پنجاب میں پڑھنے والے بلوچستان کے طلباء کو دہشتگرد اور پنجاب پر بوجھ قرار دیا گیا ہے۔ (رپورٹ)

پنجاب میں پڑھنے والے بلوچ طلباء کالعدم تنظیموں کے لیے سلیپر سیل کا کردار ادا کر ریے ہیں۔ آئی ایس آئی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کچھ لوگ بلوچستان کے طلباء کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا چائتے ہیں۔

سراج الحق نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے واقعہ میں انکی جماعت ملوث نہیں ہے جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ لوگ بلوچستان کے طلباء کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اور جماعت اسلامی کے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے اپنی جماعت کے طلباء ونگ اسلامی جمیعت طلبہ کو اس پورے واقعے میں بے قصور قرار دیتے ہوئے بلوچستان کے طلباء پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پنجاب کے پرامن تعلیمی ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم نے بلوچ اور پختون طلباء پر حملہ کرتے ہوئے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد پنجاب پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے سینکڑوں بلوچ اور پختون طلباء کو حراست میں لے لیا ہے اور تین دن گزرجانے کے باوجود بھی بلوچستان کے طلباء کو رہا نہیں کیا گیا یے۔

جماعت اسلامی اور اسکی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کی دہشتگردی سے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے تمام طلباء بخوبی واقف ہیں۔ اس مذہبی تنظیم کی جانب سے اب تعلیمی اداروں میں متعدد بے گناہ طلباء کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے جمیعت کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے بلوچستان کے طلباء کو پابند سلاسل کر کے یہ پیغام دیا یے کہ پنجاب میں بلوچ اور پختون کی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہے۔ اور جماعت اسلامی ریاست پاکستان کا اثاثہ ہے جسے وہ جب چاہے استعمال کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی خفیہ اداروں نے بھی بلوچستان کے طلباء پر الزام عائد کرتے ہوئے انہیں دہشتگردوں کا سہولت کار قرار دیا ہے۔ آئی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے چند بلوچ طلباء کا تعلق بلوچستان کے کالعدم تنظیموں سے ہے اور انکے لیے سلیپر سیل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، بلوچستان کے طلباء پرامن ہیں جو کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ لیکن جمیعت کے دہشتگردانہ کردار سے ہر شخص واقف ہے۔

جبکہ بلوچ قوم پرست تنظیموں بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے پنجاب میں بلوچ اور پختون طلباء پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظوں میں مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں کا سازش قرار دیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ بلوچ طلبہ پنجاب حکومت کے وظیفے پر پڑھ رہے ہیں۔ احسن اقبال کے اس بیان کو بلوچ اور پختون قوم کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیونکہ پنجاب گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے بلوچستان کے وسائل پر قابض ہے اور بلوچ سرزمین سے نکلنے والی گیس پنجابیوں کے گھروں کا چولہا جلاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close