شہادت سے قبل بلوچ لبریشن آرمی کے اہم کمانڈر اسلم بلوچ کا لیا گیا انٹرویو

بلوچ لبریشن آرمی کے اہم کمانڈر شہید اسلم بلوچ کا یہ انٹرویو بلوچ صحافی ملک سراج اکبر کی جانب سے استاد اسلم بلوچ کے شہادت سے چند ہی روز قبل لیا گیا تھا ، جسے قارئین کی دلچسپی کے لیے ریپبلکن نیوز میں شائع کیا جارہا ہے۔

حال ہی میں کراچی میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے چینی قونصل خانہ پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت نے بلوچ قوم پرست رہنما حیربیار مری سمیت جن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ان میں اسلم بلوچ بھی شامل تھے جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ بی ایل اے کے ایک اہم کمانڈر ہیں۔ دو سال قبل بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے مارچ 2016میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلم بلوچایک آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ البتہ پچیس دسمبر2018 کو پاکستانی میڈیا نے یہ خبر دی کہ اسلم بلوچ افغانستان میں اپنے دو ساتھیوںاورتین کمانڈرز کے ساتھ مارے گئے ہیں۔ بلوچستان ٹائمز کے مطابق، بی ایل اے نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔

اس واقعہ سے صرف چار روز قبل راقم نے ان سے چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے کے تناظر میں انٹرویو کیا۔یہ گفتگو میں نے ان سے ایک ایسے سیریز کے لئے کیا جس میں ، میں بلوچ مسلح تنظیموں کے سربراہان اور کمانڈرز سے ان کی بدلتی حکمت عملی، سی پیک اور بلوچ قوم پرست تحریک کے بارے میں جاننا چارہا تھا۔ تاہم ان کی ہلاکت کی خبر کے پیش نظر میں ان کا انٹرویو یہاں من عن شائع کر رہا ہوں۔ اس انٹرویو کے لئے میں نے انھیں سوالات ارسال کئے تھے اور جوابات ان کے اپنے الفاظ میں ہیں جن میں کوئی ایڈیٹنگ نہیں ہوئی ہے۔

ملک سراج :سب سے پہلے مجھے اپنی ابتدائی زندگی کے بارےمیں بتائیں۔ وہ کون سا واقعہ تھا جس نے آپکی زندگی بدل دی اور آپکو بلوچ مسلح تحریک کا حصہ بننے پر مجبور کیا؟

استاد اسلم بلوچ :بنیادی طور پر میرا تعلق مستونگ سے ہے لیکن میری پیدائش شال (کوئٹہ ) میں ہوئی۔ میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہمارے گھرانے میں، میں اپنے چار بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ ہمارے خاندان میں صرف میرے بڑے بھائی کا قوم پرستانہ سیاست کے حوالے سے بی ایس او ( بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن)سے وابستگی رہا تھا۔ وہ ہی میرے استاد تھے ۔کوئی ایک ایسا مخصوص واقعہ نہیں جس نے مجھے سیاست کے طرف مائل کیا۔ زمانہ طالب علمی سے اپنے لوگوں کی حالت ایک احساس دلاتا تھا جیسے کہ بہت کچھ غلط ہورہا ہے۔ نظام تعلیم سے لیکر نظام حکومت تک سب میں انتہائی شدت سے بیگانگی کا احساس ہوتا تھا۔ شروع سے اس بات پرقائل تھا کہ مزاحمت ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ نعرہ بازی جھنڈے لہرانے اور الیکشن ورکر بنتے دوستوں سے دور رہا۔ جب نواب خیر بخش مری افغانستان سے جلا وطنی ختم کرکے واپس آئے تو انکے حق توار سٹڈی سرکل سے جوڑ گیا اور وہی سے جدوجہد کا آغاز کردیا

ملک سراج :حال ہی میں کراچی میں چینی قونصل خانہ پر جو حملہ ہوا، اس کی ذمہ داری آپکی تنظیم نے قبول کی۔ اس حملے کے مقاصد کیا تھے؟

استاد اسلم بلوچ :چینی قونصل خانے پر حملے کے مقاصد بالکل واضح اور صاف تھے۔ چین پاکستان کے ساتھ ملکر بلوچستان میں سی پیک کے نام پر جس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانے کی کوششیں کررہا ہے اس منصوبے سے بلوچ قوم کے مستقبل کو بھیانک خطرات کا سامنا ہے کیونکہ پچھلے ستر سالوں سے پاکستان کے قبضہ گریت نے بلوچوں کے سماجی جغرافیائی معاشی اور سیاسی صورت حال کو بگاڑ کررکھ دیا ہے اگر ایسا کہا جائے کہ برباد کردیا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک فوجی ریاست کے طاقت اور جبر کا سامنا کرنے والے بلوچوں کودوسری طرف چائنا جیسے ملک کی شراکت داری سے مزید سنگین حالات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے یہاں ترقی کے نام پر جس طرح سے پاکستان اور چائنا اپنے عسکری عزائم کے تکمیل کےلئے غیر بلوچوں کی آباد کاری کے ذریعے آبادی کے توازن کو بگاڑکر بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازشیں کررہے ہیں وہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ہیں اس لئیے ایسے حملوں سے ہم چائنا کو باز رکھنے کے ساتھ اپنا پیغام اور مسئلے کی سنگین صورت حال سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے تھے

