شہید اکبر خان بگٹی کے ساتھ کراچی میں ایک نشست

 کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیو) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم نے کراچی میں واقع بگٹی ھاوس میں شہید اکبر سے ملاقات کا وقت لیا۔ہم ان کے گھر پہنچے، بگٹی قبائل کے بہت سے لوگ نواب صاحب سے ملنے کے لئے اسی بنگلے میں ان کا انتظار کررئے تھے، اس وقت مرحوم سلیم بگٹی وہاں موجود تھے جنھوں نے ہمیں ایک اوطاق میں لے گئے، کچھ دیر بعد ہماری بڑی اوطاق میں نواب صاحب سے باقاعدہ بلوچی حال احوال شروع ھوئی۔ہم چونکہ طالبعلم تھے اور ہمارے لیے نواب صاحب سے آمنے سامنے ملاقات کرنا ایک اعزاز سے کم اس لیے نہیں تھا کہ ہم بلوچ قبائل اور ان کی روایتوں سے با خوبی آگاہ تھے ۔ہماری گفتگو اس وقت بلوچ اور بلوچستان تھا۔

گو کہ اس وقت نواب صاحب پاکستانی پارلیمنٹ کو ایک بہتر ذریعہ سمجھتے تھے لیکن ! ان کی باتوں میں وفاق کے ساتھ تلخیاں اور شکایات نظر آتی تھیں ۔نواب صاحب کی محفل میں شریک ہونا میں اسے کل سے زیادہ آج بڑی اعزاز تصور کرتا ھوں کہ میں نے ایک ایسے قبائلی نواب کی محفل میں شرکت کی ،جنھوں نے ایک تاریخ رقم کر دی ۔ شہید اکبر ایک علم دوست رہنماء تھے علم کی محبت میں، شعر وادب، سیاست، فلسفہ اور مذہب جیسے موضوعات پر انہیں دستریں حاصل تھی اور کبھی کبھی کچھ اختلافات کے باوجود ان کی گفتگو بڑی قہقہہ بار بھی ہوتی۔

پھر یوں ھوا کہ نواب صاحب نے پیراں سالی میں اپنی سیاست کو ایک مزاحمتی شکل دیا، لنگڑ لوڑی جمہوریت سے ھوتے ھوئے نواب صاحب نے بلوچ قومی حقوق کے لیے آواز بلند کیا، غور کریں، شہید اکبر نے جب بلوچ قوم کی بنیادی حقوق کی بات شروع کیا تو انھیں پاکستانی آرمی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ملک دشمن قرار دیا اور بالآخر 26اگست 2006ء کو تراتانی کوہ سلیمانی میں ان پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا گیا اس طرح انہوں نے اپنے کئی سرمچاروں کے ساتھ جام شہادت نوش کیا اور بلوچ تاریخ میں اپنا نام رقم کر گئے۔ آج بھی انکی مجلس اور محبتیں یاد آتی ہیں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

آخیر میں اتنا کہونگا کہ بڑا دکھ ھوتا ہے جب کچھ لوگ بلوچ قومی تحریک میں طبقات کی بات کرتے ہیں اور مڈل کلاسی کو ایک خالص نیشنلسٹ تحریک میں شامل کرنے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ دوستو ! بلوچ قومی تحریک کے خلاف اندورنی اور بیرونی سازشیں شروع ھوچکی ہیں۔ہمیں اپنے دوست اور دشمن میں امتیاز برتنا ھوگا۔

تحریر: علی رفاعی

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close