پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں میں ملوث افغان خفیہ اداروں کے 6کاروندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سرفراز بگٹی

کوئٹہ(ری پبلکن نیوز)صوبائی وزیر داخلہ میر سر فراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ حساس ادارو ں کے اہلکاروں نے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں میں ملوث ہمسایہ ملک افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی ایجنسی( این ڈی ایس)کے تقریبا 40 پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث 6 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہم افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہے لیکن ان کی خفیہ ایجنسی افغان مہا جرین کے ذریعے پاکستانی لو گوں کی قتل وغارت گری کرکے بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں اس میں این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا گٹھ جوڑ شامل ہے این ڈی ایس بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کیلئے 80 ہزار اور بم دھماکے کیلئے تقریبا ڈھائی لاکھ روپے دہشتگردوں کو دے رہی تھی جس کا اعتراف گرفتار دہشتگردوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کیا ہے اس لئے افغان مہا جرین باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس چلے جائے ایسا نہ ہو کہ صوبے میں بسنے والے پشتون بلوچ سمیت دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ انہیں یہاں سے زبردستی نکالیں ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جمعرات کو سول سیکرٹریٹ میں سکند ر جمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر فرنٹیئر کور کے کرنل عزیز بھی موجود تھے میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے حساس اداروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے نیٹ ورک کو توڑ تے ہوئے بم دھماکوں اور ٹاگٹ کلنگ میں ملوث6 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا جن میں محبوب،عصمت اللہ، عبداللہ شاہ، احمد اللہ، نوراحمدسکنہ قندھار ، ہلمند جبکہ محمد شفیع سکنہ پشین کو گرفتار کر لیا انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایس پاکستان میں موجود افغان مہا جرین جن کو کیمپوں تک محدود رکھنا تھا کیونکہ یہ لوگ یہاں پر اپنے وطن میں خراب حالت کی وجہ سے آئے تھے اور ہم ان کی مہمان نوازی کر رہے تھے لیکن انہوں نے کیمپوں سے باہر نکل کر عام آبادی میں رہائش اختیار کر کے این ڈی ایس کے ساتھ مل کر ہمارے 40 معصوم بے گناہ شہریوں کو شہید کیا گرفتار ہونیوالے این ڈی ایس کے چھ دہشتگردوں میں سے 2 ٹارگٹ کلنگ اور4 بم دھماکے کر تے تھے ہم ہمسایہ ملک افغانستان سے برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ افغان مہا جرین اب باعزت طور پر اپنے وطن واپس چلے جائے کیونکہ ہم اب ان کی مہمان نوازی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ہمارے لو گوں کو شہید کر کے بلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں اس میں انہیں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی حمایت حاصل ہے ایسا نہ ہو کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچ پشتون سمیت دیگر اقوام انہیں زبردستی باہر نکال دے کیونکہ اب ہم اپنے صوبے کا امن تہہ وبالا ہوتاہوا نہیں دیکھ سکتے کیونکہ مذکورہ دہشتگرد این ڈی ایس کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کر کے نادرا سے جعلی شناختی کارڈ بنوا کریہاں پر رہائش پذیر ہو کر پاکستان کے لو گوں کو شہید کرکے ہمارے ملک نام بدنام کر کے امن وامان کو خراب کر رہے تھے کیونکہ انہوں نے20 سے30 ہزار میں نادرا سے شناختی کارڈ حاصل کررکھے ہیں اب پاکستان اور حکومت سمیت دیگر ادارے کسی طور پر بھی کسی بھی غیر ملکی باشندے کو پاکستان شناخت کیلئے جعلی شناختی کارڈ رکھنے کی اجازت نہیں د ینگے کہ یہ لوگ ہمارے ملک کی شناختی دستاویزات حاصل کرکے یہاں پر امن وامان کو خراب کرے عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ افغان باشندوں کو پاکستان سے واپس بھیجنے کیلئے یو این ایچ سی آر اور پاکستان کیساتھ تعاون کرے تاکہ ہم اپنے ملک اور صوبے کو بہتر بنا کر امن کی بحالی کو ممکن بنائے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی این ڈیایس اور را گٹھ جوڑ کے ذریعے یہاں پر حالات خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ کی ذمہ داری ہے کہ جو شواہد سامنے آئے ہیں ان کی روشنی میں افغان باشندوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کیلئے اقدامات کرے کیونکہ ہم این ڈی ایس اور ’’را‘‘ کے گٹھ جوڑ کے ذریعے پاکستان کے معصوم لو گوں کی قتل وغارت گری کی اجازت نہیں دے سکتے نادرا کے ڈائریکٹر جنرل بلوچستان کی کاوشوں اور ذمہ داریوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جعلی شناختی کارڈ کو بلاک کر کے صوبے اور ملک کی خدمت کر رہے ہیں کیونکہ نادرا کے ذریعے ہی افغان مہا جرین اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروا کرپاکستانی ظاہر کر تے تھے اور ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے کر کے یہاں کہ عوام کو تہہ وبالا کر کے لو گوں میں خوف وہراس پھیلاتے تھے اس کام کیلئے این ڈی ایس گرفتار ہونیوالے دہشتگردوں کو کروڑوں روپے ادا کر تی تھی حکومت افغان مہا جرین کو واپس بھیجنے کیلئے انتظامات کرے کیونکہ ہمارے ملک میں بدامنی کے ذمہ داری افغان مہا جرین ہے جس کی وجہ سے بلوچستان وپاکستان کو غیر مستحکم کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے اس لئے انہیں واپس جانا چاہئے ہم اپنے ملک کو بہتر بنا لیں گے اس موقع پر این ڈی ایس کے گرفتار ہونیوالے محبوب علی، عصمت اللہ، عبداللہ شاہ، احمد اللہ،نوراحمد اور محمد شفیع نے اپنے وڈیوبیانات میں بتایا کہ این ڈی ایس کے اس وقت کے حاضر سروس جنرل نعیم بلوچ، جنرل مومن اور جنرل مالک انہیں بم دھماکے کرنے اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا کر لو گوں میں خوف وہراس پھیلانے کی ترغیب دیتے تھے جس کے بدلے میں وہ این ڈی ایس کوارٹر افغانستان میں انہیں رقم کی ادائیگی کر تے تھے انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں افغانستان کے علاقے قندھار میں موجود صنفی کیمپ میں تربیت دی گئی تھی ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close