ملک سراج :کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ چینی قونصل خانہ پر حملے سے بلوچ کاز کو مدد ملنے کے بجائے نقصان پہنچا ہے یا پہنچے گا کیونکہ اس سے دنیا کے سامنے بلوچ تحریک بطور “دہشت گرد” تحریک ابھرے گی؟

استاد اسلم بلوچ :لوگ کیا سمجھتے ہیں اس سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو کیا سمجھا سکتے ہیں ہمارے اہداف اور مقاصد جائز اور برحق ہیں ۔طریقہ کار سے قطع نظر دنیا میں اہداف اور مقاصد اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہاں دہشت گردی کی تعریف اپنے اپنے مفادات کے تحت کی جاتی ہے۔ اگر اس حوالے سے ہم دیکھنا شروع کریں تو ہماری جدوجہد کسی کی بھی تعریف پر پورا نہیں اترے گی۔ حکمت عملی اور طریقہ کار کا تعلق ہمیشہ حالات کے تحت کی جاتی ہے پاکستان اور چائنا بلوچستان میں جو اقدامات اٌٹھا رہے ہیں کیا وہ برحق ہیں اور جو حالات انہوں نے بنا رکھیں ہیں ان میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ ہم اپنے قومی مفادات اور اپنے دفاعی تقاضوں کے تحت فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر یہ دیکھنے بیٹھ جائیں کہ لوگ کیا سمجھتے اور کہتے ہیں تو شاہد پھر ہمارے لئے ان حالات میں بچانے کےلئے کچھ بھی نہ رہے

ملک سراج :قونصل خانہ اور دالبندین والے واقعات کے بعد یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ بلوچ تنظیموں نے بھی خود کش حملوں کو بطور ہتھیار اور حکمت عملی استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی جماعت کی مذہبی انتہا پسند جماعتوں سے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے کیا کہیں گے؟

استاد اسلم بلوچ :جہاں تک بات حکمت عملی کی کیجائے تو اسمیں بدلاو عین وقت و حالات کے مطا بق ہے۔ دوران جنگ حکمت عملی اور پالیسیوں میں بدلاو ہوتے رہتے ہیں۔ چائنا پر تسلسل سے بلوچستان میں حملے ہوتے رہے ہیں لیکن چائنا باز رہنے کی بجائے مزید ناروا قدامات کے تحت شدت سے بلوچستان میں ملوث ہوتے جارہا ہے اور پاکستان کے طرف سے چینیوں کی سیکورٹی میں بہتری اور اضافے نے بلوچوں کو مزید عدم تحفظ کا شکار بنادیا ہے۔ ایسے بدتر حالات پیدا کئے گیے جن کی وجہ سے ہمیں بھی اپنا حکمت عملی بدلنا پڑا۔ جو طریقہ کار ہم نے اپنایا ہے وہ ایک موثر جنگی طریقہ کار ہے جسکی بہت سے مثالیں مذہبی شدت پسندی کے علاوہ بھی تاریخ میں ملتے ہیں۔ 1881 میں اگنیٹی گرینوسکی نےروس میں فدائی حملہ کرکے اپنا پیغام ریکارڈ کرایا تھا۔ جاپان، تامل ٹائیگرز اورفلسطینیوں نے اس طریقہ کارسے استفادہ کیا ہے تو کیا ان سب کا مذہبی شدت پسندی سے کوئی تعلق بنتا ہے ؟
اگردیکھا جائے تو گوریلا جنگ چھوٹے ہتھیار ،راکٹ لانچروں، زیرزمین بموں کا استعمال گھات لگا کر حملے ان سب کا استعمال بھی مذہبی شدت پسند کرتے آرہے ہیں تو کیا صرف اس بنا پر ہم ان جیسے طریقہ کار و ہتھیاروں کو رد کرسکتے ہیں ؟ میں صاف الفاظ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مذہبی شدت پسندی کو دنیا کیلئے ایک ناسور سمجھتے ہیں اور کسی بھی صورت اسکی حمایت نہیں کرسکتے اور نہ کرینگے لیکن ہمارے دشمن کا دشمن ہمارا دوست ہے اس حقیقت سے بھی ہم انکار نہیں کرسکتے اور نہ کرینگے

