بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ حیر بیار مری

لندن (ریپبلکن نیوز)بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت اپنے انتہا کو چھو رہی ہے ۔ آئے روز پاکستانی فوج سر چ آپریشن کے نام پر بلوچوں کو اٹھا کر غائب کر رہا ہے اور ان پر ٹارچر سیلوں میں تشدد کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک رہا ہے ۔
بلوچ رہنما نے کہا پاکستانی فوج گذشتہ ۶۵ سالوں سے بلوچستان پر قابض ہو کر اسے لوٹنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم کی قتل و غارت گری کر رہا تھا لیکن اب چین کی شکل میں بلوچ قومی وسائل کی غبن ، لوٹ مار اور بلوچ قوم کو تاخت وتاراج کرنے میں پاکستان کو ایک شراکت دار ملا ہے کیونکہ اب پاکستان کو اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ وہ تَن تَنہا بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کے سامنے زیادہ دیر تک اپنی قبضہ کو قائم نہیں کر سکتا ، اس لیے انہوں نے گوادر کو چین کے حوالے کیا اور اپنے استحصالی خاکہ اور ڈیزائن کو کامیاب بنانے کے لیے بلوچستان میں چین کو سیکیو رٹی اور تحفظ فراہم کرنے اور چینی کنٹینرز کو بلوچستان سے گزارنے کے لیے جنگی جہازوں اور زمینی فوج کا استعمال کر کے مقامی آبادیوں کو وہاں سے بے دخل کر رہا ہے
حیربیار مری نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستانی فوج نے بلوچ قوم کے لیے نوگو ایریا بنایا ہوا ہے سی پیک کے لیے پوری بلوچ آبادیوں کو وہاں سے فوجی آپریشنوں کے زریعے بے دخل کر کے چینی اور پنجابی کو بلوچستان میں آباد کرنے کے لیے راہ ہموار کیا جارہا ہے تاکہ بلوچستان میں مردم نگاری اور ڈیموگرافگ تبدیلی کے زریعے بلوچ قوم کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا کر بلوچستان کو پنجاب اور چین کا حصہ بنایا جاسکے۔
حیربیار مری نے کہا کہ سی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان بلوچ نسل کشی کر رہا ہے گذشتہ چوبیس دنوں میں پاکستانی فوج نے دشت کے علاقوں پٹوک ،جتانی بازار ،باہوٹ جات میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا ہوا ہے وہاں کے علاقوں سے سینکڑوں لوگوں کو اٹھا کر غائب کیا گیا ہے جن میں ستر سالہ غلام شاہ ، بلال یونس ، شاہ مراد شبیر محمد ، مراد بخش اور عثمان شامل ہیں جبکہ انہیں علاقوں میں پاکستانی فوجی آپریشن ابھی تک جاری ہے
ؓبلوچ رہنما نے کہا کہ ہندوستان کی گولے سے چار پاکستانی سویلین ہلاک ہوگئے تو سارا دن پاکستانی ٹی وی اینکرز ہندوستان کو عالمی عدالت انصاف لے جانے کی باتیں کررہے ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان میں پاکستان چین سے مل کر بلوچ نسل کشی کر رہا ہے اور بلوچوں کی مسخ شدہ لاشوں میں پاکستان زندہ باد اور لا اللہ چاقو اور چھری سے لکھ کر پھینک دیتے ہیں لیکن پاکستانی فوج کے حوالے سے کبھی کوئی عالمی عدالت انصاف کی بات نہیں کرتا کیونکہ بلوچستان ایک مقبوضہ ملک ہے اور وہ لوگ بلوچ قوم کو دنیا کے دوسرے ممالک کے باسیوں کی طرح انسان کے زمرے میں شمار نہیں کرتے ہیں آج جو مظالم پاکستانی ریاست منصوبہ بندی اور منظم طریقہ سے اپنی وحشی اور غیر مہذہب فوج سے کروا رہا ہے یہ سفاکانہ اور حیوانی درندگی عیدی امین،کیم جونگ ایل،اسماعیل انور پاشا،اور ہٹلر کے غیرانسانی عمل کے موازنہ کے قابل ہیں لیکن عالمی دنیا انکے قتل عام اور غیرانسانی اعمال پرتو آواز بلند کرتا رہا ہے لیکن آج اس طرح کے اعمال پاکستانی درندہ فوج کررہا ہے اس پر دنیا کی خاموشی انکے انسانی ہمدردی پر سوالیہ نشان ہے
حیبربیار مری نے کہا کہ سب سے بڑا انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انسانیت کے قتل عام میں پاکستانی فوج ملوث ہے ، جو کہ بنگلہ دیش سے لیکر بلوچستان اور سندھ میں بلوچوں اور سندھیوں اور افغانستان میں افغانوں کی قتل عام کر کے پھر دنیا کے آگے جاکر فلسطییوں، کشمیریوں اور روہنگیا مسلمانوں کی انسانی حقوق کی چیمپن بن جاتا ہے ۔
حیربیار مری نے کہا دنیا میں اس وقت کافی تبدیلیاں رونما ہور ہے ہیں دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے نام پر بلیک میلنگ کو سمجھنا چاہیے ۔ پاکستان کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف ا مریکہ اور نیٹو کا اتحادی نہیں رہا جبکہ ان سے دہشت گردی کے نام پر پیسہ ا ور اسلحہ حاصل کر کے انہیں بلوچ سندھی اور افغانستان میں افغانوں اور اتحادی افواج کی قتل و غار ت گری کے لیے استعمال کرتا رہا ۔ لیکن ہمارے بارہا دنیا کو بتانے کے باوجود دنیا نے بلوچ قوم کو یکسر نظر انداز کیا ۔ ابھی بھی وقت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور بھارت سمیت دنیا بلوچستان کو نظر انداز کرنے کی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر کے بلوچ قو م کی اخلاقی مدد کر کے بلوچستان کی آزادی کو بحال کرنے میں مدد کرینگے

مزید خبریں اسی بارے میں

Close