پاکستانی فوج کاپنجاب کے مذہبی انتہاء پسندوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے انکار

اسلام آباد(ریپبلکن نیوز)  وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہے گی تاہم دھرنے کے خلاف آپریشن میں حصہ نہیں لے گی۔

نیوز کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے وزیر اعظم اور شرکا کو دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی، گرفتاریوں اور ملکی داخلی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس میں آرمی چیف نے وزیر اعظم کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے، پاکستانی عوام فوج سے محبت اور اس پر اعتماد کرتے ہیں اور معمولی فوائد کے بدلے اس اعتماد کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا، ختم نبوت ترمیم کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر کے انہیں سزا دی جانی چاہیے، ملک میں بدامنی اور انتشار کی صورت حال ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔

جنرلقمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں متحد رہنا ہے، پاک فوج حکومت کے ماتحت ہے اور سونپی گئی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کے بعد فوج آخری آپشن ہونا چاہیے، ریاست کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کیا جانا چاہیے، جبکہ اسلام آباد میں اضافی نفری تعینات نہیں کی جائے گی اور صرف پہلے سے موجود جوانوں کو سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر مامور کیا جا سکتا ہے۔ آرمی چیف نے یہ بھی تجویز دی کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صرف مخصوص حالات میں مختصر مدت کے لئے پابندی لگائی جائے۔ آرمی چیف کی تمام تجاویز کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے منظور کر کے ان پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close