ملک سراج :آپکی تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ صرف بلوچستان کے اندر کاروائی کرتے ہیں۔ کیا کراچی والا واقعہ آپکی حکمت عملی میں تبدیلی کی طرف نشان دہی کرتا ہے؟ بلوچستان سے باہر کارروائی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

استاد اسلم بلوچ : صرف اسلئے کہ ہم اپنے تنظیم کی طاقت اور صلاحیت کا اظہار کرنا چاہتے تھے

ملک سراج :اطلاعات ہیں کہ بی ایل اے دو گروہوں میں تقسیم ہوگئ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ آپ ہیں کیونکہ آپ کی قیادت میں تنظیم میں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے سابقہ قیادت کو نکال دیا ہے یا نظر انداز کیا ہے۔ کیا واقعی اندرونی سطح پر ایسے اختلافات ہیں؟

استاد اسلم بلوچ :ہمارے اختلافات کی بنیادیں مڈل کلاس و اپر کلاس کے ہرگز نہیں تھے۔ تنظیم کے اندر ہم نے ایک ایسے ذہنیت سے اختلاف رکھا جسکا طریقہ کار کسی صورت بھی سیاسی اور انقلابی نہیں تھا۔ ہم نے اس ذہنیت میں بدلاو کی کوششیں کیں۔ ہم نے ادارہ جاتی طریقہ کار پر زور دیا ہم نے وراثتی بالادستی اور شخصی اجارہ داری سے دستبرداری کی مانگ کی لیکن بد قستمی ہمیں بدترین شخصی آمریت کا سامنا کرنا پڑا جس سے ہمارا کام و کارکردگی برائے راست متاثر ہوا گو کہ ہم گذشتہ کئی سالوں سے ایسے رویوں سے متاثر تھے لیکن یہاں یہ ناقابل برداشت ہوچکے تھے ہم نے پھر بھی بدلاو کےلئے موقع فراہم کیا لیکن بدقسمتی سے ہمارے اس عمل کو ہماری کمزوری سے تعبیر کرکے ہم پر مزید غیرسیاسی طریقہ کار سے دباؤ بڑھایا گیا ان سب کا تعلق برائے راست سابقہ قیادت سے تھا اسلئے تنظیم کی اکثریت نے سابقہ قیادت پر عدم اعتماد کرکے اسے تنظیم سے باہر کردیا

ملک سراج :ہر مسلح تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا اصلی قائد ملک سے باہر بیٹھا ہے ۔ کیا آپ ان باتوں سے اتفاق کرتے ہیں ؟ ان کے ملک سے باہر ہونے کا آپ کی کارروائیوں پر کیا اثر پڑا ہے؟

استاد اسلم بلوچ :حالات کے مطابق متفقہ فیصلوں اور حکمت عملی کے تحت اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ قیادت واضح مقاصد کے تحت کسی بھی ممکنہ مقام میں بیٹھکراپنا کام کرسکتا ہے لیکن صرف اور صرف ایک محفوظ زندگی کےلئے ایسا کرنا بہتر نہیں مانا جاتا بہترین طریقہ کار اور ایک منظم تنظیم ہی ایسے صورت حال میں توازن برقرار رکھ سکتا ہے بصورت دیگر قیادت پر برائے راست سوالات اٹھتے ہیں۔ بذات خود میں یہ سمجھتا ہوں کہ بلوچ قومی تحریک میں یہ طریقہ کار ناکام ہوتے نظر آرہا ہے کیونکہ جہاں آپ ایک محفوظ زندگی چاہتے ہیں وہاں کے لوگ آپ سے امن کی ضمانت چاہتے ہیں تو آپ کو جیل یا میدان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ کاسترو اور نیلسن منڈیلا کی طرح ظاہر ہے کہ دوسری طرف صرف دستبرداری ہی نظر آتی ہے۔

ملک سراج :سی پیک کی وجہ سے آپکی تحریک پر کیا اثر پڑا ہے؟ کیا اس وقت آپکی تنظیم اور دیگر ہم خیال جماعتوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز سی پیک اور چین کی بلوچستان میں آمد ہے؟

استاد اسلم بلوچ :سی پیک بلوچ قومی تحریک کےلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ پاکستان اور چین کے گٹھ جوڈ نے ہمارے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ سی پیک کے نام پر ہونے والے اقدامات برائے راست بلوچ قومی مفادات کے خلاف ہیں وہ چائے عسکری حوالے سے ہوں یا اقتصادی یا غیر بلوچوں کی آباد کاری کے حوالے سے ہوں۔ جی ہاں ہم اور ہمارے تمام ہم خیال ساتھی اس بات پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں کہ چائنا کو بلوچستان سے جلدازجلد دستبردار کراسکیں ۔

