بی آر ایس او کا تیسرا قومی کونسل سیشن بنامِ شہید زاہد آسکانی و شہید صباء دشتیاری اور بیادِ شہدائے و اسیرانِ بلوچستان پروم میں منعقد

کوہٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا تیسرا قومی کونسل سیشن بنامِ شہید زاہد آسکانی و شہید صباء دشتیاری اور بیادِ شہدائے و اسیرانِ بلوچستان 18تا20 فروری پنجگورکے علاقے پروم میں منعقد ہوا۔
قومی کونسل سیشن کی کاروائی کا آغا ز بلوچ قومی ترانے سے کیا گیا جس کے بعد شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔کونسل سیشن میں مندرجہ زیل ایجنڈے زیرِ بحث رہے ۔

(۱) عالمی و علاقائی سیاسی صورتِ حال (2) تنظیم کی گزشتہ کارکردگی (3) سیکرٹر ی رپورٹ (4) آئین سازی (5) آرگنائزر کا خطاب (6) آئندہ کا لائحہ عمل 7) الیکشن کمیشن (8) چیئرمین کا خطاب۔

بی آر ایس او کے رہنماؤں نے مختلف ایجنڈوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی سیاسی صورتِ حال بلوچ قوم کے حق میں نہ ہو تو یقیناًاس سے ہمارے علاقائی سیاسی صورتِ حال پر فرق پڑھتا ہے۔موجودہ دور میں طاقتور قومیں یا ممالک مظلوم اقوام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ، روس ، چین یا دیگر طاقتور ممالک کی نظریں اس وقت ان ممالک پر ہیں جو قدرتی معدنیات سے مالا مال ہیں ۔رہنماؤں نے کہا کہ ہم ایک ایسے خطے سے تعلق رکھتے ہیں جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور دنیا کے لیے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔اس وقت دنیا کی دو بڑی طاقتیں چین اور امریکہ آپسی ٹکراؤ کا شکار ہیں اور دونوں کی نظریں بلوچستان پر ہیں ۔امریکہ کسی صورت گوادر کو چین کے حوالے کرنے پر خوش نہیں کیونکہ یہ دونوں طاقتیں گوادر میں رہتے ہوئے پورے خطے کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔اگر اس جغرافیہ میں آباد بلوچ قوم میں شعور و جرت نہ ہو تو بلوچ قوم ان دونوں طاقتوں کے درمیان پھس کر رہہ جائیگا۔رہنماؤں نے کہا کہ عالمی طاقتیں اس وقت ہمیں مدد فرائم کرینگے یا ہماری موقف کی حمایت کرینگے جب تک ہم خود مضبوط و منظم نہ ہوں اور ہم میں قومی شعور نہ ہو۔

رہنماؤں نے کہا کہ وقت و حالات بڑی تیزی سے بد ل رہے ہیں بلوچستان میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے عالمی گیم شروع ہوچکی ہے جو بلوچ قوم کے لیے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قومی پہچان ختم ہوجائے اور ہم ہمیشہ ایک ایسی قوم کے چوکیدار بنے رہے جو سماجی، ثقافتی و نسلی لحاظ سے ہم سے پیھچے ہے تو سی پیک پر ہمیں خاموشی اختیار کر لینا چاہیے ۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قومی شناخت باقی رہے تو بی آر ایس او کو ایک انقلابی قومی تنظیم ہونے کے ناطے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو ان سازشوں کے خلاف بیدار کرنا ہوگا ان میں شعور پیدا کرنا ہوگا۔ہمیں اپنے لوگوں میں قومی شعور پیدا کرنا ہوگا اور یہ کام وہ لوگ کر سکتے ہیں جو انقلابی تنظیموں کا حصہ ہیں کیونکہ تنظیم بہتر انداز میں اپنے لوگوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔

