شہید اکبر خان آج بھی زندہ ہیں(تحریر:میر بگٹی)

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) اس تحریر کو پڑھ کر شاید آپ حیران ہورہے ہونگے. مگر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آج بھی اکبر زندہ ہے. آگے چل کر میں اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرتے ہوئے آپ سب محترم قارئین کو یقین بھی دلاونگا. میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ یہ سن کر حیران ضرور ہو رہے ہونگے کہ جی نواب اکبر بگٹی کو تو پاکستانی آرمی نے 26 اگست 2006 کو شہید کرتے ہوئے ہم سے جدا کردیا ہے. بالکل جی آپ کی یہ سوچ اپنی جگہ صحیح و درست ہے. اس بات کو میں بھی جانتا ہوں. کہ دہشتگرد پاکستانی آرمی اور چند قومی غداروں نے ملکر کوہلو کے علاقے تراتانی کی پہاڑوں میں نواب اکبر بگٹی کو ان کے کئ بہادر بلوچ ساتھیوں سمیت انتہائی بیدردی سے شہید کیا. اور اس وقت حکومتِ پاکستان اور آرمی اور جنریل مشرف کے ایجنٹ ڈی سی او ڈیرہ بگٹی صمند لاسی نے پاکستانی میڈیا کے سامنے نواب صاحب کی گھڑی اور عینک دکھا کر ان کو قتل کرنے کا دعوہ بھی کیا. تالا لگے ایک لکڑی کے صندوق کو سامنے رکھ کر اپنے سرکاری ملا سے اس پیٹی کا جنازہ بھی پڑھوایا. اور علاقے میں موجود اپنے سرکاری دلالوں سے جشن بھی منوایا. کہ نواب اکبر بگٹی کو شہید کر دیا ہے. یعنی بلوچ غیرت و عظمت کے چراغ کو گل کردیا ہے اور دوسری طرف بین القوامی میڈیا پر ایک دو ماہ سے یہ خبر سچ اور جھوٹ کی کشمکش کے لیے گردش کرتا رہا. وہ اس لیے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور پاکستانی میڈیا والے کتنا سچ بولتے اور لکھتے ہیں. وہاں کے جو لوگ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کو پاکستانی من گھڑت خبر اور پروپیگینڈہ تصور کرتے تھے. انہی کے ساتھ زور زبردستی کیا جانے لگا. پاکستانی خفیہ ایجنسیوں, فوج اور دلالوں کی طرف سے. خیر یہ ایک دوسرا موضع ہے. کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد وہاں کے لوگوں اور سرزمین کے ساتھ کیا کیا سلوک و برتاؤ روا رکھا گیا یا تاحال ان کی زندگیوں کو کیسے اجیرن اور اذیت ناک بنایا ہوا ہے. ان دہشتگرد بھیڑیئے پاکستانی فوج ایف سی, آئی ایس آئی, ایم آئی اور اسکے پاکستانی دلالوں نے. اس موضوع پر پھر کبھی لکھیں گے مگر میرے آج کے کالم کا موضوع ہے. ( اکبر آج بھی زندہ ہے) آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ حقیقت میں انسان مرتا تب ہے جب اس کا مقصد و مشن سوچ مر جائے. یعنی ختم ہوجائے. جو اس نے اپنی زندگی میں شروع کیئے ہوں. جی بلکل میں جانتا ہوں کہ آپ بھی میری اس رائے سے بنا کچھ سوچے سمجھے اتفاق کریں گے. جس کے لیئے میں آپ محترم قارئین صاحبان کے سامنے اپنی ادنہ سا سوچ سمجھ کے مطابق کچھ دلیلیں اور زندہ مثالیں پیش کرونگا. جس سے آپ کو بھی یقین کرنا ہی پڑے گا کہ ( اکبر آج بھی زندہ ہے ) آپ سب ہی نہیں بلکہ ساری دنیا اس بات سے بخوبی واقیف ہے کہ شہید اکبر بگٹی نے اپنے مادرِ وطن بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قوم کے ننگ و ناموس کی حفاظت کے لیئے ہتھیار اٹھا کر جس مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور 80 سال کی عمر میں اپنے اسی قومی جدوجہد اور مشنِ آزادیِ وطن کی خاطر اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا. یاد رہے دوستوں اکبر بگٹی نے ہر محاز پر بلوچ قوم و وطن پر حرف آنے نہیں دیا اور اگر اکبر کا یہ مشن و جدوجہد اور سوچ ان کی شہادت کے بعد رک جاتا یا ختم ہو جاتا (اللہ نا کرے) تو آج میرا شمار بھی ان نا سمجھ اور بے شعور لوگوں میں ہوتا جو کہتے ہیں کہ اکبر زندہ نہیں رہے. ( خدا نا کرے) میں کہوں یا نا کہوں مگر جناب آج پوری دنیا اس بات کی گواہی دیگا کہ نواب اکبر کے مشن کے حقیقی وارث بلوچ قومی ہیرو قائدِ آزادی نواب براہمدغ خان بگٹی زندہ ہیں ڈاڈاء بلوچ قوم کے مشن کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے آپ نواب براہمدغ خان بگٹی انتہائی ہمت و بہادری کیساتھ شہید نواب اکبر بگٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاقیامت زندہ رہیں گے. ( آمین ثم آمین) شہید نواب اکبر بگٹی کے اس آزاد بلوچستان مشن کو بلوچ قوم کے نوجوان قائد نواب براہمدغ خان بگٹی بخوبی اور پورے تندہی اور جوش و جذبے کے ساتھ چلا رہے ہیں. دن ہو رات ہو دھوپ ہو گرمی ہو سردی ہو زندگی کے تمام تر تکالیف کی پرواہ کیئے بغیر مشنِ اکبری یعنی آزادیِ وطن اور بلوچ قومی ننگ و ناموس کے لیے جدوجہد جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں. تو آپ کو بھی میرے ساتھ یہ کہنا ہی پڑے گا. بغیر کسی خوف ڈر کے کہ ,اکبر آج بھی زندہ ہے وہ بھی نواب براہمدغ خان بگٹی کے روپ میں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close