ملک سراج :کچھ عرصہ پہلے یہ اطلاعات تھیں کہ چین نے براہ راست بلوچ مسلح تنظیموں سے مذاکرات کے لئے رابطہ کیا ہے۔ کیا اس سلسلے میں آپ سے رابطہ کیا گیا؟ کن امور پر بات ہوئی؟ اگر نہیں ہوئی تو کیا مذاکرات کے لئے آپ کے کوئی شرائط ہیں؟

استاد اسلم بلوچ :ہمیں بھی میڈیا کے ذریعے ایسے خفیہ مذاکرات کا پتہ چلا جسکی ہم نے فوراً تردید کردی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم بلوچ قوم کی مستبقل اور اجتماعی مفادات کے تحفظ پر کسی بھی قسم کی لین دین کی حمایت نہیں کرینگے بلکہ اسکے خلاف مزاحمت کرینگے۔ ان حالات میں چین سے مذاکرات اور شرائط کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں کیا ہم لین دین یا سودے بازی کا متحمل ہوسکتے ہیں؟ میرے خیال سے ہرگز نہیں۔ یہ ایک خیانت ہوگی اپنے قوم اور ملت سے۔ ہمارا ایک صاف اور واضح پیغام ہے کہ چین جلداز جلد بلوچ سرزمین پر جاری اپنے تمام استحصالی منصوبوں سے دستبردار ہوکر بلوچستان سے نکل جائے۔

ملک سراج :بلیدہ میں ہونے والے حالیہ واقعہ کی ذمہ داری تین مسلح تنظیموں نے ایک ساتھ قبول کی۔ کیا مسلح تنظیموں نے مشترکہ کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟ حکمت عملی میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

استاد اسلم بلوچ :پاکستان ہمارے استحصال اور ہمارے سرزمین پر جاری اپنے لوٹ مار کےلئے کہاں کہاں سے اتحادی ڈھونڈ نکالتا ہے تو کیا ہم ایک قوم ایک مقصد اور ایک منزل ہونے کے باوجود ایک ساتھ ملکر کام نہیں کرسکتے؟ ہم تو فطری اتحادی ہیں ماضی میں ہمارے سماجی ہیئت کی وجہ سے کچھ مشکلات تھے جو گذرتے وقت کے ساتھ اپنے تشکیل اور جدت کا سفر طے کرتے ہوئے بہتری کے طرف محو سفر ہیں۔ کچھ سطحی و فروعی مسائل میں الجھانے کی وجہ سے ہمارا توجہ اصل ہدف سے ہٹادیا گیا تھا۔ تحریک دشمن کی طرف سے شدید دباؤ کا شکار ہوا اور ہمیں بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جسکی وجہ سے زیادہ منظم انداز میں کام کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا اپنی منتشر قوت کو منظم انداز میں کام میں لایا جائے تو اس پر دوست کام کررہے ہیں تاکہ مزید بہتر نتائج سامنے آئیں۔

ملک سراج :پاکستانی میڈیا میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ آپ کا بھارت میں علاج ومعالجہ ہوا ہے۔کیا یہ درست ہے؟

استاد اسلم بلوچ :دشمن کا ایسے افواہیں پھیلانے کا مقصد شاہد اس دباؤ کو کم کرنا ہے جس کو ہمارے ہمسایہ ممالک نے پاکستان پر اسکے دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے پر بنا رکھا ہے۔ دہشت گردوں کی پناہ گاہ پاکستان ہے جہاں مذہبی شدت پسندوں کے علاج معالجے کےلئے بہت سے بڑے اور جدید ہسپتال مخصوص ہیں۔ ایک ایسا ملک (پاکستان) جہاں یہ سب کچھ ہورہا ہو وہ میرے علاج کےلئے بھارت جانے پر واویلا مچائے تو اس بات کے مقصد کو سمجھنا مشکل نہیں کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ جہاں تک میرے علاج کےلئے کئی جانے کی بات ہے تو میں کئی بھی آ جا سکتا ہوں علاج کرواسکتا ہوں اس میں خرابی والی بات کیا ہے ؟

ملک سراج :کوئی ایسا مسئلہ جس کے بارے میں، میں نے نہیں پوچھا ہے لیکن آپ اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

استاد اسلم بلوچ :بس اپنے پڑھے لکھے طبقے اور دانشور حضرات سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ حالت جنگ کی حقیقت کو مدنظر رکھکر بلوچوں کی راہنمائی کریں۔ باہم جوڑے سماجی و سیاسی معاملات کی حساسیت اور باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ایک بڑے فوجی ریاست سے نبردآزما کسی بھی تنظیم کو درپیش مشکلات کا انداذہ کرتے ہوئے انکا معاون و کمک کار بن سکیں۔

بشکریہ:  ملک سراج اکبر

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close