بی آر ایس او کے رہنماؤں نے کہا کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے چند برطانوی لوگ ہندوستان آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں کاروبار کرنے آئے ہیں اور کاروبار کے ساتھ ساتھ انہوں نے علاقوں پر اپنا اسر رسوخ قائم کر دیا اور وہاں موجود نوابوں کو لالچ اور طاقت دیکر اپنے ساتھ ملا لیااور چلتے چلتے پورے ہندوستان کو اپنا کالونی بنا ڈالا۔رہنماؤں نے کہا کہ پنجابی فوج ایسٹ انڈیا کمپنی کا تشکیل کردہ فوج ہے۔
بی آر ایس او کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں ریاست ہر وہ حربہ استعمال کر رہی ہے جس سے بلوچ قومی شناخت کو ختم کیا جا سکے جس کی سب سے بڑی مثال چین پاکستان اکنامک کوریڈور ہے۔ 46بلین ڈالر کے اس منصوبے کے نتیجے میں گوادر میں عام بزگر بلوچ پانی کی بوند بوند سے ترس رہے ہیں لیکن چالاک پنجابی نے ہر دروازے کی دہلیز پہ منشیات کو عام کیا ہے تاکہ گوادر کے نوجوان اس ذلت آمیز مرض میں مبتلا ہوں اور اپنے زمینیں بھی پنجابی کے حوالے کردیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیشن میں مختلف ایجنڈوں پر بحث مباحثے کے بعدکابینہ کے چھناؤ کے لیے الیکشن کمیشن تشکیل دی گئی مرکزی کابینہ کے لیے 7 امیدوارکامیاب ہوئے جن میں چیئرمین، وائس چیئرپرسن، جونیئر وائس چیئرمین، جنرل سیکرٹری، ڈپٹی جنرل سیکرٹری، انفارمیشن سیکرٹری، فائنینس سیکرٹری شامل ہیں اسی طرح سینٹرل کمیٹی کے لیے بھی امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے جو جمہوری پروسس کے بعد کامیاب ہوئے جنکی تعداد بی آر ایس او کے آئین کے مطابق ہے۔جبکہ ریحان بلوچ بی آر ایس او کا تیسرا مر کزی چیئر مین اور روزین بلوچ مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئیں۔

بی آ ر ایس او کے نو منتخب چیئر مین ریحان بلوچ نے اپنے خطاب میں مادرِ وطن کی ان شہیدوں کو سرخ سلام پیش کیا جنہوں نے بلوچ سرزمین و بلوچ قومی ننگ و ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے خود کو قربان کر دیا اور اسیران کو خراجِ تحسین پیش کیا جو بد نام زمانہ پاکستانی فوجی ٹارچر سیلوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔بی آر ایس او کے نو منتخب چیئر مین نے کہا کہ ہمیں اپنی قومی شناخت کو بچانے کے لیے مضبوط و منظم انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے دنیا کے طاقتور ممالک کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اس پورے خطے کا امن بلوچستان سے وابستہ ہے اور بلوچ ہی وہ قوم ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مغرب کا حقیقی ساتھی بن سکتا ہے۔چیئر مین نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری اورقومی فرض ہے کہ ہم بلوچ قوم کے نوجوانوں میں شعور بیدار کریں اور انہیں بلوچستان میں ہونے والے ریاستی و عالمی سازشوں کے بارے میں آگاء کرتے ہوئے بہتر انداز میں انکی رہنمائی کریں ۔ریحان بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ قوم کے خلاف گزشتہ چھ دیائیوں سے سازشیں کی جارہی ہیں لیکن ہر دور میں بلوچ گلزمین کے بہادر بیٹو اور بیٹیوں نے انہیں ناکام بنایا اور اپنے سرزمین اپنے سائل و سائل کی حفاظت کے لیے ہر مشکل و کھٹن راستہ اپنایا۔ نو منتخب چیئر مین نے کہا کہ ریاستی افواج اورخفیہ اداروں نے لا تعداد انقلابی ساتھیوں کو اغواء و شہید کیا تاکہ بلوچ قوم کی جانب سے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کیا جاسکے ۔ بلوچ قومی رہنماء نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان میں جو حالات پیدا ہوئے وہ آج تک پاکستانی ریاست کے کنٹرول سے باہر ہیں ، بلوچ قوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب وہ مزید مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کریگی۔ریحان بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں مذہبی تنظیموں کو ریاست کی جانب سے بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور ان مذہبی تنظیموں کو باقاعدہ پاکستانی افواج کی جانب سے ٹریننگ اور اسلحہ سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کی جارہی ہے تاکہ سیکولر بلوچ معاشرہ کو تباہ کیا جا سکیں اور انہیں بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ریحان بلوچ نے کہا کہ تمام آزادی پسند جماعتوں کو مل کر ریاستی سازشوں کے خلاف بہتر حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker