بی ایل ایف نےریاستی ایجنٹ کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ ( ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ پیر کے روزسرمچاروں نے آواران میں ریکن چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ جس سے حواس باختہ ہوکر دشمن فوج نے آبادی کی طرف مارٹر کے گولے فائر کئے۔ کل اتوار 24 جولائی کو سرمچاروں نے کیچ کے علاقے بالگتر میں پاکستانی عسکری تعمیراتی کمپنی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) پر اُس وقت حملہ کیا جب وہ سہاکی میں آسک کنڈگ کے مقام پر ایک گاڑی میں مٹی بھر رہے تھے۔ حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ یہ تعمیرات چین پاکستان اقتصادی رہداری منصوبے پر ہورہی ہیں ۔ جنہیں بلوچ قوم کی رضامندی حاصل نہیں ۔ اور ان پر حملے جاری رہیں گے۔ بالگتر میں پاکستانی فوج اور ایک وفاق پرست پارٹی نے چودہ اگست کو بطور جشن آزادی کے منانے کا فیصلہ کرکے لوگوں کو شرکت کیلئے زور دے رہے ہیں۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حالت جنگ میں ہزاروں بلوچوں کے قاتل کی جانب سے بلوچستان میں منعقدہ کسی بھی تقریب سے دور رہیں۔ اسی دن بسیمہ کے علاقے راغے میں بلوچ آباد کے مقام پر قائم چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ ترجمان نے کہا کہ اتوار کو ہوشاب میں ریاستی آلہ کار اور مخبر میران ولد نزر محمد کو بلوچ اور انسانیت دشمن ہونے کی جرم ثابت ہونے پر سزا کے طور پر ہلاک کیا۔ وہ قابض ریاست کے ساتھ مل کر ان کی بلوچ کش پالیسیوں میں معاون کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اُسے دو ہفتے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ دوران تفتیش اُس نے بلوچوں کو سرنڈر کروانے میں کردار ادا کرنے کے ساتھ دوسرے جرائم کا اعتراف کیا، جن کے تحت پاکستان جنگی جرائم اور بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے۔ میران نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اُس نے بی آر اے کے سرمچار عالم عرف ساچان کو مُلا برکت کے ذریعے سرنڈر کروایا تھا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close