ٹبر میں شامل ہوکر خود کو پارسا ثابت کرنے کی دوڑ میں لگ گئے اور اشتہار پر اشتہار چلتا رہا سوشل میڈیا پر جب بھی لاگ ان کرتے وہی چہرے سلطان راہی بننے کی دوڑ میں لگے ہوئے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کاروائی کو اپنے نام کرنے کیلئے ساؤتھ انڈین فلموں کی طرز کے ٹریلر پر ٹریلر سوشل میڈیا پر چھوڑنے لگے۔ 

لیکن نقصان مجموعی طور پر بلوچ قوم اور اس تحریک کو اٹھانا پڑھ رہا ہے۔ 

ان سلطان راہیوں کے آنے  سے پہلے بھی بلوچ وطن کیلئے جنگ جاری تھا اور ان کے بعد بھی جارہی رہے گا۔ 

جن رہنماؤں اور بلوچ قوم سے مخلص ساتھیوں نے خطے کے مجموعی  بدلتے حالات کو بھانپ کر پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تاکہ بلوچ قومی باقا کی جدوجہد  عالمی قوانین کے مطابق اور بغیر کسی بین الاقوامی پابندی کے جاری رہے تو انھی جنگی منافع خوروں نے ریاست سے ساز باز کے الزامات لگائے اور عارضی پزیرائی حاصل کرنے کی کوششیں کی مگر تنائج کیا نکلے آج سب کے سامنے ہیں۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان مفاہمت اور جنگ کے اختتام کی طرف پیشرفت یقیناً تباہ شدہ افغان قوم اور خطے کی مجموعی امن کیلئے اچھی پیش رفت ہے۔ مگر وہی بلوچ قوم کیلئے حالات کی سنگینی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے، افغان اور امریکہ کے درمیان اٹھارہ مہنے کے اندر فوجیوں کی امریکہ واپسی کا معاہدہ بھی ہوا ہے اور طالبان نے بلوچ علیحدگی پسندوں سمیت ان تمام قوتوں کی افغان سرزمین سے نکل جانے کی شرط بھی امریکہ کے سامنے رکھ دی جو کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف کاروئیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ 

اب کیا ان سلطان راہی اور جیمز بونڈ نما بلوچ کمانڈروں جو خود کو دانشور اور سب کچھ سمجھتے ہیں کیا ان کے پاس ان ہزاروں محاجرین کیلئے کوئی منصوبہ ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مزاکرات کی کامیابی کی صورت میں ان کو کیسے اور کونسے محفوظ ملک میں لیکر جائے گے؟ 

میری رائے میں اگر خداناخواسطہ یہ جنگ ایک بات پھر ناکامی سے دور چار ہوئی تو اس کے زمہ دار یہی جنگی منافع خور اور اشہاری کمانڈران ہونگے۔ 

تحریر؛ زرکانی بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close