انسٹی ٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچریونیورسٹی آف سندھ میں طلبات سے جنسی زیادتی کی کوشش۔ رپورٹ

رپورٹ(ریپبلکن نیوز) انسٹی ٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچریونیورسٹی آف سندھ میں اساتذہ کی جانب سے طلبات کو جنسی طور پر حراساں کرنے کی کوشش۔

انسٹی ٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچریونیورسٹی آف سندھ کے طلباء رمشامیمن اور نسیم دیپار نے سندھ کے ویزِ اعلی مراد علی شاہ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ، پاکستان کے ویزِِ اعظم ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر، گورنر آف سندھ اور بختاور بھٹو زرداری سمیت پاکستان کے اہم شخصیات کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ یونیورسٹی ٹیچرز کی جانب سے خواتین کو جنسی حراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رمشا اور نسیم جوانسٹی ٹیوٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچریونیورسٹی آف سندھ میں ماسٹر کے طلباء ہیں نےتمام طلبات کی طرف سے ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے بہت سے طلبات کو یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارمنٹ کے اساتذہ کی جانب سے جنسی طورپر حراساں کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا ہے کہ مذکورہ خط ایک ما ہ قبل پاکستان کے تمام اعلی شخصیات کو بھیجا گیا تھا لیکن بد قسمتی سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور مجبورا اب وہ یہ خط عام کر رہے ہیں۔

اسی سال کے اپریل میں رمشا میمن نے یونیورسٹی کے ایک ٹیچر فراز بغیو کے خلاف وائس چانسلر ڈاکٹر فتح برفت کے پاس شکایت بھی درج کی تھی۔ فراز بغیو نے رمشا کو  بلیک میل کرکے اسے ہم بستری کی دھمکی دی تھی۔ رمشا نے وائس چانسلر کو فراز کے تمام میسجز بھی دکھائے ۔ لیکن ٹیچرز کے ایک گروپ نے ڈاکٹر فتح برفت کو دھمکی دی کہ اگر وہ اس حوالے سے کچھ کہے گے تو ان کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کے ایک آفیسر افتحار پٹھان نے رمشا کی بین جو آئی بی اے سندھ میں زیرِ تعلیم ہےکو دھکی دیکر کہا کہ اگر اس معاملے کو یہی پر ختم نہیں کیا گیا تھا وہ رمشا کے والد کو تمام صورت حال سے آگاہ کریگا جس کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہو چکا ہے۔

نسیم اور رمشا دونوں نے ہی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ثنا اللہ انصاری کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی ۔ جس کے بعد ٹیچرز کے ایک گروپ نے رمشا کے والد تک رسائی حآصل کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کی ایف آئی آر واپس لے لے وہ خود انصاری کے خلاف کاروائی کرینگے۔

رشما نے کہا ہے کہ اب یونیورسٹی کے تمام ٹیچرز انکے ایم فل کے تھیسس کو سپر وائز کرنے سے انکار کر رہے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے بھی اس حوالے سے شکایت کی گئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو ڈین کے ساتھ اٹھائے گے۔

رمشا نے کہا کہ گزشتہ سال نائلہ رند نامی لڑکی نے ٹیچر کے جنسی طور پر حراساں کرنے کے بعد خود کشی کرلی تھی۔

رمشا نے درخواست کی ہے کہ تمام لوگ یونیورسٹی کے انتظامیہ اور ایسے استا تذہ کے خلاف آواز اٹھائے تاکہ خواتین کو جنسی طور حراساں ہونے سے بچایا جا سکے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close