ریاستی فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین اور بچوں کے شہادت پر نائلہ قادری خاموش کیوں؟

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) صرف احترام کے ساتھ نہیں بلکل نہایت ہی احترام کے ساتھ میں ان تمام مرد و خواتین حضرات سے مخاطب ہوں جن کو ان لوگوں سے جو بلوچ قوم و سرزمین کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دن ہو یا رات، گرمی ہو یا سردی، بھوک ہو یا پیاس زندگی کی بڑی سے بڑی مشکلات اور طوفانوں سے بلا خوف و خطر اپنے سر پر کفن باندھ کر جدوجہد کرنے والے یعنی بلوچ ( سرمچاروں ) کے جنگی حکمت عملی اور کاروائیوں پر کہیں نا کہیں کسی نا کسی جگہ پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔ ویسے ایک بات آپ محترم قارئین کے گوشگزار کرتا چلوں کہ ان اعتراضی لوگوں میں سے چند تو بالکل ہی احترام کے قابل نہیں۔ مگر جناب کریں بھی تو کیا کریں ہماری پرورش ہی ایسے ماحول میں ہوا اور عادت بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ دشمن کو بھی مخاطب کرتے وقت یہی کہتے ہیں۔ احترام کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ میں پچھلے دنوں ہونے والی ڈیتھ سکواڈ سے جنگ میں بچوں اور خواتین کو مارنے کے ہر گز حق میں نہیں ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ بلوچی رسم و روایات کے بالکل خلاف ہے۔

مگر ایک بار صرف احترام کے ساتھ پروفیسر نائلہ قادری صاحبہ سے بلوچ قومی آزادی کی اس جنگ میں بلوچ قوم کے کئ ہزار معصوم بچے ریاست پاکستان کے فورسز نے بیدردی سے شہید کیئے اور پاکستان کے فوجی جیٹ طیاروں کی بمباری اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے سینکڑوں بے گناہ بلوچ بچے اور خواتین پاکستانی آرمی کے بموں اور گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوچکے ہیں اور کئیوں کو اس ظالم ریاست کے درندہ صفت دہشتگرد فورسز نے زندہ جلاکر شہید کیا اور کئیوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں میں ڈال کر زندہ زمین پر پھینک کر شہید کیا گیا۔ اور نا جانے کتنے بے گناہ بلوچوں کو مار کر ویرانوں میں پھینک کر جنگلی جانوروں کا خوراک بنایا گیا۔ پاکستان کے کسی بھی ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر اس طرح کا ذاتی اور مخصوص بیان محترمہ کا کہیں بھی سُننے یا دیکھنے کو نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیں:تیس لاکھ انسانی جانوں کی قربانیوں نے مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کے سفر کو سچ ثابت کردیا

احترام کے ساتھ نا جانے محترمہ کا دل آج دشمن کے کاسہ لیسوں کے ان تین بچوں کے مرنے پر کیسے اتنا شدید تڑپ اُٹھی۔
اور محترمہ پورے بلوچ قومی دفاعی اور فوجی ادارے کے اہلکاروں یعنی بلوچ ( سرمچاروں) کے جنگی حکمتِ عملی اور کاروائیوں پر برس پڑی۔ آج محترمہ کا یہ جذباتی بیان سوشل میڈیا پر میں نے بغور دیکھا اور سُنا بھی، اس لرزہ دینے والی ویڈیو پیغام کے دوران کبھی کبھی تو محترمہ کی آنکھیں بھی اشکبار ہونے کو آ رہی تھی۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ محترمہ نے بھی پاکستان کی طرح اپنی اس اشکبار بیان میں بلوچ سرداروں کو بھی ان کے اقوام و آبائی زمین و علاقوں سے بیدخل کیا۔ جو بلوچ سردار بلوچ سرزمین اور قوم کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ان سے تو پاکستان اور ہر سچے پاکستانی کے خدا نام کا بیر ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ آخر میں یہی کہونگا۔
احترام کے ساتھ جو سینکڑوں معصوم بلوچ بچے, خواتین بوڑھے اور جوان پاکستانی فوج کے ہاتھوں نہایت ہی بیدردی سے شہید کیئے گئے۔ اس وقت محترمہ جی کہاں تھی آپ کےخصوصی انٹریوز کہاں تھے۔ آپکی آنکھوں کے یہ اشک ؟ اگر آپ جواب دینا چاہیں تو بلوچ قوم کو دیں مگر احترام کے ساتھ۔

تحریر: میر بگٹی

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close