کوہٹہ حملہ کسی محکمے پر نہیں بلکہ یہ ریاستی بلوچ کش پالیسیوں کا حصہ ہے۔بی ایس او آزاد

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے کوئٹہ میں ہونے والے حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ حملے  کسی محکمے پر نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس طرح کی کاروائیاں بلوچ نسل کشی کی ریاستی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔ بلوچستان میں اس طرح کی کاروائیوں کی منصوبہ بندی فوجی کیمپوں میں ہوتی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ 8اگست کو وکلاء کو نشانہ بنانے کا واقعہ اور گزشتہ روز کے واقعے کی کھڑیاں ایک جگہ جاکر ملتے ہیں۔ بلوچستان میں اس طرح کی کاروائیاں کروا کر قابض فورسز بلوچ قومی تحریک کے اثرات کو زائل کرنے کے ساتھ بلوچوں، پشتونوں اور دیگر محکوم قومیتوں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ریاست کی سول و فوجی بیوروکریسی شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا جھوٹا دعویٰ کرکے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور امریکہ سمیت دوسرے ممالک سے امداد لینے میں مصروف ہے، لیکن زمینی حقائق یہ واضح کرتے ہیں کہ ریاست مذہبی شدت پسندوں کو پروان چڑھانے کی پالیسی کو ختم کرنے کے بجائے انہیں ہر قسم کی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ کا کالعدم جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات اور بلوچستان میں مذہبی شدت پسندوں کا فوجی کیمپوں میں ٹریننگ اور آزادی کی تحریک کے خلاف فوج اور شدت پسندوں کی مشترکہ کاروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مذہبی شدت پسندوں کے لئے پاکستان ایک محفوظ ترین خطہ ہے۔ جھاؤ، گچک، کیچ، سوراب سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فوجی چھاؤنیوں کے قریب ہی ان مذہبی شدت پسندوں کے کیمپس قائم ہیں۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی دوغلی پالیسیوں سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر سکتی ہے لیکن بلوچ عوام بخوبی واقف ہیں کہ ان کے قاتل انہی فوج چھاؤنیوں میں تربیت پانے والے وردی پوش اہلکار اور مذہب کا نام استعمال کرنے والے شدت پسند ہیں۔ اس کے علاوہ ترجمان نے شبیر بلوچ کی عدم بازیابی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 21روز گزر جانے کے بعد بھی شبیر بلوچ تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومین رائٹس واچ، ایشین ہیومین رائٹس اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ لاپتہ شبیر بلوچ سمیت بلوچستان سے لاپتہ کارکنوں کی بہ حفاظت بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close