کوہٹہ واقعہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کوئٹہ واقعے کی ردعمل میں کہا ہے کہ یہ واقعہ پاکستا ن کی مذہبی جنونی  اوردہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طورپر استعمال کرنے کا نتیجہ ہے ۔بلوچ نیشنل موومنٹ انسانیت اوربلوچ قومی اقدارکے بنیادپر ہلاک ہونے والے لوگوں کی اہل خانہ سے افسوس اورہمدردی کا اظہارکرتاہے۔بلوچ قومی نسل کشی ،استحصال ،بربریت کے علاوہ پے درپے ایسے واقعات کا رونما ہونا بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کی بلوچ بارے ظلم کی نئی پالیسیوں کامظہرہے لیکن ا ن واقعات پر محض پاکستان کی بیانیے پر اکتفاکرنا یا اسے حقیقت تسلیم کرنا حقائق سے روگردانی کے مترادف ہے۔اس سوال پر سوچنا بلوچ اوربالخصوص اب تک پاکستانی ریاست کے بارے میں واضح رائے نہیں رکھنے والوں کے لئے انتہائی ضروری امربن چکا ہے کہ ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بلوچستان پر ایسے واقعات باربار کیوں آتے ہیں ۔ڈھائی مہینہ پہلے وکلاء برادری کے ایک پوری کھیپ کو ایسی دہشت گردی کا نشانہ بناکر شہید کردیاگیاتھا ۔بلوچ نیشنل موومنٹ بارہا اپنی موقف کااعادہ کرچکا ہے کہ پاکستانی ریاست خطے میں اپنی توسیع پسندانہ عزائم ،بھارت کودباؤمیں رکھنے،افغانستان کو اپنی پانچویں صوبہ بنانے اوردنیا کو بلیک میل کرنے کے لئے مذہبی جنونیت کے بنیاد پر باقاعدہ فوج کے متوازی آرمی تشکیل دے کر مختلف اور متنوع طاقت کے مراکز قائم کرچکاہے جنہیں وہ مدتوں سے بلوچ قوم، افغانستان ،بھارت سمیت پوری دنیا کے خلاف استعمال کرتاچلا آرہا ہے،لیکن آج پاکستانی ریاست کے مقتدرہ قوتیں ان دہشت گردی کے مراکزکی کمانڈاورکنٹرول پرشدید تضادات کا شکا ر ہیں ۔ایک طرف ریاست میں طاقت کا سرچشمہ مذہبی ہتھیارسے خطے کو آگ اورخون سے نہلانے کی پالیسی کو نہ صرف مستحکم کررہے ہیں بلکہ اسے طاقت کے متوازی مراکز کے طورپرقائم رکھنے کے بجائے تمام ریاستی اداروں کے جزولاینفک بنارہے ہیں اورتمام ریاستی اداروں کا اعلیٰ اختیار انہی کے ہاتھوں بتدریج منتقل ہورہے ہیں۔ دوسری طرف عالمی برادری دہشت گردی کے فروغ اور کفالت پرپاکستان پر دباؤ بڑھارہے ہیں۔ جس سے پاکستانی ریاست اندرونی طورپر تقسیم کا شکار ہے ۔ اس غیر فطری ریاست میں طاقت کا سرچشمہ وہی قوتیں ہیں جو آج تک دنیا کی آنکھوں کے سامنے باقاعدہ ریاست کے بنیادی پالیسی کے طورپرمذہبی جنونیت،مذہبی دہشت گردی پالنے اور انہیں بلوچ قوم کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کے خلاف استعمال کررہے ہیں ،لیکن دنیا اب تک پاکستان کے بارے میں ایک واضح پالیسی وضحعکرنے کامیا ب ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ۔آج پاکستان نے اپنے اُن لوگوں کو نشانہ بنایا جنہیں وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کے لئے تیار کررہے تھے مگروہ پاکستان کی اندرونی تضادات ،انسانیت اورعالمی قوانین سے متصادم پالیسیوں کالقمہ اَجل ہوگئے ۔ ایسے واقعات پاکستانی ریاست کی سرپرستی کے علاوہ ناممکن ہیں، کوئٹہ واقعہ پاکستان کاعالمی دباؤکی شدت میں کمی کرنے کی ایک بہیمانہ،ظالمانہ کوشش ہے جس کا نشانہ وہ نواجوان بن گئے جنہیں پاکستانی باجگزاروں نے پاکستانی اداروں کے چنگل میں پھنسایا تھا ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker