ڈاڈائے بلوچ شہید نواب اکبر خان بگٹی کا بلوچ قوم کے نام پیغام ( 3 جنوری 2006 )

53fb7a154fe24کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) 3 جنوری 2006 دوران جنگ شہید نواب اکبر خان بگٹی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ۔سیاسی قوت پارلیمانی کمیٹیاں،مذاکرات،جلسے،جلوس،ریلیوں۔ احتجاجی مظاہروں سے ہماری دشمن کوئی اثر لینے والا نہیں کیونکہ اس کی پرورش،سیاسی ماحول میں نہیں ہوئی وہ صرف طاقت کی زبان جانتا ہے اور طاقت ہی کو سلام کرتا ہے جس کا ماضی اور حال ہمارے سامنے ہے لہذا ہمیں اپنے مستقبل کے لئے بھی اس طرح کی منصوبہ بندی اور لائے عمل تیار کرنا پڑے گا جس سے دشمن کو ایساضرب لگے جسکی اذیت وہ محسوس کرے۔
میں اپنے علاقے میں موجود ہوں،بلوچ قبائل نے جوانمردی سے مزاحمت کر کے فورسز کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔میں ڈیرہ بگٹی سے ہرگز منتقل نہیں ہوا ہوںیہ جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے بمباری کرنے والوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے،مزاحمت بلوچستان بھر میں پھیل رہی ہے۔ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کے ساتھ مسلح بلوچ قبائل اپنے دفاع میں بھر پور مزاحمت کر رہے ہیں جس میں ایف سی کو بھاری نقصان ہوا ہے اپنی سرزمین کا دفاع کرنے والوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف سرکار کہتی ہے کہ میں پرائیوٹ آرمی کی قیادت کر رہا ہوں تو دوسری طرف یہ کہتی ہے کہ میں ڈیرہ بگٹی سے چلا گیا ہوں۔بلوچستان میں بلوچ اپنے پیدائشی حق،قومی دولت و وسائل کے دفاع کے لئے لڑ رہے ہیں جن کو حکومت زبردستی ان سے چھینا چاہتی ہے۔خوشی اس بات کی ہے کہ اپنے وطن اور قومی حقوق کے دفاع کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔بلوچ دہشت گرد نہیں وہ اپنے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔گزشتہ روز بھی ڈیرہ بگٹی میں 13 مقامات پر شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں ایف سی کو بھاری نقصان ہوا ہے تاہم وہ اس نقصان کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میں ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں اپنے لوگوں کے درمیان موجود ہوں جو اپنے آباواجداد کی سرزمین اور حقوق کے دفاع کے لئے ہر قسم کی قربانی کے عزم سے سرشار ہیں۔
4 اپریل 2006 کو شہید نواب اکبر خان بگٹی کادوران جنگ بلوچ قوم اور نوجوانوں کے نام جاری کئے گئے پیغام میں کہا کہ بلوچ ہر گلی کوچے پہاڑ صحرا و میدان کو مزاحمتی تحریک میں بدل دیں۔غیرت مند بلوچ حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے مزاحمتی تحریک کو آگے بڑھائیں تاکہ بلوچوں کی سرزمین سے دشمن کا انخلا ممکن ہوسکے۔بِلا رنگ،نسل،زبان علاقہ و مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر تحریک کا بازو بنیں۔ دنیا کے اندر اپنے وسائل شناخت کو برقرار رکھنے کا شعور پختہ ہوتا جارہا ہے اس سلسلے میں دنیا کے مختلف حصوں میں کئی تحریکیں کار فرما ہیں جو اپنی سوچ و فکر کے ساتھ مضبوط وابستگی commitment رکھتے ہیں جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے عملا بر سر پیکار ہیں۔کہیں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے کہیں وہ اپنے جدوجہد میں ابھی مصروف عمل ہیں۔
بلوچ قوم کی یکجہتی اور اپنے سائل و سائل اور شناخت کے تحفظ میں والہانہ کردار ادا کرنے کا جذبہ حاوی رہا ہے ۔اس بیداری کو مربوط جدوجہد میں بدل کرمنظم انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی جس میں’’سنگل پارٹی‘‘ کے قیام کا آئیڈیا شامل ہے کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی مگر حالات نے اس کو عملی جامہ پہنانے کی مہلت نہیں دی۔دشمن کی جانب سے عجلت میں کیے گئے جارہانہ حملے نے بلوچ قوم کو اپنے دفاع پر مجبور کیا جس سے گزشتہ چار ماہ کے مسلسل گولوں،توپوں،جیٹ طیاروں،گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بمباری،کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود بلوچ وطن کا ہر پہاڑ اس وقت مورچہ بن چکا ہے۔مکران،چاغی،بولان،کاہان،کوہلو،ڈیرہ بگٹی کے پہاڑ دشمن کے لئے خوف اور بلوچوں کے دفاعی حصار کی علامت بن چکے ہیں مگر ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قافلے میں تازہ خون۔جوان جذبے کے شمولیت کا سلسلہ جاری رہے۔اب وقت اور حالات کے تجربے نے ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا
آسان کر دیا ہے کہ سیاسی قوت پارلیمانی کمیٹیاں،مذاکرات،جلسے،جلوس،ریلیوں۔ احتجاجی مظاہروں سے ہماری دشمن کوئی اثر لینے والا نہیں کیونکہ اس کی پرورش،سیاسی ماحول میں نہیں ہوئی وہ صرف طاقت کی زبان جانتا ہے اور طاقت ہی کو سلام کرتا ہے جس کا ماضی اور حال ہمارے سامنے ہے لہذا ہمیں اپنے مستقبل کے لئے بھی اس طرح کی منصوبہ بندی اور لائے عمل تیار کرنا پڑے گا جس سے دشمن کو ایساضرب لگے جسکی اذیت وہ محسوس کرے۔جیسے معاشی،انسانی اذیتیں دے کر بلوچ قوم پر حاوی ہونے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ ہمارے وسائل تیل،گیس۔سونا ،چاندی۔تانبا اور سینکڑوں کلومیٹر ساحل پر قبضہ کر کے بلوچ عوام سے ان کی اپنی پدری سرزمین سے فارغ کرکے انہیں red indain کا درجہ دیا جائے اور انہیں کراچی کے بلوچوں کی طرح ریڑھی بانی پر مجبور کر دیا جائے۔اس ذلت کی زندگی سے اپنے وطن کی دفاع میں موت کو سینے سے لگا کر جام شہادت نوش کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ آنے والی نسل ہمارے کردار پر فخر کرتے ہوئے اس راہ پر گامزن ہو۔اس کے برعکس ہم نے خوشامد،آسائش پسندی مصلحت بزدلی سے کام لیا تو بلوچ قوم کا نام تاریخ کے صفحوں میں تو ملے گا مگر اسی سرزمین پر خاک چھاننے کے لئے بھی بلوچ کے بجائے استعماری قوتوں کے ایجنٹ ہونگے اور یوں ہزاروں سال سے ہمارے آباواجداد نے اپنے جانوں کی قربانی دے کر جس سرزمین کو ہمارے حوالے کیا تھا یہ سرزمین گوادر میگا پروجیکٹ،سوئی ڈیرہ بگٹی،کوہلو کاہان میں گیس و تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے نام پر فوجی چھاونیوں میں تبدیل کر کے ان کی حقیقی باشندوں کو ہمیشہ ہمیشہ کئلیے ہم سے چھینا جائے گا اس ناپاک منصوبے پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔گوادر میں متبادل رہائش کی فراہمی کے نام پر اصل آبادی کو 35 میل دور آباد کرنا،ڈیرہ بگٹی کوہلو ایجنسی کے عوام پر روزانہ بمباری،گولوں و توپوں کی بارش کرکے لاکھوں کی تعداد میں بلوچ کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ۔اس شرمناک منصوبے کا حصہ ہے اس طرح کوئٹہ،لسبیلہ،ڈیرہ بگٹی،کوہلو،قلات،مستونگ،نوشکی،خضدار،تربت،پنجگور،نصیرآباد،کراچی،بولان اور سبی سے بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر سے نوجوانوں،قبائلی عمائدین کو ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کر کے انہیں نامعلوم مقام پر لے جانا اور ان کی زندگی اور موت سے بے خبر رکھنا،کسی عدالت کے سامنے پیش نہ کرنا ایسے عمل ہیں جس سے بلوچ اپنی خوف یا حفاظت کے باعث اپنے آپ کو متزلزل محسوس کر رہا ہے۔خدشہ ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ کچھ کمزور لوگ اپنا شناخت تبدیل کرنے پر مجبور ہونگے یا علاقہ چھوڑیں گے یا دشمن کی صف میں شامل ہو کر کرائے کا سپاہی بنیں گے یا مخبری کر کے بچے کچھے بلوچوں کو ریاست کے سامنے پیش کرنے میں اپنا شرمناک کردار ادا کرکے میر جعفر و میر صادق کے صف میں شامل ہونا پسند کریں گے۔گزشتہ چار ماہ سے جاری فیصلہ کن جدجہد کا تقاضہ ہے کہ میں آپ سے اپیل کروں کہ غیرت مند بلوچ آگے آئیں حالات کی نزاکت کو محسوس کریں۔ مزاحمت کی اس تحریک کو آگے بڑھائیں،اس کو ہر گلی،کوچے،سڑک،وادی،ندی نالے، پہاڑ ،صحرا،میدان کی تحریک میں تبدیل کر دیں تاکہ بلوچ کی سرزمین سے بلوچوں کی انخلا کی بجائے ہمارے پاک سرزمین سے دشمن کی انخلا ممکن ہو سکے تب ہم اپنے ساحل و ساحل،شناخت برقرار رکھ سکیں گے۔اس تحریک میں رنگ،نسل زبان،علاقہ،مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر بلوچ اور صرف بلوچ کے نام پر مزاحمت کی تحریک کا بازو بنیں اور آج حالات کے اندر اس تحریک کو اپنے اصل مقاصد کے حصول تک جاری رکھیں۔جس طرح عراق کے اندر کردوں نے صدام حسین کے کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال اور ہزاروں کی تعداد میں جانوں کی قربانی کی پرواہ کیے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی اسی طرح چہ گویرا،تحریک بھی ایک فرد سے شروع ہو کر انقلاب میں تبدیل ہوا۔یوں ہمارے جذبے ولولے نوجوان کی قوت سے آراستہ و پیراستہ رہے تو ہماری منزل بھی دور نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker